السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
608. -- باب: من استحب له أن يذكر الله في مكثه ذلك
-- باب: اس قول کا بیان جس نے امام کے لیے اس ٹھہرنے کے دوران اللہ کا ذکر کرنا مستحب قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 3006
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، ثنا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو تین بار «اَسْتَغْفِرُ اللہَ» ”میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں“ کہتے، پھر «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» پڑھتے: ”اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، اے بزرگی اور عظمت والے! تو بڑی برکت والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 5/ 275/ 22723۔ ابوداود 1513»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3007
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ:" وَإِلَيْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: وَكَيْفَ الِاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ أَسْتَغْفِرُ اللهَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" وَإِلَيْكَ السَّلَامُ، وَقَالَ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ الْأَوْزَاعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
(ا) ثوبان رضی اللہ عنہ سے اس جیسی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے، البتہ اس میں انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کا اضافہ کیا ہے۔
(ب) ولید کہتے ہیں: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: استغفار کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ «أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ» کہا جائے۔
(ج) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت داؤد بن رشید کے واسطے سے بیان کی ہے مگر انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ» ذکر نہیں کیا اور «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کہا۔ پھر اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3007]
(ب) ولید کہتے ہیں: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: استغفار کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ «أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ» کہا جائے۔
(ج) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ روایت داؤد بن رشید کے واسطے سے بیان کی ہے مگر انہوں نے «وَإِلَيْكَ السَّلَامُ» ذکر نہیں کیا اور «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» کہا۔ پھر اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بدون قوله واليك السلام»
الحكم على الحديث: صحيح
609. -- باب: الاختيار للإمام والمأموم في أن يخفيا الذكر
-- باب: امام اور مقتدی کے لیے ذکر کو آہستہ کرنے کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: Q3008
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَإِنَّ اللهَ عَزَّ ذِكْرُهُ يَقُولُ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] يَعْنِي الدُّعَاءَ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَا تَجْهَرْ: تَرْفَعْ، وَلَا تُخَافِتْ: حَتَّى لَا تُسْمِعْ نَفْسَكَ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ ”اور آپ اپنی نماز میں نہ بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بالکل آہستہ۔“ [سورة الإسراء: 110]
اس (نماز) سے مراد دعا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور «وَلَا تَجْهَرْ» کا معنی یہ ہے کہ آپ آواز بہت بلند نہ کریں، اور «وَلَا تُخَافِتْ» کا معنی یہ ہے کہ اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ آپ خود بھی نہ سن سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3008]
اس (نماز) سے مراد دعا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور «وَلَا تَجْهَرْ» کا معنی یہ ہے کہ آپ آواز بہت بلند نہ کریں، اور «وَلَا تُخَافِتْ» کا معنی یہ ہے کہ اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ آپ خود بھی نہ سن سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3008]
حدیث نمبر: 3008
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِهِ:" {لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَتْ:" هُوَ الدُّعَاءُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی نماز نہ تو بہت آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ“ کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے مراد دعا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3008]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الاثر اخرجه البخاري 6327»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عُبَيْدٌ الْهَبَّارِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" نَزَلَتْ يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] " فِي الدُّعَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَكَذَلِكَ قَالَ مُجَاهِدٌ فِي الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔
(ب) اسی طرح مجاہد کا قول ہے کہ یہ دعا مانگنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3009]
(ب) اسی طرح مجاہد کا قول ہے کہ یہ دعا مانگنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا دَعَا فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ صَوْتَهُ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَلَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اپنی نماز کو نہ بہت اونچی آواز سے پڑھ اور نہ ہی بالکل آہستہ آواز سے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جب نماز میں دعا کرتا تھا تو اپنی آواز بلند کرتا تھا۔
اس روایت میں اسی طرح ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3010]
اس روایت میں اسی طرح ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3011
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ:" نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ" قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] " عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ" {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] " أَسْمِعْهُمْ، وَلَا تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْجَمِيعُ مُرَادًا بِالْآيَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آیت ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] اس وقت اتری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں روپوش تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی آواز اونچی کرتے تو مشرکین سن لیتے اور قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لے کر آنے والے سب کو برا بھلا کہتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی آواز کو اپنی نماز میں زیادہ اونچا نہ کرو، حتیٰ کہ مشرکین سن لیں“ ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کو اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں“ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”بلکہ آپ معتدل راستہ اختیار کریں۔ آپ ان کو سنائیں اور آواز اتنی اونچی نہ کریں تاکہ وہ آپ سے قرآن لے لیں۔“
(ب) یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام امور اس آیت سے مراد ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3011]
(ب) یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام امور اس آیت سے مراد ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4722»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ⦗٢٦٢⦘ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا أَوْ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ: اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمًّا، وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ" قَالَ وَأَنَا خَلْفُ رَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ عَاصِمٍ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو لوگ ٹیلوں پر چڑھ کر اونچی اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنی تسبیحات و تکبیرات کو آہستہ پڑھو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ میں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے کوئی ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں سے ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور بتائیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جنت کے خزانوں میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4205»
الحكم على الحديث: صحيح
610. -- باب: جهر الإمام بالذكر إذا أحب أن يتعلم منه
-- باب: جب امام یہ چاہے کہ لوگ اس سے سیکھیں تو اس کا بلند آواز سے ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q3013
قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَأَحْسِبُ مَا رَوَى ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ تَهْلِيلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ تَكْبِيرِهِ كَمَا رُوِّينَا، وَأَحْسِبُهُ إِنَّمَا جَهَرَ قَلِيلًا؛ لِيَتَعَلَّمَ النَّاسُ مِنْهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور میرا گمان یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے «تَهْلِيل» (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھنے) کی جو روایت بیان کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے «تَكْبِير» (یعنی اللَّهُ أَكْبَرُ پڑھنے) کی جو روایت بیان کی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم تک یہ روایات پہنچی ہیں،
تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً ان کلمات کو قدرے بلند آواز سے صرف اس لیے پڑھا تھا تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ ذکر کرنا) سیکھ لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3013]
تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً ان کلمات کو قدرے بلند آواز سے صرف اس لیے پڑھا تھا تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ ذکر کرنا) سیکھ لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3013]
حدیث نمبر: 3013
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ" قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لِأَبِي مَعْبَدٍ بَعْدُ، فَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمْ بِهِ قَالَ عَمْرٌو: وَقَدْ حَدَّثَنِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ" كَأَنَّهُ نَسِيَهُ بَعْدَمَا حَدَّثَهُ إِيَّاهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے پہچانتا تھا۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابو معبد کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کی۔ عمرو کہتے ہیں: انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلاموں میں سب سے سچے تھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد بھول گئے ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3013]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد بھول گئے ہوں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 842»
الحكم على الحديث: صحيح