السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3123. -- باب: لا تجزي في رقبة واجبة رقبة تشترى بشرط أن تعتق
-- باب: اس بیان میں کہ واجب گردن (غلام آزاد کرنے) میں وہ غلام کفایت نہیں کرتا جسے اس شرط پر خریدا جائے کہ وہ آزاد کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ، فَقِيلَ لَهُ هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ قَالَ:" لَا".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے واجبی گردن کے آزاد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا اور ان سے کہا گیا: کیا اس شرط پر لی جائے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15273]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف