السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3127. -- باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده
-- باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15287
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ قِصَّةَ ظِهَارِ أَوْسٍ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ" قَالَتْ خُوَيْلَةُ: قُلْتُ: وَأِيُّ الرَّقَبَةِ لَنَا وَاللهِ مَا يَخْدُمُهُ غَيْرِي قَالَ:" فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَتْ: وَاللهِ لَوْلَا أَنَّهُ يَذْهَبُ يَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَذَهَبَ بَصَرُهُ قَالَ:" فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَتْ: فَمِنْ أَيْنَ هِيَ الْأَكْلَةُ إِلَى مِثْلِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ:" لِيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرْجِعْكِ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ⦗٦٤٤⦘ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" فَقَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ يُقَالُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَيُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ هَذَا فَاقْسِمْهُ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ [سورة المجادلة: 3] تک۔ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ دن میں تین بار کھاتا پیتا نہ ہو تو اس کی نظر چلی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔“
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
ابوحمزہ ثمالی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15287]
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
ابوحمزہ ثمالی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15287]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 15245»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْغُجْدَوَانِيُّ بِبُخَارَى أنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَا: نا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ أَخُو زُهَيْرٍ نا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، نا خَدِيجٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ خَوْلَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا دَعَاهَا وَكَانَتْ تُصَلِّي فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي إِنْ أَنَا وَطِئْتُكِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ أَتَتْهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَلَاثِينَ صَاعًا" قَالَ: لَسْتُ أَمْلِكُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي قَالَ: فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَأَعَانَهُ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ ثَلَاثِينَ صَاعًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إليه مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ" فَأَخَذَهُ كَذَا رَوَاهُ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ خَوْلَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَقَالَ: فَأَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ فَقْرَهُ وَأَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَكْلِهِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ وَقَالَ أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِشَطْرِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ مَكَانَ مُدٍّ مِنْ بُرٍّ، فَهَذِهِ رِوَايَاتٌ مُخْتَلِفَةٌ وَأَكْثَرُهَا مَرَاسِيلُ وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ فِي حَدِيثِ الْمُجَامِعِ مِنْ أَوْجُهٍ قَوِيَّةٍ مَا دَلَّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ.
یزید بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خاوند نے آواز دی تو وہ نماز میں مصروف تھیں، جس کی وجہ سے آنے میں دیر ہوئی۔ خاوند نے کہہ دیا: تو میرے لیے والدہ کی مانند ہے، اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی، تو خولہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بارے میں کچھ حکم موجود نہ تھا۔ پھر دوسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے خاوند سے) فرمایا: ”غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس موجود نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تیس صاع ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کریں وگرنہ میں اس کا بھی مالک نہیں ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع سے ان کی اعانت فرمائی اور پندرہ صاع لوگوں نے دیے، یہ کل تیس صاع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: میرے اور گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود کھا لو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ تو انہوں نے لے لیا۔
(ب) اسرائیل رحمہ اللہ، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے خولہ رضی اللہ عنہا اور تیس صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، ان کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔
(ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع جو سے ان کی مدد فرمائی۔
(د) ابو یزید مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔
یہ مختلف روایات ہیں اور ان میں سے اکثر مرسل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15288]
(ب) اسرائیل رحمہ اللہ، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے خولہ رضی اللہ عنہا اور تیس صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، ان کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔
(ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع جو سے ان کی مدد فرمائی۔
(د) ابو یزید مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔
یہ مختلف روایات ہیں اور ان میں سے اکثر مرسل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15288]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15289
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَهُمْ نا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُوعِيُّ، نا مَسْرُوقُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنِ ⦗٦٤٥⦘ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: مَا أَجِدُهَا قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: مَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمٌ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھ پر افسوس! کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔“ اس شخص نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ١٥ صاع کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، تو ہنسنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ [حسن لغیرہ ] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15289]
حدیث نمبر: 15290
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ:" حَرِّرْ رَقَبَةً" قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" فَتَصَدَّقْ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يَكُونُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ يَكُونُ سِتِّينَ رَبْعًا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ لَهُ:" أَطْعِمْ هَذَا سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، فَقَالَ لَهُ:" اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ" فِي هَذَا الْمُرْسَلِ تَأْكِيدٌ لِلرِّوَايَةِ الْمَوْصُولَةِ، وَهَذَا أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ بِالشَّكِّ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ خَمْسَةَ عَشَرَ بِلَا شَكٍّ، وَسَيُرْوَى إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْأَيْمَانِ الْآثَارُ عَنِ الصَّحَابَةِ فِي جَوَازِ التَّصْدِقِ بِمُدٍّ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ وَاللهُ الْمُوَفِّقُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گردن آزاد کر۔“ اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 15 صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پہاڑ کے دو کناروں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“
اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے جو نقل فرماتے ہیں، اس میں 15 صاع یا 20 صاع نقل کرنے میں شک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15290]
اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے جو نقل فرماتے ہیں، اس میں 15 صاع یا 20 صاع نقل کرنے میں شک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الظِّهَارِ/حدیث: 15290]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره