السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
543. -- باب: يجافي مرفقيه عن جنبيه
-- باب: اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2710
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَجَدَ تَجَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے بازو کھولے ہوئے ہوتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2711
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ".
سیدنا احمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس آتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے دوران اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے بہت دور رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن سعد 7/ 47۔ في الطبقات، وابن ابي شيبة 2641»
الحكم على الحديث: صحيح
544. -- باب: يفرج بين رجليه ويقل بطنه عن فخذيه
-- باب: اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان فاصلہ رکھے اور اپنا پیٹ اپنی رانوں سے بلند (دور) رکھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي إِسْنَادِهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
عباس بن سہل ساعدی، ابوحمید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ٹانگوں کو کھلا رکھا اور اپنے پیٹ کو رانوں سے جدا رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ، وَلْيَضُمَّ فَخِذَيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنَ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَلَعَلَّ التَّفْرِيجَ أَشْبَهُ بِهَيْئَةِ السُّجُودِ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے اور اپنی رانوں کو ملا کر رکھے۔“
(ب) ٹانگوں کو جدا رکھنا سجدے کے زیادہ مناسب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2713]
(ب) ٹانگوں کو جدا رکھنا سجدے کے زیادہ مناسب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ" أَنَّهُ وَصَفَ السُّجُودَ فَبَسَطَ يَدَيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَخَوَّى وَقَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سجدے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اپنی پشت کو اوپر اٹھائے رکھا اور پیٹ کو زمین سے اور بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھا اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدہ کیا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهما فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْقُعُودِ لِلْحَاجَةِ، وَفِيهِ: ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي وَاللهِ قَالَ: يَعْنِي" الَّذِي يَسْجُدُ وَلَا يَرْتَفِعُ عَنِ الْأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لَاصِقٌ بِالْأَرْضِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کے بارے میں مکمل حدیث منقول ہے۔ اس میں انہوں نے فرمایا کہ شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنی رانوں پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا: ان کی مراد وہ شخص ہے جو سجدے میں زمین سے اوپر اٹھا ہوا نہیں ہوتا، یعنی وہ زمین کے ساتھ چمٹ کر سجدہ کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2716
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ،" لَا يَسْجُدَنَّ أَحَدُكُمْ مُوَرِّكًا وَلَا مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا أَحْسَنَ السُّجُودَ سَجَدَتْ عِظَامُهُ كُلُّهَا".
شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سرین یا کولہے پر سہارا لے کر ہرگز سجدہ نہ کرے اور نہ ہی لیٹ کر سجدہ کرے، کیونکہ جب آدمی اچھی طرح سجدہ کرتا ہے تو اس کی ساری ہڈیاں سجدہ کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2942»
الحكم على الحديث: صحيح
545. -- باب: ينصب قدميه ويستقبل بأطراف أصابعهما القبلة
-- باب: اپنے دونوں قدم کھڑے رکھے اور ان کی انگلیوں کے سروں کا رخ قبلہ کی طرف رکھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ:" وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ.
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک مجلس میں موجود تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا تو ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو یاد کرنے والا ہوں، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ نے سجدہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو اس طرح رکھا کہ نہ زیادہ پھیلے ہوئے تھے اور نہ ہی بالکل ملے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے بھی قبلہ رخ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 828»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْأَخْرَمُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ... الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ" هَوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، ثُمَّ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبِطَيْهِ وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ".
ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے، اس میں محمد بن عمرو بن عطا سے منقول ہے کہ میں نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔“ پھر مکمل حدیث ذکر کی، اس میں یہ ہے کہ ”پھر سجدے کے لیے زمین کی طرف جھکے اور اپنے بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھا اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
546. -- باب: ما جاء في ضم العقبين في السجود
-- باب: سجدے میں دونوں ایڑیوں کو ملانے کے حوالے سے وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرْسُوسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ⦗١٦٨⦘ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ" فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِيَ عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ" فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَخْذَكِ شَيْطَانُكِ؟" فَقُلْتُ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ؟ فَقَالَ:" مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا لَهُ شَيْطَانٌ" فَقُلْتُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، لَكِنِّي دَعَوْتُ اللهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میرے بستر پر تھے، رات کو میں نے آپ کو گم پایا۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں۔ آپ کی ایڑیاں مضبوطی سے ملی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کنارے آپ نے قبلہ رخ کر رکھے تھے۔ میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِي عَلَيْكَ لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ» ”میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری معافی کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری ثنا کرتا ہوں، میں تیری تمام خوبیوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے عائشہ! تجھے تیرے شیطان نے پکڑ لیا ہے۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرے ساتھ بھی تھا، لیکن میں نے اللہ سے اس کے بارے میں دعا کی تو اللہ نے اسے میرا مطیع کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه غير واحد عن عائشه»
الحكم على الحديث: صحيح