🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
308. -- باب: مباشرة الحائض فيما فوق الإزار وما يحل منها وما يحرم
-- باب: تہبند کے اوپر سے حائضہ کے ساتھ مباشرت (جسمانی ملاپ) کرنے اور اس سے حلال اور حرام ہونے والے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1493
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلَى الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ فَأَصَابَهَا الْحَيْضُ فَقَالَ لَهَا:" قَوْمِي فَاتَّزِرِي ثُمَّ عُودِي".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں لیٹی ہوئی تھیں، انہیں حیض آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑی ہو، لنگوٹ باندھ، پھر واپس لوٹ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 6/323»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟" فَقُلْتُ: حِضْتُ فَقَالَ:" شُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ، ثُمَّ ادْخُلِي" وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی، میں کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں حیض والی ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا لنگوٹ باندھ، پھر میرے پاس آ جا۔ (ب) امام مالک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت نقل کی ہے۔
(ج) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 6/184»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: وَأَنَا عَارِكٌ كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّزِرِي بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ" ثُمَّ يُبَاشِرُنِي لَيْلًا طَوِيلًا قُلْتُ: أَكَانَ يَأْكُلُ مَعَكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: إِنْ كَانَ لَيُنَاوِلُنِي الْعَرْقَ فَأَعَضُّ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ مِنِّي فَيَعَضُّ مَكَانَ الَّذِي عَضَضْتُ مِنْهُ قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ شَرَابِكِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فِيَّ فَيَشْرَبُ".
مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے مباشرت کرتے تھے جب آپ حائضہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ابوبکر کی بیٹی! اپنا لنگوٹ باندھ لے۔ پھر لمبی رات مجھ سے مباشرت کرتے رہتے۔ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھ کھاتے تھے جب آپ حائضہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہڈی دیتے، میں اس سے چوستی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پکڑتے تو آپ اس جگہ سے چوستے تھے جہاں سے میں نے چوسا ہوتا تھا۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پیے ہوئے میں سے پیتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو برتن دیتے، میں پیتی، پھر آپ اسے پکڑ لیتے اور اسی جگہ پر منہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 279»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كُنْتُ ⦗٤٦٦⦘ لَأَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ فَيَضَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي شَرِبْتُ مِنْهُ وَآخُذُ الْعَرْقَ فَانْهَشَ مِنْهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي نَهَشْتُ مِنْهُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمِسْعَرٍ عَنِ الْمِقْدَامِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں پیالے سے پانی پیتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر منہ رکھتے تھے جس جگہ سے میں نے پیا ہوتا تھا اور میں ہڈی کو پکڑتی، میں اسے نوچتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر اپنا منہ رکھتے تھے جہاں سے میں نے نوچا ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه مسلم 300»

الحكم على الحديث: صحيح أخرجه مسلم 300
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں ٹیک لگاتے اور میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 293»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ الْإِزَارُ".
یزید بن بابنوس سے روایت ہے کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے اور میرے سر کو چھوتے تھے حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور مجھ پر چادر ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنْهُ سَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ:" لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ" قَالَ: وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَمُّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَقِيلَ حَرَامُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
حرام بن حکیم اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے لیے میری بیوی سے کیا حلال ہے جب وہ حائضہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ازار سے اوپر تک۔ انہوں نے کہا: اسی طرح حائضہ کے ساتھ کھانے کا ذکر بھی فرمایا۔ اس کے چچا عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث بیان کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حرام بن معاویہ اپنے چچا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 1212»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: أَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا نَسْأَلُ عَنْ ثَلَاثٍ قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالُوا: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا مَا هِيَ، وَمَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ عُمَرُ:" أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟" قَالُوا: لَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ ⦗٤٦٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُنَّ قَبْلَكُمْ أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ نُورٌ فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ، وَأَمَّا الْحَائِضُ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَلَيْسَ لَهُ مَا تَحْتَهُ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى يَسَارِكَ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَدْلُكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ ثُمَّ تَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِكَ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے ایک گروہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ سے تین سوال کرنے آئے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اس کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے جب وہ حائضہ ہو اور جنابت کے غسل کے متعلق پوچھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جادوگر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اے امیر المؤمنین! ہم جادوگر نہیں ہیں انہوں نے کہا تم نے تین چیزوں کے متعلق سوال کیا، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے، مجھ سے کسی نے بھی ان کے متعلق سوال نہیں کیا، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، اپنے گھر کو روشن کر جتنی تو طاقت رکھتا ہے اور حائضہ سے چادر کے اوپر تک، تیرے لیے اس سے نیچے حلال نہیں ہے اور جنابت کا غسل اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر، اپنی شرمگاہ کو دھو اور جو چیز اس کو لگی ہے (اسے دور کر) پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال، ہر مرتبہ اپنے سر کو مل، پھر اپنے سارے جسم کو دھو لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 987»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
309. -- باب: الرجل يصيب من الحائض ما دون الجماع
-- باب: آدمی کا حائضہ سے جماع کے علاوہ لطف اندوز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ" فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا" لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَيَفْعَلُوا مَا شَاءُوا إِلَّا الْجِمَاعَ وَذَكَرَ الْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی عورت جب حائضہ ہوتی تو اس کو گھر سے نکال دیتے، نہ اس کے ساتھ مل کر کھاتے اور نہ پیتے تھے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (حائضہ) کے متعلق سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] آخر تک نازل فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے ساتھ گھروں میں رہو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو۔ یہود نے کہا: یہ شخص ہمارے کسی معاملے کو نہیں چھوڑتا، اس میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، کیا حیض کے دنوں میں ہم ان سے جماع نہ کرلیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر غصہ کیا ہے، وہ دونوں نکل گئے پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ہدیہ بھیجا، آپ نے ان کے پیچھے کسی کو بھیجا اور انہیں دودھ پلایا، تب ہمیں یقین ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔
(ب) ابوداؤد طیالسی کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں اور پئیں اور گھروں میں رہیں اور جماع کے علاوہ جو مرضی کریں، باقی حدیث اسی کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 302»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1502
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَابْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ".
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے مباشرت کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی تھیں، ان پر ازار ہوتا تھا جو نصف ران یا گھٹنوں تک ہوتا تھا، وہ اس سے لپٹی ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 267»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں