السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
723. -- باب: ما يكون منهما نافلة
-- باب: ان دونوں میں سے کون سی نماز نفل ہو گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 3645
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ⦗٤٢٨⦘ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، ثنا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَانْحَرَفَ فَأَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ فَدَعَا بِهِمَا، فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْنَا فِي الرَّحْلِ قَالَ:" لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَ الْإِمَامِ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ" هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَوَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَخَالَفَهُمْ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ فَرَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا یزید بن اسود خزاعی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں فجر کی نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلوایا، انھیں لایا گیا اور وہ ڈرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی؟“ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم گھر سے نماز پڑھ آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، پھر امام کے ساتھ باجماعت نماز پالے تو امام کے ساتھ دوبارہ پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3645]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي سابقا، وانظر ماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3646
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَأَى رَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ الْقَوْمِ قَالَ: فَدَعَا بِهِمَا فَجَاءَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا لَكُمَا لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، وَلْيَجْعَلِ الَّتِي صَلَّى فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً" قَالَ عَلِيٌّ: خَالَفَهُ أَصْحَابُ الثَّوْرِيِّ وَمَعَهُمْ أَصْحَابُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مِنْهُمْ: شُعْبَةُ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشَرِيكٌ وَغِيلَانُ بْنُ جَامِعٍ وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ وَمُبَارِكُ بْنُ فَضَالَةَ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمْ وَرَوَوْهُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ مِثْلَ قَوْلِ وَكِيعٍ، يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ:" فَيَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً، وَالَّتِي فِي رَوَاحِلِكُمْ فَرِيضَةٌ" قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَجَّاجٍ بِذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَخْطَأَ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ فِي إِسْنَادِهِ وَإِنْ أَصَابَ فِي مَتْنِهِ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ احْتِجَاجَ مَنِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَسْوَدِ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، وَلَا لِجَابِرِ بْنِ يَزِيدَ رَاوٍ غَيْرُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، وَكَانَ ⦗٤٢٩⦘ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ يُوَثِّقُونَ يَعْلَى بْنَ عَطَاءٍ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَهُ شَوَاهِدُ قَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا، فَالِاحْتِجَاجُ بِهِ وَبِشَوَاهِدِهِ صَحِيحٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت جابر بن یزید رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں سے پیچھے دو آدمی دیکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا۔ وہ وحشت و خوف کے عالم میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ وہ دونوں گھبرائے ہوئے بولے: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو بلکہ جب تم میں سے کوئی اپنے گھر نماز پڑھ آیا ہو پھر مسجد میں آئے اور امام نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لے اور جو نماز اس نے گھر میں پڑھی ہے اس کو نفل نماز بنا لے۔“
حضرت علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثوری رحمہ اللہ کے تلامذہ نے اس کی مخالفت کی ہے، ان کے ساتھ حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہیں۔ ان میں سے حضرت شعبہ، ہشام بن حسان، شریک، غیلان بن جامع، ابو خالد دالانی، مبارک بن فضالہ، ابوعوانہ اور ہشیم رحمہم اللہ ہیں۔ انھوں نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے حضرت وکیع رحمہ اللہ جیسا قول نقل کیا ہے۔
حضرت علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو حضرت حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ وہ اپنی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ ”نماز تمہارے لیے نفل ہوگی اور جو تم نے گھروں میں پڑھی ہے وہ فرض ہوگی۔“
حجاج بن ارطاۃ سے اس کی سند میں غلطی ہوئی ہے اگرچہ متن میں وہ درست ہیں، اور صحیح جماعت کی روایت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں ان لوگوں کا استدلال ذکر کیا جو یعلیٰ بن عطاء کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں، پھر فرمایا: یہ سند مجہول ہے۔ واللہ اعلم، انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ یزید بن اسود سے ان کے بیٹے جابر بن یزید کے سوا کوئی راوی نہیں، اور جابر بن یزید سے یعلیٰ بن عطاء کے سوا کوئی راوی نہیں۔ یحییٰ بن معین اور ائمہ کی ایک جماعت یعلیٰ بن عطاء کو ثقہ قرار دیتے تھے، اور اس حدیث کے شواہد ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے، لہٰذا اس سے اور اس کے شواہد سے استدلال صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3646]
حضرت علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثوری رحمہ اللہ کے تلامذہ نے اس کی مخالفت کی ہے، ان کے ساتھ حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہیں۔ ان میں سے حضرت شعبہ، ہشام بن حسان، شریک، غیلان بن جامع، ابو خالد دالانی، مبارک بن فضالہ، ابوعوانہ اور ہشیم رحمہم اللہ ہیں۔ انھوں نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے حضرت وکیع رحمہ اللہ جیسا قول نقل کیا ہے۔
حضرت علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو حضرت حجاج بن ارطاۃ رحمہ اللہ نے حضرت یعلی بن عطا رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ وہ اپنی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ ”نماز تمہارے لیے نفل ہوگی اور جو تم نے گھروں میں پڑھی ہے وہ فرض ہوگی۔“
حجاج بن ارطاۃ سے اس کی سند میں غلطی ہوئی ہے اگرچہ متن میں وہ درست ہیں، اور صحیح جماعت کی روایت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں ان لوگوں کا استدلال ذکر کیا جو یعلیٰ بن عطاء کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں، پھر فرمایا: یہ سند مجہول ہے۔ واللہ اعلم، انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ یزید بن اسود سے ان کے بیٹے جابر بن یزید کے سوا کوئی راوی نہیں، اور جابر بن یزید سے یعلیٰ بن عطاء کے سوا کوئی راوی نہیں۔ یحییٰ بن معین اور ائمہ کی ایک جماعت یعلیٰ بن عطاء کو ثقہ قرار دیتے تھے، اور اس حدیث کے شواہد ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے، لہٰذا اس سے اور اس کے شواہد سے استدلال صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3646]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه الدار قطني 1/ 414»
الحكم على الحديث: شاذ
724. -- باب: من قال الثانية فريضة وفيه نظر
-- باب: اس قول کا بیان کہ دوسری نماز فرض ہو گی اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ:" أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ:" وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟" قَالَ: إِنِّي كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ:" إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَلْتَكُنْ لَكَ نَافِلَةً، وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ" فَهَذَا مُوَافِقٌ لِمَا مَضَى فِي إِعَادَةِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مُخَالِفٌ لَهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ مِنْهُمَا وَمَا مَضَى أَكْثَرُ وَأَشْهُرُ فَهُوَ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بیٹھا ہوا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ میں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، میرا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مسجد میں آؤ اور لوگوں کو حالت نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم نماز پڑھ چکے ہو۔ وہ (پہلی نماز) تمہارے لیے نفل بن جائے گی اور یہ فرض۔“
(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3647]
(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3647]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 577»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3648
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ، يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يُدْرِكُ الْجَمَاعَةَ؟ قَالَ: يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ قَالَ: قُلْتُ فَبِأَيِّهِمَا يَحْتَسِبُ؟ قَالَ: بِالَّذِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمْعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً".
سیدنا داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے، پھر جماعت کو بھی پا لیتا ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ جماعت کے ساتھ بھی پڑھے۔ میں نے کہا: اس کو کون سی نماز کا بطورِ فرض ثواب ملے گا؟ انہوں نے فرمایا: جو اس نے باجماعت پڑھی ہوگی، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز (اجر و ثواب کے لحاظ سے) اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3648]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 486»
الحكم على الحديث: صحيح
725. -- باب: من قال ذلك إلى الله عز وجل يحتسب له بأيتهما شاء عن فرضه
-- باب: اس قول کا بیان کہ یہ اللہ عزوجل کی مرضی پر موقوف ہے وہ ان میں سے جسے چاہے اس کے فرض کے طور پر شمار کر لے
حدیث نمبر: 3649
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" نَعَمْ فَصَلِّ ⦗٤٣٠⦘ مَعَهُ" فَقَالَ الرَّجُلُ: فَأَيَّتُهُمَا أَجْعَلُ صَلَاتِي، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" وَذَلِكَ إِلَيْكَ؟ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللهِ تَعَالَى يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ".
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر جماعت کے ساتھ نماز ہو رہی ہوتی ہے تو کیا میں امام کے ساتھ نماز پڑھ لوں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں، امام کے ساتھ پڑھ لو۔ اس نے کہا: ان میں سے کون سی نماز کو میں فرض نماز بناؤں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا یہ تیرے اختیار میں ہے؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جس کو چاہے فرض قرار دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه مالك 997»
الحكم على الحديث: صحيح اخرجه مالك 997
حدیث نمبر: 3650
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ سَعِيدٌ:" نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: فَأَيَّتُهُمَا أَجْعَلُ صَلَاتِي؟ فَقَالَ سَعِيدٌ:" وَأَنْتَ تَجْعَلُهَا؟ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللهِ يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ" وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ لِحَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ وَيَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَيُذْكَرُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: الْمَكْتُوبَةُ الْأُولَى، فَكَأَنَّهُ بَلَغَهُ فِي ذَلِكَ مَا لَمْ يَبْلُغْهُ حِينَ لَمْ يَقْطَعْ فِيهَا بِشَيْءٍ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: میں گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھتے پاتا ہوں تو کیا میں امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں؟ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے پھر عرض کیا: میں ان میں سے کس کو فرض سمجھوں؟ حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تو اس کو بنا سکتا ہے؟ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے ان میں سے جسے چاہے بنا دے۔
(ب) پہلا قول حضرت ابوذر اور حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہما کی حدیث کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔
(ج) حضرت عثمان بن عبیداللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز کو لوٹانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: پہلی فرض شمار ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3650]
(ب) پہلا قول حضرت ابوذر اور حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہما کی حدیث کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔
(ج) حضرت عثمان بن عبیداللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز کو لوٹانے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: پہلی فرض شمار ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 298»
الحكم على الحديث: صحيح
726. -- باب: من أعادها وإن صلاها في جماعة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز دہرائی اگرچہ اس نے وہ جماعت کے ساتھ پڑھی تھی
حدیث نمبر: Q3651
رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ" فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فِي هَذَا الْخَبَرِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى مَعَهُ، وَقَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہمیں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟“
تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس خبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے کہ: ”پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی، حالانکہ وہ اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3651]
تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس خبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے کہ: ”پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی، حالانکہ وہ اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3651]
حدیث نمبر: 3651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَدِمْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ بِالْمِرْبَدِ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے۔ انہوں نے مقام ”مربد“ پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہم مسجد میں پہنچے تو نماز کھڑی تھی، ہم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6661»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3652
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كَانَ أَبُو مُوسَى عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَتَوَاعَدَا أَنْ يَلْتَقِيَا عِنْدِي غُدْوَةً فَصَلَّى أَحَدُهُمَا بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى مَعَنَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے لشکر پر نگران مقرر تھے اور سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہما اہل کوفہ کے لشکر پر نگران تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ صبح مجھ سے ملنے آئیں گے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھائی، پھر ہمارے پاس آکر ہمارے ساتھ بھی نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»
الحكم على الحديث: صحيح
727. -- باب: من لم ير إعادتها إذا كان قد صلاها في جماعة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینے کی صورت میں اسے دہرانے کو درست نہیں سمجھا
حدیث نمبر: Q3653
وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى ذَلِكَ لِوُرُودِ الْأَمْرِ بِالْإِعَادَةِ عَلَى مَنْ صَلَّاهَا وَحْدَهُ.
اور جو احادیث گزر چکی ہیں ان میں اس بات کی دلیل موجود ہے، کیونکہ اکیلے نماز پڑھنے والے کو نماز دہرانے کا حکم وارد ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3653]