السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. -- باب: ترك الوضوء مما مست النار
-- باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 718
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، وَزَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پچھلی روایت کی طرح بیان فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو يعلي 6985»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبِ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ لَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَفِي الْبَابِ عَنْ: عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ⦗٢٤٠⦘ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا".
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھایا پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 719]
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 3/307»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، نا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَقِيلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
(الف) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 720]
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 351»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 721
أَمَّا حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو النَّضْرِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم یہ تھا کہ: ”جس چیز کو آگ سے چھوا ہے اس سے وضو نہ کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 192»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 722
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: كَانَ آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
علی بن عیاش نے اسی سند سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 723
وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي خَالِد، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ:" أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ آخِرَ أَمْرَيْهِ"، وَقَالَ غَيْرُهُ: يُونُسُ، عَن ْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ:" أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو کھایا جس کو آگ نے تبدیل کر دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: « [ضعيف أخرجه الطبراني في الدوسرط [1208] »
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 724
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ، ثُمَّ رَآهُ أَكَلَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پنیر کے ٹکڑے (کھانے) سے وضو کر رہے ہیں، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بکری کا کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 1/366»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 725
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْرَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأَ، وَأَكَلَ كَتِفًا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ فَذَكَرَهُ. وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى الطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ، وَزَعَمُوا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ مَعْلُولٌ، ⦗٢٤٢⦘ وَفَتْوَاهُ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوُضُوءِ مِنْهُ، وَأَنَّ رِوَايَةَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَابْنَ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَقُرِّبَتْ لَهُ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ حَانَتِ الظُّهْرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ حَانَتِ الْعَصْرُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَيَرَوْنَ أَنَّ آخِرَ أَمْرَيْهِ أُرِيدَ بِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ يَرَوْنَ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ مَا يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ النَّاسِخَ إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْهُ.
(الف) سہیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تو وضو کیا اور (بھنا ہوا) کندھا کھایا، وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے تو ایک بھونی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی گئی۔ راوی کہتا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائی اور ہم نے بھی کھائی، پھر (نماز) ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی، پھر بچے ہوئے کھانے کی طرف واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا؛ پھر عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 725]
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے تو ایک بھونی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی گئی۔ راوی کہتا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائی اور ہم نے بھی کھائی، پھر (نماز) ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی، پھر بچے ہوئے کھانے کی طرف واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا؛ پھر عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 726
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنَ وَقْشٍ وَكَانَ آخِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَكُونُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَهُ: أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ، فَقَالَ لَهُ جُبَيْرَةُ أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دُعِينَا لَهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى وُضُوءٍ، ⦗٢٤٣⦘ فَأَكَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" بَلَى وَلَكِنِ الْأُمُورُ تَحْدُثُ وَهَذَا مِمَّا حَدَثَ". وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ فِيمَا.
سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہی آخری صحابی ہیں، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آخری نہیں تھے، کیونکہ وہ ان کے بعد بھی زندہ رہے۔ دونوں حضرات ولیمہ کے لیے گئے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ باوضو تھے۔ انہوں نے کھانا کھایا، پھر نکلے تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا۔ سیدنا جبیرہ نے ان سے کہا: کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ہم ایک دعوت سے نکلے جس میں ہمیں بلایا گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوضو تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر وضو کیا، میں نے ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن نئے احکام آتے رہتے ہیں اور یہ نیا حکم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الحاكم 3/473»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 727
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْهَيْثَمِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَهَبَتْ تِلْكَ فِي النَّاسِ، ثُمَّ أَخْبَرَنَا رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسَاءٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهَا وَاخْتُلِفَ فِي الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ مِنْهَا فَلَمْ نقِفْ عَلَى النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْهَا بِبَيَانٍ بَيِّنٍ نَحْكُمُ بِهِ دُونَ مَا سِوَاهُ فَنَظَرْنَا إِلَى مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ وَالْأَعْلَامُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذُوا بِإِجْمَاعِهِمْ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ بِالْحَدِيثِ الَّذِي يُرْوَى فِيهِ الرُّخْصَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(الف) سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے ہاتھ سے بکری کا کندھا کاٹ رہے تھے، پھر آپ نماز کی طرف بلائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اور چھری کو پھینک دیا، پھر کھڑے ہوئے، نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں فرمایا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بات لوگوں میں پھیل گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ مردوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کچھ عورتوں نے ہمیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اس چیز سے وضو کرو جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 727]
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بات لوگوں میں پھیل گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ مردوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کچھ عورتوں نے ہمیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اس چیز سے وضو کرو جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح