🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3168. -- باب: كيفية سكنى المطلقة والمتوفى عنها
-- باب: طلاق یافتہ اور بیوہ عورت کی رہائش کی کیفیت و نوعیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَا: أنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجِدُ نَخْلًا فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" اخْرُجِي فَجُدِّي فَلَعَلَّكِ أَنْ تَصَّدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ⦗٧١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: نَخْلُ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالْجِدَادُ إِنَّمَا يَكُونُ نَهَارًا.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں۔ وہ نکلیں اور کھجوریں کاٹ رہی تھیں کہ انہیں ایک شخص ملا، اس نے انہیں منع کیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نکل جا اور کھجوریں کاٹ، شاید تو صدقہ کرے یا نیکی کرے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انصار کی کھجوریں ان کے گھروں کے قریب تھیں اور وہ صبح کو کھجوریں کاٹتے تھے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1483»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15512
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتِهِ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْأَصَمِّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: اسْتُشْهِدَ رِجَالٌ يَوْمَ أُحُدٍ فَآمَ نِسَاؤُهُمْ وَكُنَّ مُتَجَاوِرَاتٍ فِي دَارٍ فَجِئْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَسْتَوْحِشُ بِاللَّيْلِ فَنَبِيتُ عِنْدَ إِحْدَانَا فَإِذَا أَصْبَحْنَا تَبَدَّرْنَا إِلَى بُيُوتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَدَّثْنَ عِنْدَ إِحْدَاكُنَّ مَا بَدَا لَكُنَّ فَإِذَا أَرَدْتُنَّ النَّوْمَ فَلْتَؤُبْ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَى بَيْتِهَا".
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ احد کے دن بہت سے آدمی شہید ہو گئے اور ان کی بیویاں بیوہ ہو گئیں اور وہ ایک گھر میں پڑوسنیں تھیں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم رات کو وحشت محسوس کرتی ہیں، ہم رات اپنے میں سے کسی ایک کے پاس گزارتی ہیں۔ جب ہم صبح کرتی ہیں تو اپنے گھروں کی طرف چلی جاتی ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے میں سے کسی ایک کے پاس جب تک چاہو آپس میں باتیں کرو، پھر جب تم سونے کا ارادہ کرو تو تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کی طرف لوٹ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15513
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَبِيتَ لَيْلَةً وَاحِدَةً إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةِ وَفَاةٍ أَوْ طَلَاقٍ إِلَّا فِي بَيْتِهَا".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایک رات اپنے گھر سے باہر گزارے جب وہ اپنے خاوند کی وفات کی عدت میں ہو یا عدتِ طلاق میں ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15513]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15514
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" الْمُطَلَّقَةُ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَخْرُجَانِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَبِيتَانِ لَيْلَةً تَامَّةً غَيْرَ بُيُوتِهِمَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ طلاق شدہ عورت اور وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو وہ دن میں نکلیں اور مکمل رات اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں نہ گزاریں۔
سفیان سے روایت ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، وہ نافع سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت دن کو زیارت کرے اور اپنے گھر کے علاوہ رات نہ گزارے۔
علقمہ سے روایت ہے کہ ہمدان قبیلے کی عورتوں کے لیے ان کے خاوندوں کی (وفات) کا اعلان کیا گیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ہم وحشت محسوس کرتی ہیں، انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ دن کو اکٹھی ہو جایا کریں اور جب رات ہو تو ہر ایک عورت اپنے گھر کی طرف پلٹ جائے۔
اسلم قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے، کیا وہ اپنے والد کی بیمار پرسی کر سکتی ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رات کے دو حصوں میں سے ایک حصہ اپنے گھر میں گزار۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15514]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15515
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تَوَفَّى وَأَنَّ ⦗٧١٨⦘ امْرَأَتَهُ جَاءَتْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ وَفَاةَ زَوْجِهَا وَذَكَرَتْ لَهُ حَرْثًا لَهُمْ تَفْنَاهُ وَسَأَلَتْهُ هَلْ يَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَبِيتَ فِيهِ" فَنَهَاهَا عَنْ ذَلِكَ"،" فَكَانَتْ تَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ بِسَحَرٍ فَتُصْبِحُ فِي حَرْثِهِمْ فَتَظَلُّ فِيهِ يَوْمَهَا ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ إِذَا أَمْسَتْ تَبِيتُ فِي بَيْتِهَا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا سائب بن خباب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور ان کی بیوی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں، انہوں نے اپنے خاوند کی وفات کا تذکرہ کیا اور ان کے لیے اپنی کھیتی کا ذکر بھی کیا جو قناۃ نامی جگہ میں ہے اور ان سے سوال کیا کہ کیا ان کے لیے درست ہے کہ وہ اس میں رات گزاریں؟ انہوں نے ان کو اس سے منع کیا۔ وہ مدینہ سے سحری کے وقت نکلتیں، وہ دن اپنی کھیتی میں گزارتیں اور صبح اپنی کھیتی میں کرتیں، پھر جب شام ہو جاتی تو وہ مدینہ میں داخل ہوتیں اور رات اپنے گھر میں گزارتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15515]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں