🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3177. -- باب: عدة المطلقة يملك زوجها رجعتها
-- باب: اس طلاق یافتہ عورت کی عدت کا بیان جس کا شوہر رجوع کا حق رکھتا ہو (یعنی طلاقِ رجعی کی عدت)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15560
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا لَيْسَ لِذَلِكَ مُنْتَهًى يُنْتَهَى إِلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِامْرَأَتِهِ: وَاللهِ لَا آوِيكِ إِلِيَّ أَبَدًا وَلَا تَحِلِّينَ لِغَيْرِي، قَالَ: فَقَالَتْ: كَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَإِذَا دَنَا أَجَلُكِ رَاجَعْتُكِ، قَالَ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ فَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ جَدِيدًا مَنْ كَانَ طَلَّقَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ طَلَّقَ" وَقَدْ رَوَيْنَا هَذَا فِيمَا مَضَى مَوْصُولًا وَفِيهِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ تَعْتَدُّ مِنَ الطَّلَاقِ الْآخَرِ عِدَّةً مُسْتَقْبِلَةً وَهَذَا قَوْلُ أَبِي الشَّعْثَاءِ وَطَاوُسٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَغَيْرِهِمْ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر اس سے رجوع کرتا، یہ معاملہ اس کے لیے ختم نہ ہوتا کہ وہ اس کو ختم کرے۔ انصار میں سے ایک شخص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے اپنی طرف کبھی بھی جگہ نہیں دوں گا اور نہ ہی اپنے غیر کے لیے تجھے حلال ہونے دوں گا۔ اس عورت رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب تیری مدتِ عدت مکمل ہونے کے قریب ہوگی تو میں تجھ سے رجوع کر لوں گا۔ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔ پھر اس کو معروف انداز میں روک لینا ہے یا احسان کر کے چھوڑ دینا ہے۔“ پس نئے انداز میں لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ بھی جس نے طلاق دی اور وہ بھی جس نے طلاق نہیں دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15560]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں