السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي الْعَطَّافِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا" كَذَا رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ذَكَرْنَا لَيْسَ فِيهِ: فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ وَقْتَ الْقَضَاءِ لَا يَتَضَيَّقُ وَلَوْ كَانَ يَتَضَيَّقُ لَأَشْبَهَ أَنْ لَا يُؤَخِّرَهَا عَنْ حَالِ الِانْتِبَاهِ لِمَكَانِ الشَّيْطَانِ فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْنُقُ الشَّيْطَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَخَنْقُهُ الشَّيْطَانِ فِي الصَّلَاةِ أَكْبَرُ مِنْ وَادٍ فِيهِ شَيْطَانٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے وہی اس کا وقت ہے، لہٰذا اسی وقت پڑھ لے۔“
اسی طرح اسے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے روایت کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صحیح روایت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت تنگ نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہوتا تو زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے بیدار ہونے کی حالت سے شیطان کی موجودگی کی وجہ سے مؤخر نہ کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی تھی کہ آپ شیطان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا گلا گھونٹنا اس وادی سے بڑا معاملہ ہے جس میں شیطان ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3183]
اسی طرح اسے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے روایت کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صحیح روایت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت تنگ نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہوتا تو زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے بیدار ہونے کی حالت سے شیطان کی موجودگی کی وجہ سے مؤخر نہ کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی تھی کہ آپ شیطان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا گلا گھونٹنا اس وادی سے بڑا معاملہ ہے جس میں شیطان ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449، مسلم 541»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَذَرَعْتُهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ" قَالَ:" فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي" قَالَ:" فَرَدَّهُ خَاسِئًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عفریت نامی جن گزشتہ رات مجھے تنگ کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے اختیار میں کر دیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھتے، لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی جو انہوں نے کی تھی: ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة ص: 35] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے“ تو میں نے اس کو رسوا کر کے چھوڑ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3185
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِي" وَقَالَ:" أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي، وَلَوْلَا مَا دَعَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَأَصْبَحَ مُنَاطًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ مِنْ أَسَاطِينِ الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" ⦗٣١١⦘ تَابَعَهُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، فَرَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس ایک بار شیطان آیا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا گھونٹا حتیٰ کہ مجھے اس کی زبان کی سردی اپنے ہاتھ پر محسوس ہوگئی۔ وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، اگر سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی کہ ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ﴾ [سورة ص: 35] تو ضرور یہ صبح کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 413»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
633. -- باب: قضاء الصلوات الأولى فالأولى
-- باب: نمازوں کی قضا ترتیب وار (پہلے کی پہلے) ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3186
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ" قَالَ:" فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خندق کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کافروں کو برا کہنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے سورج ڈوبنے کے قریب عصر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو غروبِ آفتاب تک بھی نہ پڑھ سکا۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پھر ہم بطحان نامی جگہ میں اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 573»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3187
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَكِيعٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: «حواله مذكوره صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: حواله مذكوره صحيح
حدیث نمبر: 3188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَازِيَ الْعَدُوِّ فَشَغَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ حَتَّى كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ" فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِالظُّهْرِ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ الْعَصْرَ، ثُمَّ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ الْعِشَاءَ يُتْبِعُ بَعْضَهَا بَعْضًا" زَادَ فِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ يُتَابِعُ بَعْضُهَا بَعْضًا بِإِقَامَةٍ إِقَامَةٍ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ وَرُوِّينَاهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْأَلَةِ الْأَذَانِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دشمن کے خلاف صف آرا تھے۔ دشمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے مشغول کیے رکھا حتیٰ کہ آدھی رات کا وقت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ظہر سے ابتدا کی پھر عصر، مغرب اور عشاء ترتیب سے ساری نمازیں ادا کیں۔
(ب) ولید بن مسلم نے بواسطہ ابو عمرو اوزاعی یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نمازیں ایک کے بعد ایک، ہر نماز الگ اقامت کے ساتھ ادا کیں؛ اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
(ج) ہمیں یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اذان کے بارے میں بیان کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3188]
(ب) ولید بن مسلم نے بواسطہ ابو عمرو اوزاعی یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نمازیں ایک کے بعد ایک، ہر نماز الگ اقامت کے ساتھ ادا کیں؛ اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
(ج) ہمیں یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اذان کے بارے میں بیان کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الترمذي 179»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
634. -- باب: من قال بترك الترتيب في قضائهن، وهو قول طاوس والحسن
-- باب: اس قول کا بیان جس نے قضا نمازوں میں ترتیب چھوڑنے کا کہا ہے، اور یہ طاؤس اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے
حدیث نمبر: Q3189
بَابُ مَنْ قَالَ بِتَرْكِ التَّرْتِيبِ فِي قَضَائِهِنَّ، وَهُوَ قَوْلُ طَاوُسٍ وَالْحَسَنِ.
باب: اس شخص کی دلیل کے بیان میں جس نے فوت شدہ نمازوں کی قضا کے دوران ترتیب کو ترک کرنے کا قول کیا ہے، اور یہی امام طاؤس اور امام حسن کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3189]
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّاءُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ⦗٣١٢⦘ الضُّحَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: شُغِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّى مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَقَالَ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی میں مصروفیت کی وجہ سے عصر کی نماز رہ گئی۔ آپ نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان نماز ادا کی اور فرمایا: ”ہمیں نمازِ وسطی سے مشغول رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 2160»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3190
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا" ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ أَنَّهُ نَقَضَ الْأُولَى فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ.
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق والے دن فرمایا: ”ان دشمنوں نے ہمیں «صلوٰۃِ وسطیٰ» (نمازِ عصر) سے مشغول کیے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا کیں۔
(ب) ایک ضعیف روایت سے بھی مروی ہے، انہوں نے پہلی نماز توڑی، پہلے عصر پڑھی، پھر مغرب کی نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3190]
(ب) ایک ضعیف روایت سے بھی مروی ہے، انہوں نے پہلی نماز توڑی، پہلے عصر پڑھی، پھر مغرب کی نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3191
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي جُمَعَةَ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَنَسِيَ الْعَصْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" هَلْ رَأَيْتُمُونِي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَنَقَضَ الْأُولَى ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ" وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ" وَمَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ آخَرَ، وَمَا رُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ فِي يَوْمٍ آخَرَ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَيْنَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَوَقْتِ الْعِشَاءِ" فَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ جَابِرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق والے دن مغرب کی نماز پڑھی اور عصر کی نماز پڑھنا بھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا: ”کیا تم نے مجھے عصر کی نماز پڑھتے دیکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر اقامت کے بعد عصر کی نماز پڑھائی، پہلی کو توڑ دیا، پھر مغرب کی نماز ادا کی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ اس روایت میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ایک دن کیا ہو اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کسی دوسرے دن کے بارے میں روایت کرتے ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی احادیث کسی اور دن کے بارے میں ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول «بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ» ”مغرب اور عشا کے درمیان“ سے مراد غروبِ آفتاب اور عشا کے درمیان کا وقت ہے۔
اگر اس طرح مان لیں تو یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت کے موافق ہو گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3191]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ اس روایت میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ایک دن کیا ہو اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کسی دوسرے دن کے بارے میں روایت کرتے ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی احادیث کسی اور دن کے بارے میں ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول «بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ» ”مغرب اور عشا کے درمیان“ سے مراد غروبِ آفتاب اور عشا کے درمیان کا وقت ہے۔
اگر اس طرح مان لیں تو یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت کے موافق ہو گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الطبراني في الكبير 3542»
الحكم على الحديث: منكر