السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3166. -- باب: سكنى المتوفى عنها زوجها
-- باب: بیوہ عورت کی رہائش کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15497
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ ⦗٧١٣⦘ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ: فَكَيْفَ قلت: فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل (بنی خدرہ) کی طرف پلٹنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ ان کا خاوند اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلا جو بھاگ گئے تھے، یہاں تک کہ جب وہ قدوم کی جانب تھے وہ ان کو ملا، ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”کیا میں اپنے اہل کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے مکان میں نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو۔“ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو لوٹ سکتی ہے۔“ میں مڑی، یہاں تک کہ جب میں حجرہ میں یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا گیا یا میرے لیے حکم دیا گیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیا کہتی ہے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ قصہ دوبارہ دہرا دیا جو میں نے اپنے خاوند کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے گھر میں ٹھہری رہ، حتی کہ تیری عدت پوری ہو جائے۔“ فرماتی ہیں: میں نے چار ماہ اور دس دن اس میں (عدت) شمار کیے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے انہیں خبر دی، انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15497]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ تَذْكُرُ أَنَّ زَوْجَ فُرَيْعَةَ قُتِلَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَى أَهْلِهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهَا فِي النُّقْلَةِ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ نَادَاهَا فَقَالَ لَهَا:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رحمہ اللہ نے ان کو خبر دی کہ ان کی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ میں نے فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) سے سنا، وہ ذکر کر رہی تھیں کہ ان کا خاوند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا اور وہ چاہتی تھی کہ اپنے خاوند کے گھر سے اپنے اہل کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منتقل ہونے کی رخصت دی۔ جب وہ پلٹی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اپنے گھر میں رکی رہ، یہاں تک کہ ﴿کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے﴾ [سورة البقرة: 235] ، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15498]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15499
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ يَحْيَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ لَهُ حَدِيثَ فُرَيْعَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهَا حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَهَا عَنِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ لَفْظَ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ثُمَّ لَقِيَ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَهُ بِهِ.
یحییٰ سے روایت ہے کہ سعد بن اسحاق نے انہیں خبر دی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے فریعہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی گئی، انہوں نے ان کی طرف (قاصد) بھیجا حتیٰ کہ جب وہ ان کے پاس داخل ہوئیں تو انہوں نے ان سے حدیث کے بارے میں سوال کیا، چنانچہ فریعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں وہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15499]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15500
أَخْبَرَنَاه أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ زَوْجِهَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ فَتَبِعَ أَعْلَاجًا فَقَتَلُوهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتِ الْوَحْشَةَ فِي مَنْزِلِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا وَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَأْتِيَ مَنْزِلَ إِخْوَتِهَا بِالْمَدِينَةِ فَأَذِنَ لَهَا ثُمَّ دَعَا أَوْ دُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ:" اسْكُنِي فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَا سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي بِهِ.
ابن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی پھوپھی سے سنا، وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مدینہ کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھیں، ان کا خاوند غلاموں کے پیچھے لگا، انہوں نے اس کو قتل کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے اپنے مکان کی وحشت کا ذکر کیا اور ذکر کیا کہ اس کا گھر نہیں ہے اور مدینہ میں اپنے بھائیوں کے گھر جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی، پھر اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اس گھر میں ٹھہری رہ جس میں تیرے پاس تیرے خاوند کی وفات کی خبر آئی یہاں تک کہ ﴿يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾ [سورة البقرة: 235] (کتاب اپنے مقررہ وقت کو پہنچ جائے)، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15500]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15501
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ ⦗٧١٤⦘ بِبَغْدَادَ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ كعب بن عُجْرَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ وَقِيلَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَإِسْحَاقُ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ أَشْهَرُ وَسَعْدٌ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ أَشْهَرُ، وَزَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ فِيمَا يَرَى أَنَّهُمَا اثْنَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی زینب بنت کعب بن عجرہ سے سنا، وہ سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ تھیں، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث ذکر کی۔
اور اسی طرح اسے سفیان ثوری، محمد بن اسحاق بن یسار اور ابو بحر البکراوی نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے اسحاق بن سعد بن کعب بن عجرہ سے، انہوں نے زینب بنت کعب سے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماد سے، انہوں نے سعد بن اسحاق سے (روایت کیا)۔ حماد کی روایت میں اسحاق (کا نام) زیادہ مشہور ہے اور دوسروں کی روایت میں سعد (کا نام) زیادہ مشہور ہے، اور محمد بن یحییٰ الذہلی کی رائے یہ ہے کہ وہ دو (الگ الگ راوی) ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15501]
اور اسی طرح اسے سفیان ثوری، محمد بن اسحاق بن یسار اور ابو بحر البکراوی نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے اسحاق بن سعد بن کعب بن عجرہ سے، انہوں نے زینب بنت کعب سے روایت کیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماد سے، انہوں نے سعد بن اسحاق سے (روایت کیا)۔ حماد کی روایت میں اسحاق (کا نام) زیادہ مشہور ہے اور دوسروں کی روایت میں سعد (کا نام) زیادہ مشہور ہے، اور محمد بن یحییٰ الذہلی کی رائے یہ ہے کہ وہ دو (الگ الگ راوی) ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15501]
حدیث نمبر: 15502
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ حَمَّادٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، أنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ - قَالَ حَمَّادٌ: وَهُوَ مَوْضِعُ مَاءٍ - قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ مِنْ حَالِي وَذَكَرْتُ النُّقْلَةَ إِلَى إِخْوَتِي، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر اپنے چند غلاموں کی تلاش میں نکلے تو انہیں «طَرَفِ الْقَدُومِ» ”طرف القدوم“ کے مقام پر قتل کر دیا گیا، حماد نے کہا کہ وہ پانی کی ایک جگہ ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپ سے اپنی اس حالت کا ذکر کیا اور اپنے بھائیوں کی طرف منتقل ہونے کا تذکرہ کیا، وہ کہتی ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پھر جب میں (وہاں سے) آگے بڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا اور فرمایا: «امْکُثِی فِی بَیْتِکِ حَتَّی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ» ”تم اپنے گھر ہی میں ٹھہری رہو یہاں تک کہ لکھی ہوئی مدت (عدت) اپنے وقت کو پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15502]
حدیث نمبر: 15503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا اثْنَيْنِ فَهَذَا أَوْلَى بِالْمُوَافَقَةِ لِسَائِرِ الرُّوَاةِ عَنْ سَعْدٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعْدٍ، فَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنْ مَالِكٍ، وَالْحَدِيثُ مَشْهُورٌ بِسَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَدْ رَوَاهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو الحسن علی بن محمد المقرئ نے ہمیں خبر دی، (انہیں) الحسن بن محمد بن اسحاق نے خبر دی، (انہیں) یوسف بن یعقوب نے بتایا، (انہیں) ابو الربیع نے بتایا، (انہیں) حماد بن زید نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی، پس اگر وہ دو نہ ہوں تو یہ سعد سے روایت کرنے والے دیگر تمام راویوں کی موافقت کے حوالے سے زیادہ بہتر ہے
(ت) اور اسے امام زہری رحمہ اللہ نے سعد سے روایت کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں انہوں نے کہا: «عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» ”ابن کعب بن عجرہ سے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ» ”مجھے سعد سے ان کی پھوپھی کے حوالے سے (روایت) پہنچی ہے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ» ”مجھ سے اہل مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا جنہیں مالک بن انس کہا جاتا ہے، انہوں نے سعد بن اسحاق بن عجرہ سے روایت کی“، پھر انہوں نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے جماعت کی روایت کے مثل ذکر کیا، اور یہ حدیث سعد بن اسحاق کے واسطے سے مشہور ہے اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ان سے روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15503]
(ت) اور اسے امام زہری رحمہ اللہ نے سعد سے روایت کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں انہوں نے کہا: «عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» ”ابن کعب بن عجرہ سے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «بَلَغَنِي عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَمَّتِهِ» ”مجھے سعد سے ان کی پھوپھی کے حوالے سے (روایت) پہنچی ہے“، اور ایک روایت میں انہوں نے کہا: «حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عُجْرَةَ» ”مجھ سے اہل مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا جنہیں مالک بن انس کہا جاتا ہے، انہوں نے سعد بن اسحاق بن عجرہ سے روایت کی“، پھر انہوں نے اسے امام مالک رحمہ اللہ سے جماعت کی روایت کے مثل ذکر کیا، اور یہ حدیث سعد بن اسحاق کے واسطے سے مشہور ہے اور ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ان سے روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15503]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15504
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ ⦗٧١٥⦘ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يَرُدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهُنَّ مِنَ الْبَيْدَاءِ يَمْنَعُهُنَّ مِنَ الْحَجِّ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مقامِ بیداء سے ان عورتوں کو واپس لوٹا دیا کرتے تھے جن کے خاوند فوت ہو چکے ہوں، وہ ان کو حج سے روکتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15504]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15505
قَالَ: وَنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تَبِيتُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَلَا الْمَبْتُوتَةُ إِلَّا فِي بَيْتِهَا"، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نہ رات گزارے وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو اور نہ ہی وہ عورت جس کو طلاقِ بتہ دی گئی ہو مگر اپنے گھر میں“ اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15505]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح