السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3118. -- باب: المظاهر الذي تلزمه الكفارة
-- باب: اس ظہار کرنے والے کا بیان جس پر کفارہ لازم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: Q15255
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} الْآيَةَ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اور جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرتے ہیں، تو ان کے ذمے ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ (الآیۃ) [سورة المجادلة: 3] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: Q15255]
حدیث نمبر: 15255
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: الَّذِي حَفِظْتُ مِمَّا سَمِعْتُ فِي {يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا} [المجادلة: ٣] أَنَّ" الْمُظَاهِرَ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ بِالظِّهَارِ فَإِذَا أَتَتْ عَلَيْهِ مُدَّةٌ بَعْدَ الْقَوْلِ بِالظِّهَارِ لَمْ يُحَرِّمْهَا بِالطَّلَاقِ الَّذِي تُحَرَّمُ بِهِ وَلَا بِشَيْءٍ يَكُونُ لَهُ مَخْرَجٌ مِنْ أَنْ تُحَرَّمَ بِهِ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ كَفَّارَةُ الظِّهَارِ، كَأَنَّهُمْ يَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّهُ إِذَا أَمْسَكَ مَا حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ حَلَالٌ فَقَدْ عَادَ لِمَا قَالَ مُخَالَفَةٌ، فَأَحَلَّ مَا حَرَّمَ" قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ لَهُ مَعْنًى أَوْلَى بِهِ مِنْ هَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا أَعْلَمُ مُخَالِفًا فِي أَنَّ عَلَيْهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ وَإِنْ لَمْ يَعُدْ بِتَظَاهُرٍ آخَرَ فَلَمْ يَجُزْ أَنْ يُقَالَ مَا لَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا فِي أَنَّهُ لَيْسَ بِمَعْنَى الْآيَةِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا﴾ [سورة المجادلة: 3] کے بارے میں جو میں نے سنا اور یاد رکھا (وہ یہ ہے) کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو ظہار کی بنا پر حرام کر لیتا ہے، پس جب ظہار کہنے کے بعد اس پر اتنا وقت گزر جائے کہ اس نے اسے اس طلاق کے ذریعے حرام نہ کیا جس سے وہ حرام ہو جاتی ہے، اور نہ کسی ایسی چیز کے ذریعے جو اس کے لیے اس حرمت سے نکلنے کا راستہ ہو، تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہو گیا۔ گویا ان کا موقف یہ ہے کہ جب اس نے اس چیز کو حلال سمجھ کر روکے رکھا جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا تھا، تو وہ اپنی کہی ہوئی بات کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے پھر گیا اور جو حرام ٹھہرایا تھا اسے حلال کر لیا۔ فرماتے ہیں: مجھے اس کا اس سے زیادہ مناسب کوئی معنی معلوم نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم میں کوئی اس بات کا مخالف نہیں کہ اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہے اگرچہ وہ دوسرا ظہار نہ کرے، لہٰذا ایسی بات کہنا جائز نہیں جس کے بارے میں میرے علم میں کوئی مخالف نہیں کہ وہ آیت کا معنی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15255]
حدیث نمبر: 15256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ قَالَ: كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ دُلَيْجٍ تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ سَيِّئَ الْخُلُقِ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَقِيرًا وَكَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ قَالَ لَهَا: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَنَازَعَتْهُ فِي بَعْضِ الشَّيْءِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَكَانَ لَهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَلَمَّا سَمِعَتْهُ يَقُولُ مَا قَالَ احْتَمَلَتْ صِبْيَانَهَا فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَتْهُ عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي بَيْتِهَا وَإِذَا عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي فَقِيرٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ سَيِّئُ الْخُلُقِ وَإِنِّي نَازَعْتُهُ فِي شَيْءٍ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وَلَمْ يُرِدِ الطَّلَاقَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ" قَالَ: فَاسْتَكَانَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي قَالَ: وَتَحَوَّلَتْ عَائِشَةُ تَغْسِلُ شِقَّ رَأْسِهِ الْآخَرَ فَتَحَوَّلَتْ مَعَهَا فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَتْ: وَلِي مِنْهُ عَيِّلٌ أَوْ عَيِّلَانِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ:" مَا أَعْلَمُ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيْهِ"، فَبَكَتْ وَقَالَتْ: أَشْتَكِي إِلَى اللهِ مَا ⦗٦٣٣⦘ نَزَلَ بِي وَبِصِبْيَتِي، وَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَرَاءَكِ فَتَنَحَّتْ وَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْمَرْأَةُ؟" قَالَتْ: هَا هِيَ هَذِهِ قَالَ:" ادْعِيهَا" فَدَعَتْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبِي فَجِيئِي بِزَوْجِكِ" قَالَ: فَانْطَلَقَتْ تَسْعَى فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ جَاءَتْ بِهِ فَأَدْخَلَتْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ كَمَا قَالَتْ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَقِيرٌ، سَيِّئُ الْخُلُقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْتَعِيذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَجِدُ عِتْقَ رَقَبَةٍ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ لَهُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِذَا لَمْ آكُلِ الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ وَالثَّلَاثَ يَكَادُ أَنْ يَغْشُوَ بَصَرِي قَالَ:" فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي فِيهَا، قَالَ: فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّرَ يَمِينَهُ هَذَا مُرْسَلٌ وَلَكِنْ لَهُ شَوَاهِدُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت دلیج ایک انصاری شخص کے نکاح میں تھیں جو بدخلق، نابینا اور فقیر تھا۔ دورِ جاہلیت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جدائی چاہتا تو اس سے کہہ دیتا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ خولہ کا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس کے ایک یا دو بچے تھے۔ جب انہوں نے اس کی یہ بات سنی تو اپنے بچوں کو اٹھایا اور دوڑتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی ایک جانب دھو رہی تھیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑی ہو گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خاوند فقیر، نابینا اور بدخلق ہے، میرا کسی بات پر اس سے جھگڑا ہوا تو اس نے کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، اور اس نے طلاق کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ عاجز ہو گئیں اور کہنے لگیں: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سر مبارک کی دوسری جانب دھونے کے لیے پھریں تو وہ بھی ان کے ساتھ پھر گئیں اور ویسی ہی بات کہی، اور کہا: میرے اس سے ایک یا دو بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں تو یہی جانتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔“ وہ رو پڑیں اور کہا: میں اللہ سے اس مصیبت کی شکایت کرتی ہوں جو مجھ پر اور میرے بچوں پر آن پڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بدل گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پیچھے ہٹ جاؤ، تو وہ ایک طرف ہٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک اللہ نے چاہا اسی حالت میں رہے، پھر وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ انہوں نے اسے بلایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ۔“ وہ دوڑتی ہوئی گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں اسے لے آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں، تو وہ ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے کہا تھا: نابینا، فقیر اور بدخلق۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سننے والے، جاننے والے (اللہ) کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، بسم اللہ الرحمن الرحیم: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1] “ آیت کے آخر تک۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! جب میں ایک، دو یا تین مرتبہ نہ کھاؤں تو قریب ہوتا ہے کہ میری نظر جاتی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، الا یہ کہ آپ اس میں میری مدد فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اس نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15256]
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف