🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
635. -- باب: من ذكر صلاة وهو في أخرى
-- باب: اس شخص کا بیان جسے ایک نماز کے دوران دوسری نماز یاد آ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3192
قَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِعُمُومِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ ثُمَّ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ".
ہمارے بعض اصحاب نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان سے استدلال کیا ہے کہ: ”نماز کا جتنا حصہ پاؤ پڑھ لو، پھر جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ⦗٣١٣⦘ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ، اطمینان و سکون سے چل کر آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اس کو پورا کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 866»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَسَّامٍ أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا، إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ صَلَاتِهِ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَ، ثُمَّ لِيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ" تَفَرَّدَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ بِرِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَهَذَا رَوَاهُ غَيْرُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، پھر اس وقت یاد آئے جب وہ امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ نماز جاری رکھے، جب نماز سے فارغ ہو تو جو نماز بھول گیا تھا اسے لوٹا لے، پھر اس کے بعد یہ دوسری نماز جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی اس کو بھی لوٹا لے۔“
اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں ابو ابراہیم ترجمانی منفرد ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن الجوزي في ’’التحقيق‘‘ 1/ 439»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
دوسری سند سے اس جیسی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا گیا، اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 406»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣١٤⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً مِنْ صَلَوَاتِهِ فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَهَا، ثُمَّ لِيُصَلِّ بَعْدُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى" قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ مَالِكٌ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ مِثْلَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِعَادَةُ الصَّلَاةِ الَّتِي صَلَّاهَا مَعَ الْإِمَامِ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ اسْتِحْبَابٌ لَا إِيجَابٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو آدمی اپنی نماز بھول جائے اور اسے اس وقت یاد آئے جب وہ کوئی دوسری نماز امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو تو جب امام سلام پھیر دے تو وہ اس نماز کو پڑھے جو بھول گیا تھا، پھر اس کے بعد دوسری نماز کو لوٹائے۔
(ب) ابن وہب کہتے ہیں کہ امام مالک، لیث بن سعد اور یحییٰ بن عبداللہ بن سالم رحمہم اللہ نے اسی کی مثل بیان کیا ہے۔
(ج) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسری نماز کا اعادہ کرنا جو امام کے ساتھ پڑھی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مستحب ہے نہ کہ واجب۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3196
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً فَذَكَرَهَا، وَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَلْيَبْدَأْ بِالَّتِي هُوَ فِيهَا، فَإِذَا فَرَغَ صَلَّى الَّتِي نَسِيَ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: عُمَرُ بْنُ أَبِي عُمَرَ مَجْهُولٌ لَا أَعْلَمُ يَرْوِي عَنْهُ غَيْرُ بَقِيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَجُمَّاعُ مَا يُفَارِقُ الْمَرْأَةَ فِيهِ الرَّجُلُ مِنْ أَحْكَامِ الصَّلَاةِ رَاجِعٌ إِلَى السِّتْرِ، وَهُوَ أَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِكُلِّ مَا كَانَ أَسْتَرَ لَهَا وَالْأَبْوَابُ الَّتِي تَلِي هَذِهِ تَكْشِفُ عَنْ مَعْنَاهُ وَتُفَصِّلُهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنا بھول جائے، پھر اس کو فرض نماز ادا کرتے ہوئے وہ نماز یاد آ جائے تو اسی کو جاری رکھے جو پڑھ رہا ہے۔ جب اس سے فارغ ہو، پھر وہ قضا کر لے جو بھول گیا تھا۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن ابی عمر مجہول ہے، میں نہیں جانتا کہ بقیہ کے علاوہ کسی نے اس سے روایت کی ہو۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے تمام احکام جو ستر سے متعلقہ ہیں ان میں مرد اور عورت میں فرق ہے؛ اس لیے کہ عورت ہر اس چیز کے کرنے پر مامور ہے جو اس کے لیے زیادہ پردے کا باعث بنے۔
آئندہ ابواب میں ان کی تفصیل اور اس کے معنی کی وضاحت موجود ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن عدي 5/22»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
636. -- باب: ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود
-- باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3197
قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ تُؤْمَرُ إِذَا سَجَدَتْ أَنْ تَلْزِقَ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا كَيْلَا تَرْتَفِعَ عَجُزَتُهَا وَلَا تَجَافِيَ كَمَا يُجَافِي الرَّجُلُ".
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے تاکہ اس کی سرین بلند نہ ہو اور وہ (اپنے اعضاء کو) اس طرح الگ نہ رکھے جس طرح مرد الگ رکھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3197]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" إِذَا سَجَدْتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثَانِ ضَعِيفَانِ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِمَا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت جب سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملا لیا کرے۔
اس بارے میں دو ضعیف حدیثیں بھی مروی ہیں، جن جیسی روایات سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3197]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2777»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3198
أَحَدُهُمَا حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ الْعَجْلَانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْأَوَّلُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الْآخِرُ" وَكَانَ" يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافَوْا فِي سُجُودِهِمْ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِي سُجُودِهِنَّ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِي التَّشَهُّدِ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ ⦗٣١٥⦘ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ وَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ أَبْصَارَكُنَّ فِي صَلَاتِكُنَّ تَنْظُرْنَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ وَاللَّفْظُ الْأَوَّلُ وَاللَّفْظُ الْآخِرُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَشْهُورَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَيْنَهُمَا مُنْكَرٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی بہترین صفیں پہلی صفیں ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ سجدے میں اپنے بازو پہلوؤں سے دور رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ سجدے سمٹ کر کریں اور مردوں کو حکم دیتے کہ وہ تشہد میں بائیں پاؤں کو بچھائیں اور داہنے کو کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ چار زانو ہو کر بیٹھیں اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم نماز میں اپنی نظروں کو مت اٹھایا کرو بلکہ پست رکھا کرو تاکہ تم مردوں کی شرمگاہوں کی طرف نہ دیکھ پاؤ۔“
اس حدیث کے پہلے اور آخری الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان والے الفاظ منکر ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3199
وَالْآخَرُ: حَدِيثُ أَبِي مُطِيعٍ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَلْخِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الْأُخْرَى، وَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَقُولُ: يَا مَلَائِكَتِي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت جب نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا لے، یہ اس کے لیے زیادہ ستر کا باعث ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے تو فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! تم گواہ ہو جاؤ میں نے اسے بخش دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: «باطل۔ اخرجه ابن عدي 2/ 124»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں