السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3164. -- باب: مقام المطلقة في بيتها
-- باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15479
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1] .
اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [سورة الطلاق: 1] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: Q15479]
حدیث نمبر: 15479
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" قَالَ إِسْحَاقُ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الْأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ:" إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] ".
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا۔“ اسحاق کہتے ہیں: جب اس کو شعبی نے بیان کیا تو اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، وگرنہ ہم اللہ کی کتاب کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15479]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15480
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، ⦗٧٠٨⦘ أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ" فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ".
نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی، اس نے اس کو «الطَّلَاقُ الْبَتَّةُ» ”طلاقِ بتہ“ دے دی، وہ گھر سے نکل گئی، اس کے اس فعل کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے برا سمجھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15480]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] قَالَ:" خُرُوجُهَا مِنْ بَيْتِهَا فَاحِشَةٌ مُبَيِّنَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں فرمایا: اس کا اپنے گھر سے نکلنا واضح بےحیائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15481]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15482
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ قَالَ:" احْبِسْهَا" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ:" فَقَيِّدْهَا" فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ إِنَّ لَهَا إِخْوَةً غَلِيظَةٌ رِقَابُهُمْ، قَالَ:" اسْتَعْدِ عَلَيْهِمُ الْأَمِيرَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ نکل جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو روک۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو قید کر دو۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا، اس کے بھائی ہیں، ان کی موٹی موٹی گردنیں ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو امیر سے ان کے خلاف اس کو لوٹانے کی درخواست کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15482]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15483
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِيَةً إِلَى أَهْلِهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ".
حارث بن سوید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ کا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی، پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک کھجور کے عوض اس کا دین میرا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15483]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح