السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3101. -- باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء
-- باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15167
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْكَرٌ غَيْرُ ثَابِتٍ مِنْ وَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنَّ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ وَسَالِمٌ وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً، وَالْوَجْهُ الْآخَرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ شَبِيبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ⦗٦٠٦⦘.
ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی حافظ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عیسیٰ کی عطیہ سے، ان کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت منکر ہے اور دو وجہوں سے ثابت نہیں: ایک یہ کہ عطیہ ضعیف ہے اور سالم اور نافع اس سے زیادہ ثقہ اور روایت میں زیادہ صحیح ہیں، اور دوسری وجہ یہ کہ عمر بن شبیب ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15167]
حدیث نمبر: 15168
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ لَمْ يَكُنْ بِشَيْءٍ وَقَدْ رَأَيْتُهُ.
عباس بن محمد دوری کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا: عمر بن شبیب کچھ بھی نہیں تھا، اور میں نے اسے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15168]
حدیث نمبر: 15169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو عُمَرَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ، نا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَقُرْءُ الْأَمَةِ حَيْضَتَانِ، وَتَتَزَوَّجُ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ، وَلَا تَتَزَوَّجُ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ" كَذَا قَالَ: طَلَاقُ الْعَبْدِ اثْنَتَانِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کی دو طلاقیں ہیں اور وہ عورت اس کے لیے جائز نہیں جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے، لونڈی (یعنی بیوی) کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور آزاد عورت (یعنی بیوی) کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا“
راوی نے اسی طرح کہا ہے: ”غلام کی دو طلاقیں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15169]
راوی نے اسی طرح کہا ہے: ”غلام کی دو طلاقیں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15169]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15170
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُطَلَّقُ الْأَمَةُ تَطْلِيقَتَيْنِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ" قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: أَخْبَرَنِيهِ مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لونڈی کو دو طلاقیں دی جائیں گی اور اس کی عدت دو حیض ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15170]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15171
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، ضَعَّفَهُ أَبُو عَاصِمٍ.
ابو احمد بن عدی حافظ کہتے ہیں: میں نے ابن حماد کو کہتے ہوئے سنا کہ امام بخاری نے فرمایا: مظاہر بن اسلم، جو قاسم سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے، ابو عاصم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15171]
حدیث نمبر: 15172
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا أَبُو عَامِرٍ، نا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنْ عِدَّةِ الْأَمَةِ، فَقَالَ" النَّاسُ يَقُولُونَ حَيْضَتَانِ وَإِنَّا لَا نَعْلَمُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا فِي سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم رحمہ اللہ سے لونڈی کی عدت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں: دو حیض، لیکن ہم کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15172]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15173
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ⦗٦٠٧⦘ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنِ الْأَمَةِ كَمْ تُطَلَّقُ؟ قَالَ:" طَلَاقُهَا اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ" قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا؟ قَالَ:" لَا".
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم رحمہ اللہ سے لونڈی کی طلاقوں کے بارے میں پوچھا گیا؟ فرمانے لگے: اس کی دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہے، جب ان سے پوچھا گیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کو کچھ پہنچا؟ فرماتے ہیں: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15173]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15174
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، نا بُنْدَارٌ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ" أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ غَيْرُ قَوِيٍّ.
مسروق رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق و عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
اشعث بن سوار قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15174]
اشعث بن سوار قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15174]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15175
وَقَدْ قِيلَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، نا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ الْقَرَاطِيسِيُّ نا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ وَرُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
یہ روایت شعبہ عن اعمش عن مجاہد عن مسروق عن عبداللہ (بن مسعود) کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے، لیکن یہ محفوظ نہیں ہے۔ یزید بن زریع نے اسے شعبہ سے روایت کر کے ذکر کیا ہے، اور شعبہ سے اس کے خلاف بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15175]
حدیث نمبر: 15176
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ، وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ" هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
شعبی رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے، جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔
میں نے اسے ان کی کتاب کے اصل نسخے میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15176]
میں نے اسے ان کی کتاب کے اصل نسخے میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15176]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف