السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
192. -- باب: ترك المرأة نقض قرونها إذا علمت وصول الماء إلى أصول شعرها
-- باب: عورت کا اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کا بیان جب اسے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو
حدیث نمبر: 858
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَكَيْفَ أَصْنَعُ إِذَا اغْتَسَلْتُ؟ قَالَ:" احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِيهِ عَلَى أَثَرِ كُلِّ حَفْنَةٍ يَكْفِيكِ". وَرِوَايَةُ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ حَفِظَ فِي إِسْنَادِهِ مَا لَمْ يَحْفَظْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ.
سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل کروں تو کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے، پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار، تجھے کفایت کر جائیں گے۔“
ایوب بن موسیٰ کی روایت اسامہ بن زید کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، انہوں نے اس کی سند میں وہ چیز یاد رکھی جو اسامہ بن زید یاد نہ رکھ سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 858]
ایوب بن موسیٰ کی روایت اسامہ بن زید کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، انہوں نے اس کی سند میں وہ چیز یاد رکھی جو اسامہ بن زید یاد نہ رکھ سکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 858]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَعْبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُسَهُنَّ فَقَالَتْ:" يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُؤَسَهُنَّ، لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ جب وہ غسل کریں تو اپنے سروں کو کھولیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تعجب ہے ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے لیے کہ وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ وہ اپنے سروں کو منڈوا لیں۔ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو ڈالنے سے زیادہ نہیں کرتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 331»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 860
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُحِلَّاتٌ وَمُحْرِمَاتٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ہم غسل کرتی تھیں اور ہمارے اوپر لیپ ہوتا تھا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلال اور محرمہ ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 254»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:" وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ، وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ عَلَى أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا".
بکار بن یحییٰ اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ہم میں سے کوئی ایک جب غسل کرتی اور کنگھی کی ہوتی تو اسے کھولتی نہیں تھی، لیکن اپنے سر میں تین چلو پانی ڈال لیتی تھی۔ جب وہ بالوں کی جڑوں میں تری کو دیکھتی تو اسے مل لیتی، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا لیتی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 861]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 359»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِعُمْرَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَيْضِهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أَطْهُرْ بَعْدُ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ" فَقَالَتْ: فَفَعَلْتُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَهِيَ أَنِ اغْتَسَلَتْ لِلْإِهْلَالِ بِالْحَجِّ وَكَانَ غُسْلُهَا غُسْلًا مَسْنُونًا وَقَدْ أُمِرَتْ فِيهِ بِنَقْضِ رَأْسِهَا وَامْتِشَاطِ شَعْرِهَا وَكَأَنَّهَا أُمِرَتْ بِذَلِكَ اسْتِحْبَابًا كَمَا أُمِرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالْغُسْلِ لِلْإِهْلَالِ عَلَى النِّفَاسِ اسْتِحْبَابًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرے کا احرام باندھا، پھر وہ اپنے حیض والی حدیث بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کا دن ہے میں اس کے بعد پاک نہیں ہوئی، میں نے عمرے سے فائدہ اٹھایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کر اور حج کا احرام باندھ اور عمرے سے رک جا۔“ انہوں نے کہا: میں نے ایسے ہی کیا۔
(ب) ان کا غسل حج کے تلبیہ کے لیے تھا اور غسل مسنون تھا، اس میں انہیں سر کھولنے اور کنگھی کرنے کا حکم مستحب تھا۔ جیسے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس میں غسل کا حکم مستحب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 862]
(ب) ان کا غسل حج کے تلبیہ کے لیے تھا اور غسل مسنون تھا، اس میں انہیں سر کھولنے اور کنگھی کرنے کا حکم مستحب تھا۔ جیسے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس میں غسل کا حکم مستحب تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 862]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 310»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اغْتَسَلَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ حَيْضِهَا نَقَضَتْ شَعْرَهَا، وَغَسَلَتْ بِالْخِطْمِيِّ وَالْأُشْنَانِ، وَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ لَمْ تَنْقُضْ رَأْسَهَا، وَلَمْ تَغْسِلْ بِالْخِطْمِيِّ وَالْأُشْنَانِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے حیض سے غسل کرے تو اپنے بالوں کو کھولے اور خطمی اور اشنان بوٹی سے دھوئے اور جب غسل جنابت کرے تو اپنے سر کو نہ کھولے اور نہ اس کو خطمی اور اشنان بوٹی سے دھوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 863]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
193. -- باب: غسل الجنب رأسه بالخطمي
-- باب: جنبی کا خطمی (بال دھونے والی جڑی بوٹی) سے اپنا سر دھونے کا بیان
حدیث نمبر: 864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ سُوَاءَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ فَمَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْمَاءُ غَالِبًا عَلَى الْخِطْمِيِّ وَكَانَ غَسْلُ رَأْسِهِ بِنِيَّةِ الطَّهَارَةِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَكَذَلِكَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے تھے تو یہی کفایت کرجاتا تھا اور اس پر پانی نہیں بہاتے تھے۔
(ب) یہ روایت اگر ثابت ہو تو اس پر محمول ہے کہ جب خطمی بوٹی پانی پر غالب ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر غسل جنابت کی نیت سے دھوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 864]
(ب) یہ روایت اگر ثابت ہو تو اس پر محمول ہے کہ جب خطمی بوٹی پانی پر غالب ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر غسل جنابت کی نیت سے دھوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 864]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 256»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 865
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ⦗٢٨٢⦘ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:" إِذَا غَسَلَ الْجُنُبُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ فَلَا يَعْدِلُهُ غُسْلًا". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حارث بن ازمع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: جب جنبی اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوئے تو اس کو غسل شمار نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير 9257»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 866
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَهُوَ جُنُبٌ فَقَدْ أَجْزَأَ، وَلْيَغْسِلْ سَائِرَ جَسَدِهِ". وَخَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ. فَرَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ شَيْبَانَ. كَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ يَعْقُوبُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: الْحَدِيثُ حَدِيثُ سُفْيَانَ. وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" كَانُوا يَغْسِلُونَ رُءُوسَهُمْ بِالسِّدْرِ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَمْكُثُ أَحَدُهُمْ سَاعَةً، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ".
عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوئے اور وہ جنبی ہو تو یہ اس کو کفایت کر جائے گا اور پھر وہ اپنے سارے جسم کو دھوئے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیثِ سفیان سب سے قوی ہے۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو جنابت کی وجہ سے بیری کے پتوں سے دھوتے تھے، پھر کچھ دیر کے لیے رک جاتے، پھر غسلِ جنابت کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 866]
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیثِ سفیان سب سے قوی ہے۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو جنابت کی وجہ سے بیری کے پتوں سے دھوتے تھے، پھر کچھ دیر کے لیے رک جاتے، پھر غسلِ جنابت کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه البخاري في تاريخه 4/207»
الحكم على الحديث: ضعيف
194. -- باب: الطيب للمرأة عند غسلها من الحيض
-- باب: حیض کے غسل کے وقت عورت کے لیے خوشبو استعمال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْحَيْضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَقَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَتْ: فَاسْتَتِرِي يَعْنِي هَكَذَا. وَحَكَى أَبُو عُثْمَانَ يَعْنِي سَعْدَانَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ. قَالَ: وَحَكَى سُفْيَانُ فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاجْتَذَبْتُهَا إِلِيَّ فَقُلْتُ: تَتْبَعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ، وَالرُّوذْبَارِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرُهُمَا حِكَايَةَ أَبِي عُثْمَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ تو کس طرح غسل کرے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کستوری کا ایک پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔“ اس نے کہا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے طہارت حاصل کر۔“ اس نے کہا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر پردہ کر“ یعنی اس طرح، اور سعدان نے اس کی وضاحت چار انگلیوں سے بیان کی اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! اس سے طہارت حاصل کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچا اور کہا: اس کو خون کے نشان پر رکھ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 308»
الحكم على الحديث: صحيح