السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
189. -- باب: فرض الغسل
-- باب: غسل کے فرائض کا بیان
حدیث نمبر: 848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جَعَلَ الصَّلَاةَ خَمْسًا، وَغُسْلَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً، وَغَسْلَ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِيمَا حُكِيَ عَنْهُ: فَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَبُلُّوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ" فَإِنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ يَعْنِي.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور غسلِ جنابت سات بار تھا اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا سات بار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نمازیں پانچ اور غسلِ جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا ایک مرتبہ مقرر کردیا گیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا بالوں کو تر کرو اور جلد کو صاف کرو“۔
یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 848]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا بالوں کو تر کرو اور جلد کو صاف کرو“۔
یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 247»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 849
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَبُلُّوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ". تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ فَقَالَ: لَيْسَ حَدِيثُهُ بِشَيْءٍ وَأَنْكَرَهُ غَيْرُهُ أَيْضًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ: الْبُخَارِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُمَا. وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا. وَعَنِ النَّخَعِيِّ كَانَ يُقَالُ، ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ وَغَيْرِهِ ⦗٢٧٧⦘ عَنْهُ عَلَى مَا ظَهَرَ. وَدَاخِلُ الْأَنْفِ وَالْفَمِ مِمَّا بَطَنَ فَأَشْبَهَ دَاخِلَ الْعَيْنَيْنِ وَدَاخِلَ الْأُذُنَيْنِ فَقَالَ مَنْ تَكَلَّمَ فِيهَا مَعَ الشَّافِعِيِّ: الْقِيَاسُ أَنْ لَا يُعِيدَ وَلَكِنَّا أَخَذْنَا بِالْأَثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، بالوں کو تر کرو اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔“
(ب) اس کو اس طرح بیان کرنے میں حارث بن وجیہ منفرد ہیں، اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے حارث بن وجیہ کے متعلق کہا: اس کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔
(ج) محدثین میں سے امام بخاری رحمہ اللہ، امام ابوداؤد رحمہ اللہ اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ظاہری حصے پر محمول کیا ہے، اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ پوشیدہ اعضاء میں سے ہے، لہٰذا یہ آنکھوں اور کانوں کے اندرونی حصے کے مشابہ ہے۔ جس نے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا اس نے کہا: قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر کو لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 849]
(ب) اس کو اس طرح بیان کرنے میں حارث بن وجیہ منفرد ہیں، اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے حارث بن وجیہ کے متعلق کہا: اس کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔
(ج) محدثین میں سے امام بخاری رحمہ اللہ، امام ابوداؤد رحمہ اللہ اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ظاہری حصے پر محمول کیا ہے، اور ناک اور منہ کا اندرونی حصہ پوشیدہ اعضاء میں سے ہے، لہٰذا یہ آنکھوں اور کانوں کے اندرونی حصے کے مشابہ ہے۔ جس نے امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا اس نے کہا: قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر کو لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 850
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْبَاطُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا يُعِيدُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا. يَعْنِي الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لِعَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَثَرُهُ الَّذِي يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْأَثَرَ ثَابِتٌ يُتْرَكُ لَهُ الْقِيَاسُ وَهُوَ يَعِيبُ عَلَيْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانُ، وَعَائِشَةُ غَيْرُ مَعْرُوفَيْنِ بِبَلَدِهِمَا، وَكَيْفَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يُثَبِّتَ ضَعِيفًا مَجْهُولًا، وَيُوَهِّنَ قَوِيًّا مَعْرُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَيْسَ بِحُجَّةٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا، یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی اس حدیث کے علاوہ کوئی روایت نہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کو لیں۔
(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ کسی کے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ ضعیف مجہول کو ثابت قرار دے اور قوی معروف کو کمزور کہے۔ شیخ کہتے ہیں: اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 850]
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی اس حدیث کے علاوہ کوئی روایت نہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کو لیں۔
(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ کسی کے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ ضعیف مجہول کو ثابت قرار دے اور قوی معروف کو کمزور کہے۔ شیخ کہتے ہیں: اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/115»
الحكم على الحديث: ضعيف
190. -- باب: ترك الوضوء بعد الغسل
-- باب: غسل کے بعد وضو ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَغْتَسِلُ، ثُمَّ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، وَلَا أَرَى يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے تھے، پھر صبح کی دو رکعتیں ادا کرتے تھے اور میرا خیال نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد نیا وضو کرتے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 250»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 107»
الحكم على الحديث: صحيح
191. -- باب: غسل المرأة من الجنابة والحيض
-- باب: عورت کے جنابت اور حیض سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مُطَرِّزٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَخْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ تَعْنِي بِنْتَ شَكَلٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ، وَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً تَطَّهَّرُ بِهَا"، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟، قَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي" قَالَتْ عَائِشَةُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِكِ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ". وَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ وَيَتَفَقَّهْنَ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ كَذَا فِي كِتَابِنَا شُئُونُ، وَأَهْلُ اللُّغَةِ يَقُولُونَ: سُورٌ أَوْ شِوًى، قَالُوا: سُورُهُ أَعْلَاهُ وِشوَاهُ جِلْدُهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل رضی اللہ عنہا نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ اچھی طرح طہارت حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال اور اچھی طرح اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈال، پھر خوشبو لگا ہوا روئی کا پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: میں اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ اس سے طہارت حاصل کر اور پردہ کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کو خون کے نشان پر لگا اور اس نے جنابت کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی لے اس سے اچھی طرح طہارت حاصل کر اور اس کو (اچھی طرح جلد تک) پہنچا، پھر اپنے سر پر پانی ڈال پھر اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈال لے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بہترین عورتیں انصار کی عورتیں ہیں ان کو حیا نہیں روکتی کہ وہ دین کے متعلق سوال کریں اور اس کو سمجھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 332»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ صَدَقَةٍ، ثنا جَمِيعُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخُو بَنِي تَيْمِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْهَا إِحِدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ ⦗٢٧٩⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ".
جمیع بن عمیر «أَخُو بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ» ”بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے بھائی“ ہیں، فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، ان دونوں میں سے ایک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ غسل کے وقت آپ کس طرح کرتی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے اور ہم اپنے سروں پر مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ مرتبہ پانی ڈالتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه ابو داؤد 241»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" خَلِّلْهَا بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلْهَا نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا". رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ:" خَلِّلِي رَأْسَكِ بِالْمَاءِ، لَا تَخَلَّلْهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی سے خلال کرو، اگر خلال نہ کیا تو تھوڑی جگہ بھی آگ میں جانے کا سبب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 1148»
الحكم على الحديث: صحيح
192. -- باب: ترك المرأة نقض قرونها إذا علمت وصول الماء إلى أصول شعرها
-- باب: عورت کا اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کا بیان جب اسے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو
حدیث نمبر: 856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي - أَوْ قَالَتْ - عَقْصَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِلْجَنَابَةِ وَالْحَيْضَةِ، قَالَ:" لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تُفْرِغِي عَلَيْكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ قَدْ طَهُرْتِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی مینڈھیوں کو سختی سے باندھتی ہوں یا فرمایا: کیا اپنے سر کی لٹوں کو میں حیض اور جنابت (سے غسل) کے لیے کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! یہی کافی ہے کہ اپنے اوپر تین چلو پانی ڈال لو، پھر یقیناً تو پاک ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 330»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 857
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ⦗٢٨٠⦘ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَكَيْفَ أَصْنَعُ حِينَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِي أَثَرَ كُلِّ حَفْنَةٍ" وَقَصَّرَ بِإِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْهُ أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَذَلِكَ.
سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، اس نے کہا: میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل جنابت کروں تو کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارمي 1157»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره