السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3122. -- باب: وصف الإسلام
-- باب: اسلام کی صفت (علامات و خصوصیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 15270
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى ⦗٦٣٨⦘ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں تو انہوں نے اپنی جانیں مجھ سے بچا لیں مگر اسلام کے حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15270]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2946»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15271
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَأُعْتِقُ هَذِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَعْتِقْهَا" هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ مَضَى مَوْصُولًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری اپنی سیاہ لونڈی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ذمے ایک مومنہ گردن آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس لونڈی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ اس لونڈی نے اثبات میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرا مرنے کے بعد اٹھنے پر یقین ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے کچھ معنی کے ساتھ یہ موصول (متصل سند سے) پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15271]
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے کچھ معنی کے ساتھ یہ موصول (متصل سند سے) پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15272
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ الضُّبَعِيُّ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ إِلِيَّ أَنْ أَعْتِقْ عَنْهَا رَقَبَةً وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً سَوْدَاءَ نُوبِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ بِهَا" فَقَالَ:" مَنْ رَبُّكِ؟" قَالَتْ: اللهُ، قَالَ:" فَمَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ قَالَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ نے اپنی جانب سے ایک گردن آزاد کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔ میرے پاس ایک سیاہ لونڈی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بلاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس لونڈی نے کہا: اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد کر دو یہ مومنہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15272]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف