🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
553. -- باب: الإقعاء المكروه في الصلاة
-- باب: نماز میں اس اقعاء کا بیان جو مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا السَّالَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ" تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ حَمَّادٍ، وَبَحْرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى أَصَحُّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں اقعاء اور تورک کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
یہ روایت حماد بن سلمہ سے صرف یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے بیان کی ہے، اور ان سے حماد اور بحر بن کثیر کے واسطے سے قتادہ عن انس کی سند سے بھی منقول ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2741
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ، أَمَرَنِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَنَهَانِي عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ الْتِفَاتَ الثَّعْلَبِ، وَأُقْعِي إِقْعَاءَ الْقِرْدِ، وَأَنْقُرُ نَقْرَ الدِّيكِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین کاموں سے منع کیا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اور وتر پڑھ کر سونے اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے نماز میں لومڑی کی طرح جھانکنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدمت له شواهد في رقم 2727»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2742
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَزَّانُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ" الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَكَذَلِكَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی!۔۔۔“ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سجدوں کے درمیان «الإِقْعَاءَ» نہ کرنا۔“
حارث اعور (کی روایت) سے دلیل نہیں لی جاتی، اور اسی طرح لیث بن ابی سلیم سے بھی، جبکہ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ حَكَى، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ قَالَ:" الْإِقْعَاءُ وَهُوَ أَنْ يَلْصَقَ إِلْيَتَيْهِ بِالْأَرْضِ وَيَنْتَصِبَ عَلَى سَاقَيْهِ وَيَضَعَ يَدَيْهِ بِالْأَرْضِ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْإِقْعَاءُ جُلُوسُ الْإِنْسَانِ عَلَى إِلْيَتَيْهِ نَاصِبًا فَخِذَيْهِ مِثْلَ إِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالسَّبُعِ" قَالَ الشَّيْخُ:" وَهَذَا النَّوْعُ مِنَ الْإِقْعَاءِ غَيْرُ مَا رُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ" يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى" ⦗١٧٤⦘ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَارِدًا فِي الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ، فَلَا يَكُونَ مُنَافِيًا لِمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَفِي الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ «اِقْعَاء» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہوں۔
(ج) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اِقْعَاء» کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں نقل کرچکے ہیں، بلکہ یہاں پر جو «اِقْعَاء» ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایات میں ہے، وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”شیطان کی چوکڑی“ سے منع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے، تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشہد میں ہوں، تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
554. -- باب: المكث بين السجدتين
-- باب: دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ، حَدَّثَهُمْ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ:" لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَعَدَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: قَدْ نَسِيَ" لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ.
ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں اسی طرح آپ کو نماز پڑھاتا ہوں، اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نماز میں جو کرتے تھے میں تمہیں وہ کرتے نہیں دیکھ رہا، وہ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ گمان ہوتا شاید بھول گئے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان جب جلسہ فرماتے تو اتنی دیر بیٹھے رہتے کہ گمان ہوتا شاید بھول گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 821»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صِفَةِ صَلَاتِهِ، وَقَالَتْ: كَانَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب۔۔۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقہ میں مکمل حدیث بیان کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 823»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينَ صَلَاةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيْئَةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيْئَةً، ثُمَّ سَجَدَ" ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: صَلَّى صَلَاةَ شَيْخِنَا هَذَا، يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ عَمْرٌو يَصْنَعُ شَيْئًا لَا ⦗١٧٥⦘ أَرَى النَّاسَ يَصْنَعُونَهُ، كَانَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ السَّجْدَتَيْنِ فِي الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُومُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ.
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نہ بتلاؤں؟“ اس وقت فرض نماز کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ کھڑے ہوئے، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر دوسرا سجدہ کیا۔
ابوقلابہ کہتے ہیں: انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی طرح نماز پڑھی۔
ایوب کہتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے اٹھتے تو سیدھے بیٹھ جاتے تھے، پھر اس کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 819»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهَا وَذَكَرَ السُّجُودَ قَالَ: ثُمَّ" رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ".
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ ابو حمید، ابو اسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم جمع تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کر رہے تھے۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے مکمل طریقہ ذکر کیا، جب سجدے کا ذکر کیا تو فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) سجدے سے اپنا سر اٹھایا حتیٰ کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ آ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2748
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو:" أَلَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ فَقُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ، وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا".
ابو عبداللہ سالم سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں اس طرح نماز پڑھوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے؟“ تو ہم نے کہا: ”کیوں نہیں! ضرور دکھائیے۔“ چنانچہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنی انگلیاں اپنے گھٹنوں کے ارد گرد رکھیں اور اپنی بغلوں کو بھی کشادہ رکھا حتیٰ کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر سجدہ کیا تو بھی اپنے بازوؤں کو کشادہ رکھا، یہاں تک کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی، پھر بیٹھے تو اسی طرح اطمینان سے کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر رک گیا، پھر اسی طرح چاروں رکعتوں میں کیا اور اس کے بعد فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اور اسی طرح آپ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
555. -- باب: ما يقول: بين السجدتين
-- باب: دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھا جائے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2749
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ، شُعْبَةُ يَرَى أَنَّهُ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:" رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَجَلَسَ بِقَدْرِ سُجُودِهِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان ” «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، اے اللہ! مجھے بخش دے“”کہتے اور جلسہ سجدے کے برابر ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں