السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
595. -- باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة
-- باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2887
وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا} [الأعراف: ٢٠٤] قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَكَذَا قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ [سورة الأعراف: 204] ”اور جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو غور سے سنو اور چپ رہو“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگ نماز میں باتیں کرتے تھے تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ لوگ (شروع شروع میں) نماز میں باتیں کرتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2887]
ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ لوگ (شروع شروع میں) نماز میں باتیں کرتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 2888
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ قَالَ: أَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ" وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ} [الأعراف: ٢٠٤] ، عَنْ عَوْنٍ، وَزَادَ فِيهِ فَأَنْزَلَهَا الْقُصَّاصُ فِي الْقَصَصِ.
(ا) عون بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے سنا کہ لوگ نماز میں باتیں وغیرہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کی: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾ [سورة الأعراف: 204] ”جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔“
(ب) سعید بن منصور نے اس حدیث کو عون سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ «فَأَنْزَلَهَا الْقُصَّاصُ فِي الْقَصَصِ» ”پس اسے قصہ گو حضرات نے قصوں کے متعلق نازل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2888]
(ب) سعید بن منصور نے اس حدیث کو عون سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ «فَأَنْزَلَهَا الْقُصَّاصُ فِي الْقَصَصِ» ”پس اسے قصہ گو حضرات نے قصوں کے متعلق نازل کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ" فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" وَرَوَى مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثَ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِسِيَاقِ الْمَتْنِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ رِوَايَةَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامِ الدَّسْتُوَائِيِّ قَالَ: وَثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَ هَذِهِ الرِّوَايَةَ، ثُمَّ قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ مِنَ" الزِّيَادَةِ فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ قَوْلُهُ:" وَأَنْصِتُوا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَقُولُ: خَالَفَ جَرِيرٌ عَنِ التَّيْمِيِّ، أَصْحَابَ قَتَادَةَ كُلَّهُمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ قَتَادَةَ رِوَايَةُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ⦗٢٢٣⦘ وَهَمَّامٍ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، وَأَبِي عَوَانَةَ، وَالْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَمَنْ تَابَعَهُمْ عَلَى رِوَايَتِهِمْ، يَعْنِي دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَذْكُرُهُ.
(ا) حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ ہے کہ ”جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اسحاق بن ابراہیم کی سند سے یہ روایت ذکر کرنے کے بعد فرمایا: جریر عن سلیمان عن قتادہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: ”جب امام پڑھے تو خاموش رہو۔“
(ج) ابوعبداللہ حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعلی حافظ رحمہ اللہ سے سنا کہ اس حدیث میں جریر نے تیمی سے روایت کرتے ہوئے قتادہ کے تمام شاگردوں کی مخالفت کی ہے، قتادہ سے محفوظ روایت ہشام دستوائی، ہمام، سعید بن ابی عروبہ، معمر بن راشد، ابوعوانہ، حجاج بن حجاج اور ان کی متابعت کرنے والوں کی ہے، یعنی ان میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ سالم بن نوح نے اسے ابن ابی عروبہ اور عمر بن عامر عن قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَأَنْصِتُوا» کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2889]
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اسحاق بن ابراہیم کی سند سے یہ روایت ذکر کرنے کے بعد فرمایا: جریر عن سلیمان عن قتادہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: ”جب امام پڑھے تو خاموش رہو۔“
(ج) ابوعبداللہ حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعلی حافظ رحمہ اللہ سے سنا کہ اس حدیث میں جریر نے تیمی سے روایت کرتے ہوئے قتادہ کے تمام شاگردوں کی مخالفت کی ہے، قتادہ سے محفوظ روایت ہشام دستوائی، ہمام، سعید بن ابی عروبہ، معمر بن راشد، ابوعوانہ، حجاج بن حجاج اور ان کی متابعت کرنے والوں کی ہے، یعنی ان میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ سالم بن نوح نے اسے ابن ابی عروبہ اور عمر بن عامر عن قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَأَنْصِتُوا» کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 19017»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2890
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي أَبَا غَلَّابٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّى بِنَا، فَقَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تو ہمیں فرماتے تھے: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش ہو جاؤ۔“
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم بن نوح قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2890]
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم بن نوح قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2890]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُصْعَبِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، ⦗٢٢٤⦘ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ وَهْمٌ مِنِ ابْنِ عَجْلَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ:" إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبِي: لَيْسَتْ هَذِهِ الْكَلِمَةُ مَحْفُوظَةً، هِيَ مِنْ تَخَالِيطِ ابْنِ عَجْلَانَ. قَالَ: وَقَدْ رَوَاهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ أَيْضًا، يَعْنِي عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَخَارِجَةُ أَيْضًا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ كَمَا رَوَيَاهُ، وَيَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ مَتْرُوكٌ، وَاعْتِمَادُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ بَعْدَ الْآيَةِ عَلَى الْحَدِيثِ الَّذِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، تم اس سے اختلاف نہ کرو، پس جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو چپ رہو اور جب امام ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
ابن عجلان کی روایت میں ہے: «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» ”جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔“
یہ ابن عجلان کا وہم ہے۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ابن عجلان کی حدیث میں «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» کے بارے میں فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ابوحاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کلمہ محفوظ نہیں ہے، یہ ابن عجلان کے خلط ملط میں سے ہے۔ خارجہ بن مصعب نے بھی اسے روایت کیا ہے اور خارجہ بھی قوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن علاء رازی نے بھی اسے انہی کی طرح روایت کیا ہے اور یحییٰ بن علاء متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2891]
ابن عجلان کی روایت میں ہے: «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» ”جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو۔“
یہ ابن عجلان کا وہم ہے۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ابن عجلان کی حدیث میں «إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» کے بارے میں فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ابوحاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کلمہ محفوظ نہیں ہے، یہ ابن عجلان کے خلط ملط میں سے ہے۔ خارجہ بن مصعب نے بھی اسے روایت کیا ہے اور خارجہ بھی قوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن علاء رازی نے بھی اسے انہی کی طرح روایت کیا ہے اور یحییٰ بن علاء متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2596»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2892
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ ⦗٢٢٥⦘ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟" فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری نماز سے سلام پھیرا اور فرمایا: ”ابھی نماز میں میرے ساتھ ساتھ کس نے قراءت کی ہے؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔“ تب سے لوگ جہری نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2892]
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3776»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ حَفِظْتُهُ مِنْ فِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ، فَلَمَّا قَضَاهَا قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ سُفْيَانُ، ثُمَّ قَالَ الزُّهْرِيُّ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، انْتَهَى حِفْظِي إِلَى هَذَا وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لِي سُفْيَانُ يَوْمًا: فَنَظَرْتُ فِي شَيْءٍ عِنْدِي فَإِذَا هُوَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِلَا شَكٍّ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ سُفْيَانُ وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّهُ قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ فِيهِ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ يَقُولُ: قَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَكَذَا قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٢٦⦘ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ فِي ابْنِ أُكَيْمَةَ هُوَ عُمَارَةُ بْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ وَيُقَالُ عَمَّارٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قراءت کی ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی لیے میں (اپنے دل میں) کہہ رہا تھا کہ «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟ (یا مجھ پر قرآن مشکل ہو رہا ہے)۔““
معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ ان نمازوں میں قراءت کرنے سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں دیکھا تو اس میں یہ الفاظ تھے: بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔
مسدد نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ معمر نے کہا: لوگ ان نمازوں میں قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔
عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا: زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے نہیں سنا تھا، تو معمر نے کہا کہ انہوں نے «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ کہا تھا۔
ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی حدیث «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“ پر ختم ہوتی ہے، اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی، اس میں زہری کا قول ہے کہ ”پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔“
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ زہری کے کلام سے ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے «التَّارِيخ» میں اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2893]
معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ ان نمازوں میں قراءت کرنے سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں دیکھا تو اس میں یہ الفاظ تھے: بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔
مسدد نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ معمر نے کہا: لوگ ان نمازوں میں قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔
عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا: زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے نہیں سنا تھا، تو معمر نے کہا کہ انہوں نے «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ کہا تھا۔
ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی حدیث «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“ پر ختم ہوتی ہے، اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی، اس میں زہری کا قول ہے کہ ”پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔“
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ زہری کے کلام سے ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے «التَّارِيخ» میں اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2894
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَرَأَ نَاسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ حَفِظَ الْأَوْزَاعِيُّ كَوْنَ هَذَا الْكَلَامِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ فَفَصَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ إِسْنَادَهُ، الصَّوَابُ مَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ وَرَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِّهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں قراءت کی جس میں جہری قراءت کی جاتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی کہتا ہوں کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل کیوں ہو رہا ہے!“ زہری کہتے ہیں: مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قراءت نہیں کرتے تھے۔
اوزاعی نے یہ بات یاد رکھی کہ یہ کلام زہری کا قول ہے اور اسے حدیث سے الگ کر دیا، لیکن انہوں نے اس کی سند یاد نہیں رکھی، درست وہ ہے جو ابن عیینہ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اکیمہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے سنا، اور یونس بن یزید ایلی نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2894]
اوزاعی نے یہ بات یاد رکھی کہ یہ کلام زہری کا قول ہے اور اسے حدیث سے الگ کر دیا، لیکن انہوں نے اس کی سند یاد نہیں رکھی، درست وہ ہے جو ابن عیینہ نے زہری سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن اکیمہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے سنا، اور یونس بن یزید ایلی نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كما في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا فِي الصَّلَاةِ؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ قَالَ ذَلِكَ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَا ارْتِيَابَ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَالزُّبَيْدِيُّ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الشَّيْخُ: فِي صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرٌ؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ رِوَايَةَ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ يُحَدِّثْ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحْدَهُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ مَعْرِفَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ رَآهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ: هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ ⦗٢٢٧⦘ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُهُ قَطُّ قَالَ الشَّيْخُ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ. وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَاوِي الْحَدِيثَيْنِ دَلِيلٌ عَلَى ضِعْفِ رِوَايَةِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، أَوْ أَرَادَ بِمَا فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْمَنْعَ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَوِ الْمَنْعَ عَنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ مِثْلُ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الْوَارِدِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے!“
(ب) تب لوگ قراءت سے رک گئے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے۔“ (ابوسائب کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! جب میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو کیا کروں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(د) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دو حدیثوں کا منقول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اکیمہ والی روایت ضعیف ہے۔
یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں: یہ بلا شک و شبہ غلطی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی صحت محل نظر ہے، کیونکہ یہ ابن اکیمہ لیثی کی روایت ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس نے صرف یہی ایک حدیث بیان کی ہے، اس سے زہری کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اور زہری بھی اس کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے اسے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے دیکھا۔ حمیدی نے ابن اکیمہ کی حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث ایک مجہول آدمی نے روایت کی ہے جس سے اس کے سوا کسی نے کبھی روایت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2895]
(ب) تب لوگ قراءت سے رک گئے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے۔“ (ابوسائب کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! جب میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو کیا کروں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(د) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دو حدیثوں کا منقول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اکیمہ والی روایت ضعیف ہے۔
یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں: یہ بلا شک و شبہ غلطی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی صحت محل نظر ہے، کیونکہ یہ ابن اکیمہ لیثی کی روایت ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس نے صرف یہی ایک حدیث بیان کی ہے، اس سے زہری کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اور زہری بھی اس کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے اسے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے دیکھا۔ حمیدی نے ابن اکیمہ کی حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث ایک مجہول آدمی نے روایت کی ہے جس سے اس کے سوا کسی نے کبھی روایت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال البزار 6/ 293، 2313»
الحكم على الحديث: صحيح
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى وَكَانَ مَنْ خَلْفَهُ يَقْرَأُ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَتَنْهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَازَعَا حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ جَابِرٍ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے قراءت کر رہے تھے تو صحابہ میں سے ایک شخص انھیں نماز میں قراءت سے منع کرنے لگا۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مجھے قراءت سے منع کررہا تھا؟ حتیٰ کہ ان میں تکرار ہوگیا۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بات پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی امام کے پیچھے نماز (پڑھ رہا ہو) تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہوگی۔“ [منکر۔ قال ابو حاتم فی العلل ۲۸۲]
ایک جماعت نے اسے ابوحنیفہ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن مبارک نے ان سے جابر کے ذکر کے بغیر مرسل روایت کیا ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2896]
ایک جماعت نے اسے ابوحنیفہ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن مبارک نے ان سے جابر کے ذکر کے بغیر مرسل روایت کیا ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2896]