🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3119. -- باب: لا يقربها حتى يكفر
-- باب: اس بیان میں کہ جب تک وہ کفارہ ادا نہ کر دے اس (بیوی) کے قریب نہ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15257
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِذَا كَانَتِ الْمُمَاسَّةُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ فَذَهَبَ الْوَقْتُ لَمْ تَبْطُلِ الْكَفَّارَةُ وَلَمْ نَزِدْ عَلَيْهِ فِيهَا كَمَا يُقَالُ لَهُ أَدِّ الصَّلَاةَ فِي وَقْتِ كَذَا وَقَبْلَ وَقْتِ كَذَا فَيَذْهَبُ الْوَقْتُ فَيُؤَدِّيهَا لِأَنَّهَا فَرْضٌ عَلَيْهِ، وَلَا يُقَالُ لَهُ زِدْ فِيهَا لِذَهَابِ الْوَقْتِ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔“ [سورة المجادلة: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر ہمبستری کفارہ سے پہلے ہو جائے اور (کفارہ کا) وقت گزر جائے تو کفارہ باطل نہیں ہوگا، اور ہم اس پر اس (کفارے) میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے، جیسے کسی سے کہا جائے کہ فلاں وقت میں اور فلاں وقت سے پہلے نماز ادا کرو، پھر وقت گزر جائے تو وہ اسے (بعد میں) ادا کرے گا، کیونکہ وہ اس پر فرض ہے، اور اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وقت گزر جانے کی وجہ سے اس میں اضافہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: Q15257]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15257
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لَا أَرَى رَجُلًا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُهُ، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكُشِفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ، إِذًا يَنْزِلُ فِينَا مِنَ اللهِ كِتَابٌ أَوْ يَكُونُ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَارُهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ بِجَرِيرَتِكَ فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتَهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بِذَلِكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا بِذَلِكَ وَهَذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللهِ عَلَيَّ قَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: ⦗٦٣٤⦘ قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَيَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلَاءِ إِلَّا بِالصَّوْمِ؟ قَالَ:" فَتَصَدَّقْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا مِنْ عَشَاءٍ، قَالَ:" فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا".
سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا آدمی تھا جو عورتوں کی بہت زیادہ خواہش رکھتا تھا، میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو اس کام میں مبتلا ہوتا ہو جس میں میں مبتلا تھا (یعنی شہوت میں)۔ جب رمضان شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا یہاں تک کہ رمضان گزر جائے۔ ایک رات وہ میرے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ اس کے جسم سے کپڑا ہٹ گیا تو میں اس کے ساتھ ہم بستر ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی قوم کو بتایا، میں نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہم یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ یا تو قرآن ہمارے بارے میں نازل ہو جائے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات کہہ دیں گے جو ہمارے لیے باعثِ عار رہے گی، لیکن ہم تمہیں تمہارے حال پر چھوڑتے ہیں، تم خود جا کر اپنی حالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرو۔ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہی ہوں، اور میں اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صبر کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں تو صرف اپنی اس گردن کا ہی مالک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مصیبت میرے اوپر روزوں کی وجہ سے ہی تو آئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، گزشتہ رات ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہنا کہ وہ تمہیں صدقہ دے دے، پھر تم اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر باقی سے خود فائدہ اٹھانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15257]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15258
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، نا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ:" كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ".
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ظہار کرنے والا کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی پر واقع ہو جائے تو اسے ایک ہی کفارہ دینا پڑے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15258]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15259
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ بَكْرٍ مُحَمَّدٌ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، نا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟" قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ قَالَ:" فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد اس پر واقع ہوگیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہوگیا ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ آپ پر رحم فرمائے، کس چیز نے آپ کو ابھارا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی رات میں اس کی پازیب کو دیکھ لیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے قریب نہ جانا، جب تک اللہ کا حکم پورا نہ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15259]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15260
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُرَيْثِ أنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى هَذَا وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ كُلَيْبٍ قَاضِي عَدَنَ عَنِ الْحَكَمِ مَوْصُولًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
سعید بن کلیب قاضی عدن نے بھی اسے حکم سے اسی معنی کے ساتھ موصول (متصل سند سے) روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15260]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ قَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟" قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ قَالَ:" فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ".
حکم بن ابان حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے ظہار کر لینے کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہو گیا۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا؟“ اس نے کہا: میں نے چاندنی رات میں اس کی سفید پنڈلی کو دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک اس سے جدا رہنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15261]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15262
قَالَ: وَنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ، نا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرِ السَّاقَ ⦗٦٣٥⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْحَكَمِ مُرْسَلًا وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں اور عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، لیکن انہوں نے پنڈلی کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15262]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15263
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: أَبْدَى لِيَ الْقَمَرُ خَلْخَالَيْهَا فَوَقَعْتُ بِهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ:" كُفَّ عَنْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ".
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے بیوی سے ظہار کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے مجامعت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے ابھارا؟“ اس نے کہا: چاندنی رات میں اس کے پازیب ظاہر ہوئے تو میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس پر واقع ہو گیا۔ فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے رک جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15263]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح تقدم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15264
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هِشَامٍ الْوَرَّاقُ الْأَحْمَرِيُّ الْكُوفِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَرَأَيْتُ بَيَاضَ خَلْخَالِهَا فِي الْقَمَرِ فَأَعْجَبَنِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا قَالَ:" أَوَ مَا قَالَ اللهُ: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: ٣] ؟" قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" أَمْسِكْ عَنْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ".
طاؤس حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بیوی سے ظہار کیا تو چاندنی رات میں میں نے اس کے پازیب دیکھے اور مجھے اچھی لگی تو میں بیوی پر واقع ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ نے نہ فرمایا تھا: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ [سورة المجادلة: 3] ؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو ایسا کر لیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کفارہ ادا کرنے تک اس سے رک جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15264]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15265
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَمَسَّهَا حَتَّى يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ".
ابن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے بیوی سے ظہار کر کے کفارہ ادا کرنے سے پہلے طلاق دے دی، اس کے بعد پھر شادی کر لی تو کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی کے قریب نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15265]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں