🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3164. -- باب: مقام المطلقة في بيتها
-- باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15479
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1] .
اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [سورة الطلاق: 1] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: Q15479]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15479
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" قَالَ إِسْحَاقُ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الْأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ:" إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] ".
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا۔“ اسحاق کہتے ہیں: جب اس کو شعبی نے بیان کیا تو اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، وگرنہ ہم اللہ کی کتاب کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15479]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15479 in Urdu