السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3106. -- باب: نكاح المطلقة ثلاثا
-- باب: تین طلاقیں پانے والی عورت کے (دوسرے) نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 15199
وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبہ نے اس کی سند میں ان کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سالم بن رزین سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15199]
حدیث نمبر: 15200
فَقَدْ رَوَاهُ قَيْس بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةٌ بْنِ مَرْثَد، عَنْ رَزِينٍ الأَحْمَرِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدُ الله بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يقول: سُئِلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَانَتْ مِنْهُ فَذَكَرَهُ أَخْبَرَنَاه أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نا قَيْسٌ فَذَكَرَهُ، وَكَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ: سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي، وَقَالَ: يَحْيَى الْقَطَّانُ إِذَا اخْتَلَفَا أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس سے الگ ہو گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15200]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15201
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَحْسَبُهُ قَالَ: ثَلَاثًا فَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا الثَّانِي فَقَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ".
یحییٰ بن یزید ہنائی فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے ایسی عورت سے شادی کی تھی جس کو اس کے خاوند نے تین طلاقیں دے دی تھیں، لیکن دوسرے نے ابھی دخول نہ کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ مرد اس کا مزہ چکھے اور عورت اس کے مزے کو چکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15201]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15202
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: ٢٣٠] يَقُولُ:" إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"، ثُمَّ قَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا} [البقرة: ٢٣٠] يَقُولُ:" إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الْأَوَّلِ فَدَخَلَ بِهَا الْآخَرُ فَلَا حَرَجَ عَلَى الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا إِذَا طَلَّقَهَا الْآخَرُ أَوْ مَاتَ عَنْهَا" وَرُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي مَوْتِ الثَّانِي عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا لَا يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا.
علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دی تو یہ بیوی خاوند کے لیے حلال نہیں ہے، یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔“ کے متعلق روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا﴾ [سورة البقرة: 230] جب پہلے کے بعد دوسرے سے شادی کر لی اور اس نے دخول بھی کر لیا، تب پہلے پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اس سے نکاح کرے جب دوسرا طلاق دے دے یا فوت ہو جائے۔
(ب) قاسم بن محمد رحمہ اللہ دوسرے کی موت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اگر وہ دخول سے پہلے فوت ہو جائے تو پھر پہلے کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15202]
(ب) قاسم بن محمد رحمہ اللہ دوسرے کی موت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اگر وہ دخول سے پہلے فوت ہو جائے تو پھر پہلے کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 15202]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف