🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3176. -- باب: الرجل يتزوج المرأة فتأتي بولد لأقل من ستة أشهر من يوم النكاح ولأقل من أربع سنين من يوم فراقها الأول
-- باب: ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور وہ نکاح کے دن سے چھ ماہ سے کم مدت میں اور اپنے پہلے شوہر کی جدائی کے دن سے چار سال سے کم مدت میں بچہ جن دے، اس کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15559
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أبي أُمَيَّةَ أَنَّ امْرَأَةً هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَكَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفٍ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَاءَ زَوْجُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِسْوَةً مِنْ نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَاءَ فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ" هَلَكَ زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ فَأُهْرِيقَتِ الدِّمَاءُ فَحَشَّ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَكَحَتْ وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاءُ تَحَرَّكَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا وَكَبِرَ"، فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْكُمَا إِلَّا خَيْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأَوَّلِ".
عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اس نے چار ماہ دس دن عدت کے گزارے، پھر جب وہ حلال ہو گئی تو اس نے شادی کر لی، وہ اپنے خاوند کے پاس ساڑھے چار ماہ رہی، پھر اس نے مکمل بچے کو جنم دے دیا۔ اس کا خاوند عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے معاملے کا ذکر کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پہلی جاہلیت کی عورتوں کو بلایا اور ان سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: میں آپ کو اس عورت کے بارے میں بتاتی ہوں؛ اس کا خاوند فوت ہو گیا جس سے وہ حاملہ ہوئی اور پھر اس کا خون بہتا رہا، اس کا بچہ اس کے پیٹ میں خشک ہو گیا، جب اس کا وہ خاوند جس سے اس نے نکاح کیا، اس کے پاس پہنچا اور بچے کو پانی پہنچا تو بچے نے پیٹ میں حرکت کی اور وہ بڑا ہو گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کی تصدیق کی اور ان دونوں کو جدا جدا کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تم دونوں کے بارے میں سوائے خیر کے کوئی خبر نہیں ملی، اور بچے کو پہلے کی طرف لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15559]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں