السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3101. -- باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء
-- باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبَّادٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" السُّنَّةُ بِالنِّسَاءِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِدَّةِ" هَكَذَا قَالَ.
عمرو بن دینار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”سنت طریقہ یہ ہے کہ طلاق و عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15177]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15178
وَقَدْ أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الطَّلَاقُ بِالرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ بِالنِّسَاءِ".
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے جبکہ عدت کا تعلق عورتوں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15178]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15179
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ:" الطَّلَاقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَاءِ" وَقَدْ رَوَيْنَا حَدِيثَ عِكْرِمَةَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا" إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مردوں سے ہے اور عدت عورتوں کے متعلق ہے۔
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15179]
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”طلاق اس کے ذمہ ہے جو مالک بنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15179]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15180
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ، وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُمَرَ، وَذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ لِمَعْمَرٍ: مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً يُرِيدُ بِهِ إِنْكَارَ مَا جَاءَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
بنو نوفل کے غلام ابوالحسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں لونڈی تھی، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو وہ جدا ہو گئیں، پھر ان دونوں کو آزاد کر دیا گیا، تو کیا اس مرد کے لیے درست ہے کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔“
(ب) ابن مبارک رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا کہ یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے تو ایک بہت بڑی چٹان اٹھا لی ہے، اس سے ان کی مراد اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار کرنا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15180]
(ب) ابن مبارک رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا کہ یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے تو ایک بہت بڑی چٹان اٹھا لی ہے، اس سے ان کی مراد اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار کرنا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15180]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَسُئِلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَقَالَ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى، ⦗٦٠٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَامَّةُ الْفُقَهَاءِ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا قُلْنَا بِهِ إِلَّا أَنَّا لَا نُثْبِتُ حَدِيثًا يَرْوِيهِ مَنْ تُجْهَلُ عَدَالَتُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
علی بن مدینی سے عمرو بن معتب کے بارے میں پوچھا گیا، جس سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوالحسن کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں لونڈی تھی۔“ تو انہوں نے کہا: وہ مجہول ہے، اس سے یحییٰ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: عام فقہاء اس کے برخلاف ہیں جو اس نے روایت کیا ہے، اگر یہ ثابت ہوتی تو ہم اسی کے قائل ہوتے، لیکن ہم ایسی حدیث کو ثابت نہیں مانتے جسے وہ شخص روایت کرے جس کی عدالت معلوم نہ ہو، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہم سے ان کا اپنا قول اس کے برخلاف مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15181]
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: عام فقہاء اس کے برخلاف ہیں جو اس نے روایت کیا ہے، اگر یہ ثابت ہوتی تو ہم اسی کے قائل ہوتے، لیکن ہم ایسی حدیث کو ثابت نہیں مانتے جسے وہ شخص روایت کرے جس کی عدالت معلوم نہ ہو، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہم سے ان کا اپنا قول اس کے برخلاف مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15181]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15182
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَتْ قَالَ:" لَا يَتَزَوَّجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
ابراہیم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک غلام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت کو آزاد کر دیا گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ غلام اس آزاد کردہ عورت سے شادی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15182]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15183
قَالَ: وَنا أَبُو بَكْرٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" إِذَا أُعْتِقَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا وَتَكُونُ عِنْدَهُ عَلَى وَاحِدَةٍ".
ابوسلمہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عدت کے ایام میں اسے آزاد کر دیا جائے تو وہ اس عورت سے شادی کر سکتا ہے اور یہ عورت اس کے پاس ایک طلاق پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15183]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف