السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
714. -- باب: من بزق وهو يصلي
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز کی حالت میں تھوکا
حدیث نمبر: 3595
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، وَإِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْصُقَنَّ أَحَدُكُمْ فِي قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ" ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ:" أَوْ يَفْعَلُ كَذَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں گزری اور ناگواری کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے عیاں ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے“ یا فرمایا: ”اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ لہٰذا تم میں سے کوئی بھی ہرگز اپنے قبلے کی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک دے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے یا چادر کا ایک کنارہ پکڑ کر اس میں تھوکا اور اس کو مسل دیا اور فرمایا: ”یا اس طرح کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3596
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوَ تَحْتَ قَدَمِهِ" قَالَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ:" وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا وہ ہرگز اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی اپنی داہنی طرف، بلکہ اپنی بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“
ابوعمر حوضی، شعبہ سے بیان کرتے ہیں: «وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ» ”اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوک دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3596]
ابوعمر حوضی، شعبہ سے بیان کرتے ہیں: «وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ» ”اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوک دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 403»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3597
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَعَنْ أَبِي عُمَرَ الْحَوْضِيِّ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِ آدَمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف مت تھوکے، لیکن بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
715. -- باب: الدليل على أنه إنما يبزق عن يساره إذا كان فارغا
-- باب: اس بات کی دلیل کہ بائیں طرف اسی صورت میں تھوکا جائے جب وہ جگہ خالی ہو
حدیث نمبر: 3598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ وَابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ" وَقَالَ بِرِجْلِهِ كَانَ يَحُكُّهُ بِقَدَمِهِ وَرَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَقَالَ: أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
(ا) طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے اور داہنی طرف نہ تھوک، اگر بائیں طرف خالی ہو تو اس طرف تھوک دے یا اپنے پاؤں کے نیچے۔“
(ب) انہوں نے «بِرِجْلِهِ» کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3598]
(ب) انہوں نے «بِرِجْلِهِ» کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 478»
الحكم على الحديث: صحيح
716. -- باب: الدليل على أنه إن بزق عن يساره أو تحت قدمه دفنها، أو دلكها بنعله اليسرى
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کوئی بائیں طرف یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے تو اسے دفن کر دے، یا اپنے بائیں جوتے سے اسے رگڑ دے
حدیث نمبر: 3599
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ إِنَّهُ يُنَاجِي اللهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنْهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی داہنی طرف تھوکے کیونکہ اس کی داہنی طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے، بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے اور اس کو دفن بھی کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3599]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3600
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَأَبُو الْعَلَاءِ هُوَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.
ابوعلاء اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلغم تھوکا، پھر اس کو اپنے بائیں جوتے سے مسل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 554»
الحكم على الحديث: صحيح
717. -- باب: ما جاء في حك النخاعة عن القبلة
-- باب: قبلہ رخ سے بلغم کھرچنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3601
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُمَّ قَالَ:" لَا يَتَنَخَّمُ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو ایک کنکری لے کر اس کو کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف بلکہ بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 400»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3602
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار میں تھوک دیکھا تو اس کو کھرچ ڈالا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی نماز میں قبلے کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے چہرے کے سامنے تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3602]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 398»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3603
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت بخاری میں موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3603]
تخریج الحدیث: «تقدم قبله»
الحكم على الحديث: تقدم قبله
حدیث نمبر: 3604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللهَ تَعَالَى قِبَلَ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ لَا يَتَنَخَّمَنَّ" ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ لَطَخَهُ فِيمَا أَظُنُّهُ بِزَعْفَرَانٍ" وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ دُونَ كَلِمَةِ اللَّطْخِ فِيمَا أَظُنُّ بِالزَّعْفَرَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ دُونَهَا بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک آپ نے قبلہ کی دیوار پر بلغم لگی دیکھی تو لوگوں پر غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، جب کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی بلغم پھینکے۔“ پھر آپ نے (منبر سے) اتر کر اس کو کھرچ ڈالا اور وہاں کوئی چیز لگائی۔ میرا خیال ہے کہ زعفران منگوا کر دیوار پر مل دیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بلغم پھینکے تو اپنے بائیں طرف پھینکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 720»
الحكم على الحديث: صحيح