السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3127. -- باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده
-- باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15277
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّيَاحِيُّ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَأَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمُنَتِ الْمَرْأَةُ وَتَرَبَّعَتْ فَأَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" فَقَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، جب نصف رمضان گزر گیا اور عورت موٹی تازی اور خوش حال ہو گئی تو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی اور وہ رات کے وقت اس پر واقع ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔“ کہتے ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ یا ١٦ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15277]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15278
وَرَوَاهُ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ مِكْتَلًا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ:" أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَذَلِكَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدًّا" أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ نا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ نا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ فَذَكَرَهُ.
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجوروں کا ایک ٹوکرہ عطا فرمایا جس میں 15 صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور یہ ہر مسکین کے لیے ایک مد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15278]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15279
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبَانُ، نا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ:" يَعْنِي: الْعَرَقَ زِنْبِيلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا" ⦗٦٤١⦘.
یحییٰ، ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «عَرَق» وہ ٹوکرہ ہوتا ہے جس میں ١٥ صاع کھجور ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15279]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15280
وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ وَقَالَ:" اذْهَبْ وَأَطْعِمْ هَذَا سِتِّينَ مِسْكِينًا" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَبِيبٍ نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَرْبِيُّ نا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَذَكَرَهُ وَهُوَ خَطَأٌ، الْمَشْهُورُ عَنْ يَحْيَى مُرْسَلٌ دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں 15 صاع کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دیا اور فرمایا: ”جاؤ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا۔“
یہ (سند) غلطی ہے، یحییٰ سے مشہور روایت مرسل ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15280]
یہ (سند) غلطی ہے، یحییٰ سے مشہور روایت مرسل ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15280]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ وَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِلَ حَتَّى يُدْرِكَنِيَ الصُّبْحُ، فَبَيْنَمَا هِيَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِحِيَالٍ مِنِّي إِذَا انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نَذْهَبُ مَعَكَ نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ:" أَنْتَ ذَاكَ؟" فَقُلْتُ: أَنَا ذَاكَ فَاقْضِ فِيَّ حُكْمَ اللهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، فَضَرَبْتُ صَفْحَ عُنُقِ رَقَبَتِي بِيَدِي فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ؟ قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا مَا نَجِدُ عَشَاءً، قَالَ:" انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا وَتَسْتَعِينُ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ"، فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ ⦗٦٤٢⦘ كَذَا رُوِيَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عورتوں سے جتنی صحبت کرتا تھا، میرے علاوہ کوئی اتنی خواہش بھی نہ رکھتا تھا، جب رمضان شروع ہوا تو میں نے (بیوی سے ہم بستری) واقع ہونے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، میں کوشش کرتا رہا، لیکن میں اتنی طاقت نہ رکھتا تھا کہ صبح تک الگ رہوں، ایک رات وہ میرے قریب بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ کھل گیا تو میں اس سے ہم بستری کر بیٹھا، صبح کے وقت میں نے اپنی قوم کو بتایا اور کہا: ”میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیرے ساتھ نہ جائیں گے، ہمیں خوف ہے کہ کہیں قرآن ہمارے بارے میں نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو ہمارے لیے عار کا باعث بن جائے۔ خود جا کر جو کرنا ہے سو کرو۔ میں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ مجھ پر حد نافذ کریں، میں صبر کرنے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ تو میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اور عرض کیا: میں اس کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سب کچھ تو روزوں ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے خالی پیٹ رات گزاری ہے، ہمارے پاس شام کا کھانا بھی نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں کچھ دے دے گا تو ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور باقی اپنے گھر والوں کو دے دینا۔“ میں اپنی قوم کے پاس آیا تو کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی پائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15281]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15282
وَقَدْ أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ، أَخْبَرَهُمْ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، أنا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْ إِلَيْكَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ"، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعْطِي مِنَ الْوَسْقِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ يَأْكُلُ بَقِيَّتَهُ يَعْنِي بَقِيَّةَ الْوَسْقِ.
محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ بنو زریق سے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جائیں، وہ آپ کو ایک وسق کھجور دے گا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلا کر باقی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا۔“ یہ دلالت کرتی ہے کہ وسق سے ساٹھ مسکینوں کو دیا گیا، باقی ماندہ سے اس نے خود بھی کھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15282]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15283
وَيَدُلُّ عَلَيْهِ أَيْضًا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ أَنْتَ وَأَهْلُكَ"، فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ مُوَافِقَةٌ لِرِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنِ ثَوْبَانَ فِي قِصَّةِ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ فَهِيَ أَوْلَى، وَأَمَّا حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دیں، جو 15 صاع کے قریب تھیں اور فرمایا: ”صدقہ کرو۔“ اس نے کہا: اپنے اور گھر والوں سے زیادہ غریب پر؟ فرمایا: ”تم اسے کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15283]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15284
فَرُوِيَ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَتْ: ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ وَيَقُولُ:" اتَّقِي اللهَ فَإِنَّهُ زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ" فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ {قَدْ ⦗٦٤٣⦘ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] قَالَ:" يُعْتِقُ رَقَبَةً" قَالَتْ: لَا يَجِدُ قَالَ:" فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قُلْتُ: مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَ:" فَإِنِّي سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ" قَالْتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتِ اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ" قَالَ: وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا.
سیدہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ مجادلہ فرمایا اور فرمایا: ”اللہ سے ڈر، وہ تیرا خاوند اور تیرے چچا کا بیٹا ہے“، میں اسی کیفیت میں تھی کہ قرآن نازل ہوا: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک غلام آزاد کرے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے“۔ اس نے کہا: اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک «عَرَقٍ» (کھجور کے ٹوکرے) سے اس کی مدد کر دیتا ہوں“۔ میں نے کہا: دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ“۔ راوی کہتے ہیں کہ «عَرَق» ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15284]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک غلام آزاد کرے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے“۔ اس نے کہا: اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک «عَرَقٍ» (کھجور کے ٹوکرے) سے اس کی مدد کر دیتا ہوں“۔ میں نے کہا: دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ“۔ راوی کہتے ہیں کہ «عَرَق» ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15284]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ تقدم لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15285
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ نے اس سند سے نقل کیا ہے کہ ایک عرق ٹوکرے میں 30 صاع کھجور آتی ہے۔
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ یحییٰ بن آدم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15285]
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ یحییٰ بن آدم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15285]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15286
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، نا أَبُو بَكْرٍ، نا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، نا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساٹھ مسکینوں کے لیے پندرہ صاع جو غلے کے دیے۔
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: عطاء نے اوس کو نہیں پایا، وہ اہل بدر میں سے تھے اور ان کی وفات پہلے ہو چکی تھی، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15286]
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: عطاء نے اوس کو نہیں پایا، وہ اہل بدر میں سے تھے اور ان کی وفات پہلے ہو چکی تھی، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15286]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره