السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3162. -- باب: عدة الحامل من الوفاة
-- باب: حاملہ بیوہ کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15467
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي أَنْ تُنْكَحَ فَأَذِنَ لَهَا" وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ قَالَ:" تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَلَمْ تَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ يَسِيرَةً حَتَّى نُفِسَتْ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا فِيهِ فَنَكَحَتْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَزَعَةَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد زچگی کی حالت کو پہنچیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنے کے بارے میں اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی؛ اور جعفر کی روایت میں ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کا خاوند فوت ہو گیا، وہ چند راتیں ٹھہریں پھر وہ زچگی کو پہنچیں، جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی، انہوں نے نکاح کر لیا۔
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15467]
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: نا أَبُو الطَّاهِرِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا: مَالِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ⦗٧٠٤⦘ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي" بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي فَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي" زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ، لَفْظُ حَدِيثِ حَرْمَلَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يُونُسَ، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبیداللہ رحمہ اللہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ان کے والد عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا، وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کی حدیث کے بارے میں اور اس کے بارے میں سوال کریں جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا تھا۔ عمر بن عبداللہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، انہیں خبر دیتے ہوئے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ بنی عامر بن لؤی قبیلے سے تھے، وہ ان میں سے تھے جو بدر میں حاضر ہوئے تھے، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر فوت ہوئے اور وہ حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے بعد وہ زیادہ عرصہ نہیں گزری تھیں کہ انہوں نے اپنا حمل وضع کر دیا۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے نکاح کے خواہش مندوں کے لیے زینت اختیار کی۔ ان کے پاس بنو عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ داخل ہوا، اس نے انہیں کہا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے زینت اختیار کی ہوئی ہے، شاید کہ تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے، اللہ کی قسم! تو نکاح نہیں کر سکتی حتی کہ تجھ پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، جب شام ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”میں حلال ہو چکی ہوں جب میں وضعِ حمل کر چکی“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں مناسب سمجھوں۔
ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ وضع حمل کے وقت ہی نکاح کر لے اگرچہ وہ ابھی (نفاس کے) خون میں ہو، البتہ اس کا خاوند اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15468]
ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وہ وضع حمل کے وقت ہی نکاح کر لے اگرچہ وہ ابھی (نفاس کے) خون میں ہو، البتہ اس کا خاوند اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15469
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ: سَلْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْتَاهَا حِينَ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا؟ قَالَتْ:" أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے ان کی طرف لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے ان کو اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے ابن ارقم رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ تو سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے سوال کر کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فتویٰ دیا جب ان کا خاوند فوت ہوا؟ وہ فرماتی ہیں: ”مجھے فتویٰ دیا کہ جب میں وضع حمل سے فارغ ہو جاؤں تو نکاح کر لوں۔“
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15469]
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15469]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15470
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةَ، وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَقَالَ: قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلْأَزْوَاجِ إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ أَوْ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَحَدِيثُ سَعْدَانَ مُخْتَصَرٌ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِشَهْرٍ أَوْ أَقَلَّ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْكِحَ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ مُرْسَلَةٌ وَفِيمَا قَبْلَهَا مِنَ الْمَوْصُولَةِ كِفَايَةٌ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چند راتوں بعد بچے کو جنم دیا، پس ان پر ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ تو انہوں نے کہا: تو نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے خوبصورتی اختیار کی ہوئی ہے، عدت تو چار ماہ دس دن ہے۔ یہ معاملہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو سنابل نے جھوٹ کہا ہے“ یا یہ کہا کہ ”اس طرح نہیں ہے جس طرح ابو سنابل کہتا ہے، تو حلال ہو گئی ہے تو شادی کر سکتی ہے۔“ یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں۔
حدیثِ سعدان مختصر ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک ماہ بعد یا اس سے بھی کم میں بچے کو جنم دیا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تو نکاح کر لے۔“ [صحیح]
یہ روایت مرسل ہے اور اس سے پہلے والی موصول روایات میں کفایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15470]
حدیثِ سعدان مختصر ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک ماہ بعد یا اس سے بھی کم میں بچے کو جنم دیا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”تو نکاح کر لے۔“ [صحیح]
یہ روایت مرسل ہے اور اس سے پہلے والی موصول روایات میں کفایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15470]
حدیث نمبر: 15471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَتَذَاكَرْنَا الرَّجُلَ يَمُوتُ عَنِ الْمَرْأَةِ فَتَضَعُ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِيَسِيرٍ فَقُلْتُ:" إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ"، وَقَالَ ابْنُ ⦗٧٠٥⦘ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَجَلُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ فَتَرَاجَعَا بِذَلِكَ" فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ" فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ:" إِنَّ سُبَيْعَةَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُكَنَّى أَبَا السَّنَابِلِ خَطَبَهَا وَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا قَدْ حَلَّتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَيْرَهُ فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: إِنَّكِ لَمْ تَحِلِّينَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهَا أَنْ تُزَوَّجَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کے بارے میں بحث کی جو فوت (اپنی بیوی کو چھوڑ کر) ہو جائے اور وہ اس کی وفات کے چند دن بعد وضع حمل کر دے۔ ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: جب اس نے وضع حمل کر دیا تو وہ حلال ہو گئی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے آخری مدت ہے۔ وہ دونوں اس سے ایک دوسرے کی طرف پلٹے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ ہوں، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس راتوں بعد بچے کو جنم دیا اور بنی عبدالدار میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو سنابل تھی، اس نے منگنی کا پیغام بھیجا اور اس کو خبر دی کہ وہ حلال ہو گئی ہے اور وہ ارادہ کرتی ہے کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کر لے۔ اس کو ابو سنابل نے کہا: تو حلال نہیں ہوئی۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ: ”تو شادی کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، نا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تُنْكِحَ فَقَالَ وَاللهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْكِحِي" فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يَقُولُ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِذَا ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ رَمَاهَا بِمَا كَانَ فِي يَدِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، کہ ایک عورت جسے سبیعہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی۔ اس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ تھی۔ اسے ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے انکار کر دیا۔ ابوسنابل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تیرے لیے نکاح کرنا درست نہیں یہاں تک کہ تو دو مدتوں میں سے آخری اختیار کر لے۔“ وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اسے زچگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نکاح کر لے۔“ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، جب انہیں طلاق دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں تو وہ اپنی عدت ختم ہونے سے پہلے ان کے پاس اپنے کپڑے بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ محمد بن اسامہ بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے جب بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کسی چیز کا ذکر کرتیں تو ان کے ہاتھ میں جو بھی چیز ہوتی وہ اسے مار دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15473
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَأَصْحَابُهُ يُعَظِّمُونَهُ كَأَنَّهُ أَمِيرٌ فَذَكَرُوا آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ: فَغَمَزَ إِلِيَّ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ: إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَى الْكَذِبِ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ بِنَاحِيَةِ الْكُوفَةِ قَالَ: فَاسْتَحَى وَقَالَ: وَلَكِنَّ عَمَّهُ لَمْ يَكُنْ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: وَلَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا قَالَ: فَقُمْتُ فَلَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ فَسَأَلْتُهُ فَذَهَبَ يُحَدِّثُنِي حَدِيثَ سُبَيْعَةَ قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنْ هَلْ سَمِعْتَ فِيهِ مِنْ عَبْدِ اللهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ فَسَأَلْنَا عَنْهَا فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَضَعَتْ مِنْ قَبْلِ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ ⦗٧٠٦⦘ وَعَشْرٍ قُلْنَا حَتَّى تَمْضِيَ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ قَالَ: قُلْنَا حَتَّى تَضَعَ قَالَ: فَقَالَ: تَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ فَذَكَرَهُ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے ساتھی ان کی تعظیم کر رہے تھے گویا کہ وہ ان کے امیر ہیں۔ انہوں نے دو مدتوں میں سے آخری مدت کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ حدیث ذکر کر دی جو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی ہے، سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے کسی ساتھی نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا تو میں سمجھ گیا اور میں نے کہا: میں جھوٹ پر حریص نہیں ہوں، اگر میں عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ کہوں تو عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک جانب ہیں۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے کچھ حیا محسوس کی اور کہا: لیکن ان کے چچا یہ بات نہیں کہتے تھے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میں نے اس بارے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا تھا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور میں ابو عطیہ مالک بن حارث رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے سوال کیا، وہ شروع ہوئے، مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا: میں نے اس بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا، کیا آپ نے اس بارے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم نے ان کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار ماہ اور دس دن سے پہلے وضع حمل کر دے تو؟ ہم نے کہا: یہاں تک کہ (چار ماہ دس دن) گزر جائیں۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وضع حمل سے پہلے چار ماہ اور دس دن گزر جائیں تو؟ ہم نے کہا: یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس پر سختی کر رہے ہو اور ان کے لیے رخصت نہیں دے رہے، سورہ نساء چھوٹی، طویل کے بعد نازل ہوئی: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15473]
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15473]
تخریج الحدیث: «صحيح 4910»
الحكم على الحديث: صحيح 4910
حدیث نمبر: 15474
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجَبَّارُ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ" وَاللهِ مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الضُّحَى قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ.
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ (باہم لعنت) کرنے کو تیار ہوں کہ چھوٹی سورۃ نساء ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] کے بعد نازل ہوئی ہے، اور مسلم ابی الضحیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ دو عدتوں میں سے آخر والی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15474]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15475
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، نا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ قَالَ: مَا نَزَلَتْ {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: ٤] إِلَّا بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ" يُرِيدُ بِآيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] .
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو چاہے میں اس سے مباہلہ (باہم لعنت) کرنے کو تیار ہوں کہ یہ آیت ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] نازل نہیں ہوئی مگر اس آیت کے بعد جس میں خاوند کی وفات کا ذکر ہے، لہٰذا جب وہ عورت وضع حمل کر دے جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو تو اس کی عدت ختم ہو گئی۔“ آیت «مُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» سے آپ یہ آیت مراد لیتے تھے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15475]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15476
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ" فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى السَّرِيرِ لَمْ يُدْفَنْ لَحَلَّتْ وَاللهُ أَعْلَمُ.
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب وہ اپنے حمل کو وضع کر دے تو وہ حلال ہو گئی، ان کو ایک انصاری شخص نے خبر دی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ بچے کو جنم دے دے اور اس کا خاوند ابھی چارپائی پر پڑا ہو، اس کو دفن نہ کیا گیا ہو تو وہ حلال ہو گئی، یعنی اس کی عدت ختم ہو گئی اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15476]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح