السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3169. -- باب: الإحداد
-- باب: سوگ منانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ان تین احادیث کی خبر دی، زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب (ان کے والد) ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی، اس میں زرد رنگ کی خوشبو تھی یا اس کے علاوہ کوئی اور خوشبو تھی، انہوں نے اس میں سے ایک لڑکی کو لگائی، پھر اپنے رخساروں پر ملی، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، اور وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی، پھر انہوں نے کہا: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو محض چار ماہ اور دس دن ہیں، جبکہ تم میں سے کوئی (عورت) زمانہ جاہلیت میں سال کے اختتام پر لید پھینکتی تھی۔“
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا وہ لید (پھینکنا) تھا سال کے اختتام پر؟ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خیمے میں داخل ہو جاتی، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15516]
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی، پھر انہوں نے کہا: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو محض چار ماہ اور دس دن ہیں، جبکہ تم میں سے کوئی (عورت) زمانہ جاہلیت میں سال کے اختتام پر لید پھینکتی تھی۔“
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا وہ لید (پھینکنا) تھا سال کے اختتام پر؟ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خیمے میں داخل ہو جاتی، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15517
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَذَكَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15517]
حدیث نمبر: 15518
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا الْيَوْمَ الثَّالِثَ وَقَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَغَنِيَّةً عَنْ هَذَا لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کا اعلان کرنے والا آیا تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زردی منگوائی اور تیسرے دن اس کو اپنے رخساروں اور بازوؤں پر لگایا اور فرمایا: میں اس سے بے پروا ہوں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا کہ ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15518]
اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15518]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15519
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا شَبَابَةُ، نا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ مَاتَ لَهَا حَمِيمٌ فَأَخَذَتْ صُفْرَةً فَمَسَحَتْ بِهَا ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا الْمَرْأَةَ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ⦗٧٢٠⦘.
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو گیا تو انہوں نے زردی کو پکڑا اور اپنی کلائیوں پر لگا لیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلم عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15520
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ، عَنْ حَفْصَةَ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْهُمَا كِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، وَكَذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ.
حفصہ رضی اللہ عنہا یا عائشہ رضی اللہ عنہا یا دونوں رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔“
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15520]
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15520]
تخریج الحدیث: «صحيح۔1490»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15521
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15521]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15522
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15522]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15523
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَلْبَنِي ثَلَاثًا ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ" ⦗٧٢١⦘ فَلَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُ عَبْدِ اللهِ مِنْ أَسْمَاءَ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ فَهُوَ مُرْسَلٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَالْأَحَادِيثُ قَبْلَهُ أَثْبَتُ فَالْمَصِيرُ إِلَيْهَا أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ: ”تین دن سوگ گزار پھر جو چاہے کر۔“
عبداللہ (بن شداد) کا اسماء سے سماع ثابت نہیں ہے، اور اس میں «عن اسماء» بھی کہا گیا ہے، لہٰذا یہ مرسل ہے، اور محمد بن طلحہ قوی نہیں ہے، اور اس سے پہلے والی احادیث زیادہ ثابت ہیں، لہٰذا انہی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15523]
عبداللہ (بن شداد) کا اسماء سے سماع ثابت نہیں ہے، اور اس میں «عن اسماء» بھی کہا گیا ہے، لہٰذا یہ مرسل ہے، اور محمد بن طلحہ قوی نہیں ہے، اور اس سے پہلے والی احادیث زیادہ ثابت ہیں، لہٰذا انہی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15523]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف