السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
302. -- باب: الحائض لا تصلي ولا تصوم
-- باب: حائضہ نماز پڑھے گی نہ روزہ رکھے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَضْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزْرَةُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَمُّويَهْ أَبُو سِنَانٍ الْبَلْخِيُّ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى أَوِ الْفِطْرِ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا" ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ" فَقُلْنَ: وَلَمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبُ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ" فَقُلْنَ لَهُ: وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِنَا وَدِينِنَا؟ قَالَ:" أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ نِصْفِ شَهَادَةُ الرَّجُلِ؟" قُلْنَ: بَلَى قَالَ:" فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ ⦗٤٦٠⦘ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟" قُلْنَ: بَلَى قَالَ:" فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر کو عید گاہ کی طرف نکلے، پھر نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو نصیحت کی اور ان کو صدقے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! صدقہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس عورتوں کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، میں نے تمہاری اکثریت کو آگ میں دیکھا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اکثر لعن طعن کرتی رہتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی رہتی ہو، میں نے نہیں دیکھا کہ کم عقل اور کم دین والی عقلمند آدمی کی عقل کو لے جاتی ہوں مگر تمہیں اے عورتوں کی جماعت۔“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہماری عقل اور دین کا کیا نقصان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری عقل کا نقصان ہے، اور کیا ایسا نہیں کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے دین کا نقصان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1393»
الحكم على الحديث: صحيح
303. -- باب: الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة
-- باب: حائضہ روزوں کی قضا دے گی اور نمازوں کی قضا نہیں دے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ لَهَا: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُكِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ" قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَاصِمٍ وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ أَيُّوبَ.
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: ”کیا حائضہ روزے کی قضا کرے گی اور نماز کی قضا نہیں کرے گی؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تو حروریہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میں حروریہ نہیں ہوں، لیکن میں نے آپ سے سوال کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم کو (حیض) پہنچتا تھا تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 351»
الحكم على الحديث: صحيح
304. -- باب: الحائض لا تطوف بالبيت
-- باب: حائضہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1476
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهُ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنَفِسْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلُّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ" قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَتْ: ضَحَّى بِالْبَقَرِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ ہم ”سرف“ جگہ یا اس کے قریب تھے تو مجھے حیض آ گیا، میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟ کیا تو حیض والی ہو گئی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسا حکم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، جو حاجی کرتے ہیں وہی کر مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا یا گائے ذبح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 290»
الحكم على الحديث: صحيح
305. -- باب: الحائض لا تدخل المسجد ولا تعتكف فيه
-- باب: حائضہ مسجد میں داخل نہیں ہو گی اور نہ اس میں اعتکاف کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلِيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُرْوَةَ، وَفِي حَدِيثِ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ الْحُيَّضِ أَنْ تَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے میری طرف اپنا سر نکالتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک دھوتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ (ب) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو حکم دیا کہ ”مسلمانوں کی نماز سے علیحدہ رہیں۔“ یہ حدیث کتاب العیدین میں آئے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
306. -- باب: الحائض لا تمس المصحف ولا تقرأ القرآن
-- باب: حائضہ قرآن مجید کو نہیں چھوئے گی اور نہ ہی قرآن پڑھے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1478
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ:" وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ" أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَرِهَ لِلْحَائِضِ مَسَّ الْمُصْحَفِ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک خط لکھا، جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا اور عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو ان احکامات کے ساتھ بھیجا۔۔۔ اس میں ہے کہ ”قرآن کو صرف پاک شخص ہی چھوئے۔“ اس کے علاوہ دوسروں نے اس کو مرسل بیان کیا ہے۔ اللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1479
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقْرَأِ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ" لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہیں پڑھیں گے“ (یہ روایت قوی نہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو هُوَ الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ عَنِ الْجُنُبِ وَالنُّفَسَاءِ، وَالْحَائِضِ، فَقَالَ:" لَمْ يُرَخَّصْ لَهُمْ أَنْ يَقْرَءُوا مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا" ⦗٤٦٢⦘ وَرُوِّينَاهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي الْعَالِيَةِ وَالنَّخَعِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ.
ہم کو اوزاعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ زہری رحمہ اللہ سے جنبی، نفاس والی اور حائضہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ان کو رخصت نہیں دی گئی کہ وہ قرآن مجید سے کچھ پڑھیں۔ ایک روایت میں حائضہ کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ وہ قرآن نہیں پڑھے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
307. -- باب: الحائض لا توطأ حتى تطهر وتغتسل
-- باب: حائضہ سے صحبت نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے اور غسل کر لے اس کا بیان
حدیث نمبر: Q1481
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: 222] وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقِيلَ وَاللهُ أَعْلَمُ يَطْهُرْنَ مِنَ الْمَحِيضِ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ.
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 222] ”تم ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک صاف ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يَطْهُرْنَ» کہا گیا یعنی حیض سے پاک ہوجائیں، «فَإِذَا تَطَهَّرْنَ» یعنی جب پانی سے طہارت حاصل کرلیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: Q1481]
حدیث نمبر: 1481
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {اعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} يَقُولُ:" اعْتَزِلُوا نِكَاحَ فُرُوجِهِنَّ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: إِذَا تَطَهَّرْنَ مِنَ الدَّمِ وَتَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ {فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: فِي الْفَرْجِ وَلَا تَعَدَّوْا إِلَى غَيْرِهِ فَمَنْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَقَدِ اعْتَدَى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی شرمگاہوں میں جماع کرنے سے الگ رہو۔ اور ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے بارے میں فرماتے ہیں: جب وہ خون سے پاک ہو جائیں اور پانی سے خوب طہارت حاصل کر لیں۔ پھر ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق کہتے ہیں: شرمگاہ میں اور اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرو، جس نے (اس کے علاوہ) کچھ کیا اس نے حد سے تجاوز کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبري 2/392»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمُ {فَإِذَا تَطَهَّرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] قَالَ: يَقُولُ: إِذَا اغْتَسَلْنَ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق فرماتے ہیں: جب تک خون ختم نہ ہو جائے، اور ﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق کہتے ہیں کہ جب وہ غسل کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح