🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3121. -- باب: إعتاق الخرساء إذا أشارت بالإيمان وصلت
-- باب: گونگی لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان جب وہ ایمان کا اشارہ کرے اور نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا:" أَيْنَ اللهُ؟" فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا، فَقَالَ لَهَا:" فَمَنْ أَنَا؟" فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ تَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
عبداللہ بن عتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیاہ رنگ کی لونڈی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمہ مومن غلام کا آزاد کرنا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا، یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے، اس کو آزاد کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15268]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا أَبُو مَعْدَانَ الْمِنْقَرِيُّ يَعْنِي عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ، نا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَبُّكِ؟" قَالَتْ: اللهُ رَبِّي قَالَ:" فَمَا دِينُكِ؟" قَالَتْ: الْإِسْلَامُ قَالَ:" فَمَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ:" فَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ، وَتُقِرِّينَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهَا وقَالَ:" أَعْتِقِيهَا".
عون بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے دادا رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیاہ لونڈی لے کر آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمے مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا یہ میری جانب سے کفایت کر جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ کہنے لگی: میرا رب اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا دین کیا ہے؟“ اس نے کہا: اسلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پانچ نمازیں پڑھتی ہے اور تو اقرار کرتی ہے جو میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر مارا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15269]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں