🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
730. -- باب: الإيماء بالركوع والسجود إذا عجز عنهما
-- باب: جب رکوع اور سجدے سے عاجز ہو تو اشارے سے ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3673
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ عَلَى أَخِيهِ عُتْبَةَ نَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَرَأَى مَعَ أَخِيهِ مِرْوَحَةً يَسْجُدُ عَلَيْهَا، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ عَبْدُ اللهِ، وَقَالَ: اسْجُدْ عَلَى الْأَرْضِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ".
حضرت علقمہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے بھائی حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ بیمار تھے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو پنکھے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو کھینچ لیا اور فرمایا: زمین پر سجدہ کرو، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کر لو اور سجدوں کو رکوع سے پست رکھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
731. -- باب: من وضع وسادة على الأرض فسجد عليها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے زمین پر تکیہ رکھا پھر اس پر سجدہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3674
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْجُدُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ مِنْ رَمَدٍ بِهَا".
سیدہ ام الحسن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو آشوبِ چشم کے مرض کی وجہ سے چمڑے کے سرہانے پر سجدہ کرتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن الجعد 3189»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْهَرَوِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّهَا رَأَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ رَمَدٍ كَانَ بِعَيْنِهَا قَالَ: وَثنا كَامِلٌ ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ بِمِثْلِهِ وَرُوِّيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي السُّجُودِ عَلَى الْوِسَادَةِ وَالْمِخَدَّةِ.
سیدہ ام الحسن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے تکیہ پر نماز پڑھتے دیکھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے تکیہ اور گدے پر سجدوں کے بارے میں رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3676
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ أَبُو عَمْرٍو، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ:" رَأَيْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ يَسْجُدُ عَلَى جِدَارٍ فِي الْمَسْجِدِ ارْتِفَاعُهُ قَدْرُ ذِرَاعٍ".
حضرت ابواسحق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو مسجد میں دیوار پر سجدہ کرتے دیکھا جس کی اونچائی تقریباً ایک ہاتھ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3677
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، ثنا مَجْزَأَةُ بْنُ زَاهِرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ، وَكَانَ يَشْتَكِي رُكْبَتَهُ أَوْ رُكْبَتَيْهِ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتَيْهِ وِسَادَةً" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ.
حضرت مجزاۃ بن زاہر رحمہ اللہ اصحابِ شجرہ میں سے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں جن کا نام حضرت اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا، وہ اپنے گھٹنوں میں تکلیف محسوس کرتے تو سجدہ کرتے وقت اپنے گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث: «صحيح۔اخرجه البخاري3940»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
732. -- باب: ما روي في كيفية الصلاة على الجنب أو الاستلقاء وفيه نظر
-- باب: پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے، اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3678
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِيرِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعُرَنِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا، رِجْلُهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض اگر قدرت رکھتا ہو تو کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ اگر اتنی قدرت نہیں رکھتا تو بیٹھ کر اور اگر سجدے کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کرلے۔ سجدوں کے اشاروں کو رکوع کے اشاروں سے تھوڑا نیچے رکھے۔ اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو دائیں پہلو پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور اگر دائیں پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھنے کی ہمت بھی نہیں پاتا تو چت لیٹ کر نماز پڑھ لے، اس صورت میں اس کی ٹانگیں قبلہ کی طرف ہونی چاہئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه الدارقطني 2/42»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ⦗٤٣٧⦘ ثنا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ، تَلِي قَدَمَاهُ الْقِبْلَةَ" وَهَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ عَجَزَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى جَنْبِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ مریض اپنی گدی پر چت لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ رخ ہوں۔ یہ روایت موقوف ہے۔
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 4130»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
733. -- باب: من أطاق أن يصلي منفردا قائما ولم يطقه مع الإمام فصلى قائما منفردا
-- باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو اور امام کے ساتھ طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3680
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑا ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1065»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ وَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ وَلِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو کر (باجماعت) نماز ادا نہیں کر سکتا۔ وہ شخص بھاری جسم والا تھا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اپنے گھر بلایا اور آپ کے لیے چٹائی بچھائی اور چٹائی کے کنارے کو جھاڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3681]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 639»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
734. -- باب: من قام فيما أطاق وقعد فيما عجز عنه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے طاقت کے بقدر قیام کیا اور جس سے عاجز رہا اس میں بیٹھ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3682
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ" ⦗٤٣٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے اور اسی حالت میں قراءت کرتے رہے، جب تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور حالت قیام میں ان کی تلاوت کرتے، پھر رکوع اور سجدہ کرتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري 1067»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري 1067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں