السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
597. -- باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٢٣٥⦘ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، فَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟" فَقَالَ: بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ:" فَلَا وَأَنَا أَقُولُ: مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز سے تاخیر ہوگئی تو ابو نعیم موذن (جس نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان دی) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اتنے میں عبادہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے ابو نعیم کے پیچھے نیت باندھ لی۔ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورہ فاتحہ (آہستہ آواز میں) پڑھنی شروع کردی۔ جب وہ نماز پڑھ چکے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت مشکل ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو رخِ انور ہماری طرف کر کے گویا ہوئے: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم بھی قراءت کرتے ہو؟“ ہم میں سے بعض نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله فانه لا صلواة الا بام القرآن وقد تقدم التفصيل في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2918]
حدیث نمبر: 2919
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودٍ أَبِي نُعَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ مَعِي؟" قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ فَذَكَرَهُ وَهَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا الْمُؤَذِّنُ وَالْإِمَامُ كَانَ أَبَا نُعَيْمٍ وَالْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ، وَعَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عُبَادَةَ، فَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، أَظُنُّهُ قَالَ خَطَأً، إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنَ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا حَرَامُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ.
ابو نعیم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نماز میں میرے ساتھ پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2919]
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2920
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، وَأَبُو زَرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا صَدَّقَةُ بْنُ خَالِدٍ ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ كَذَا قَالَ: إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ الْقِرَاءَةَ؟" قُلْنَا: ⦗٢٣٦⦘ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ".
نافع بن محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا اور ابو نعیم (دوران جماعت بطور امام) اونچی قراءت کر رہے تھے۔ نافع کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں نے آپ کو نماز میں کچھ پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ کو ام القرآن پڑھتے سنا ہے، حالانکہ ابو نعیم اونچی قراءت کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا ہے ہی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم میں سے کوئی قراءت کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورۃ فاتحہ کے سوا قرآن میں سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2920]
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد تقدم تفصيل ذالك»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2921
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ: وَكَانَ عَلَى إِيلِيَاءَ فَأَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الصَّلَاةَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَجِئْتُ مَعَ عُبَادَةَ حَتَّى صَفَّ مَعَ النَّاسِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقَرَأَ عُبَادَةُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى فَهِمْتُهَا مِنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَاةِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ" وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَوَاهِدُ.
نافع بن محمود انصاری سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبادہ رضی اللہ عنہ ایلیا میں تھے، آپ صبح کی نماز میں پیچھے رہ گئے تو ابونعیم نے نماز کھڑی کردی۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان کہی۔ میں سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ آپ لوگوں کے ساتھ آکر صف میں شامل ہوگئے۔ ابونعیم اونچی آواز سے قراءت کر رہے تھے اور عبادہ رضی اللہ عنہ سورہ فاتحہ کی قراءت (آہستہ) کر رہے تھے، مجھے سمجھ آرہی تھی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری نماز پڑھائی تو فرمایا: ”جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔“
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2921]
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد تقدم الكلام عليه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2922
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ لَفْظًا ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ" قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
محمد بن ابی عائشہ رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تم بھی قراءت کرتے ہو جبکہ امام قراءت کر رہا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، مگر تم میں سے ہر ایک سورۂ فاتحہ ضرور پڑھے۔“
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2922]
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث: «منكر۔ قال ابن القيم في (تهذيب سنن ابي داود) 826»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2923
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَتَقْرَءُونَ فِي صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟" فَسَكَتُوا، فَقَالَ لَهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ:" لَا تَفْعَلُوا لِيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو (ہماری طرف) متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم اپنی نمازوں میں قرأت کرتے ہو؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار پوچھا تو کسی نے کہا: ”ہم ایسے ہی کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ پڑھا کرو، صرف تم میں سے ہر ایک سورۃ فاتحہ اپنے دل میں پڑھ لیا کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الفوائد المعلله 102»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2924
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ عَنْ أَنَسٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّ هَذَا إِنَّمَا يُعْرَفُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ.
ایضاً۔
انس رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرنے میں عبیداللہ بن عمرو رقی منفرد ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت صرف ابوقلابہ عن محمد بن ابی عائشہ کی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2924]
انس رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرنے میں عبیداللہ بن عمرو رقی منفرد ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت صرف ابوقلابہ عن محمد بن ابی عائشہ کی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث: «ابو قلابه والي روايت ضعيف هي۔»
الحكم على الحديث: ابو قلابه والي روايت ضعيف هي
حدیث نمبر: 2925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ مُؤَمَّلٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ خَالِدٍ قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ مَوْلًى لِبَنِي أُمَيَّةَ.
(الف) دوسری سند سے اسی جیسی روایت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے منقول ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قراءت کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں۔
(ب) اسماعیل، خالد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بنی امیہ کے غلام محمد بن ابی عائشہ نے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2925]
(ب) اسماعیل، خالد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بنی امیہ کے غلام محمد بن ابی عائشہ نے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الانقطاع بين موسي بن امية والنبيﷺ»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2926
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَقْرَءُونَ خَلْفِي؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِيمَا ذَكَرْنَا عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2926]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2926]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ للانقطاع بين التميمي وابن ابي قتادة»
الحكم على الحديث: ضعيف