السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
818. -- باب: المعاهدة على قراءة القرآن
-- باب: قرآن مجید کی قراءت کی پابندی کرنے (اسے دہراتے رہنے) کا بیان
حدیث نمبر: 4052
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ فَلَهِيَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا، وَلَا يَقُولَنَّ: أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هُوَ نُسِّيَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان مصاحف کو پختگی سے یاد رکھو؛ اللہ کی قسم! قرآن جلدی لوگوں کے سینوں سے نکل جاتا ہے جیسے جانور اپنی رسیوں سے نکل جاتے ہیں۔ (لہٰذا اس کی تلاوت کرتے رہا کرو) تم میں سے کوئی بھی ہرگز یہ بات نہ کہے کہ «نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ» ”میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں“ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھلا دی جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4052]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5032»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4053
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا اس طرح کہنا بری بات ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ (یہ کہے کہ) وہ بھلا دیا گیا۔ قرآن کو یاد کیا کرو، یقیناً وہ لوگوں کے سینوں سے جلدی نکلنے والا ہے بہ نسبت جانور کے ان کی رسیوں سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4053]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4054
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ لَهُ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ فَلَهُ أَجْرَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مہارت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو وہ معزز فرشتوں جیسا ہے اور اس شخص کی مثال جو قرآن کو پڑھتا ہے اور اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس پر گراں گزرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4937»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4055
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی (تلاوت میں) مہارت رکھنے والا معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن پڑھ رہا ہو اور اس میں اٹک رہا ہو اور وہ اس پر گراں گزر رہا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4055]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4056
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخَذْهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" قَالَ مُعَاوِيَةُ: الْبَطَلَةُ السَّحَرَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن پڑھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو پڑھو، یہ دونوں «الزَّهْرَاوَيْنِ» ”دو روشن سورتیں“ ہیں اور یہ دونوں قیامت کے دن آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل یا دو سائبان ہیں یا اڑتے پرندوں کی دو ڈاریں ہیں جو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں، یہ اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ کو پڑھا کرو، اس کا یاد کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست (جادوگر) اس کی ہمت نہیں رکھتے۔“
(ب) معاویہ بن سلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْبَطَلَةُ» سے مراد «السَّحَرَةُ» یعنی جادوگر ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4056]
(ب) معاویہ بن سلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْبَطَلَةُ» سے مراد «السَّحَرَةُ» یعنی جادوگر ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 804»
الحكم على الحديث: صحيح
819. -- باب: مقدار ما يستحب له أن يختم فيه القرآن من الأيام
-- باب: ان دنوں کی مقدار کا بیان جن میں قرآن مجید ختم کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 4057
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: وَأَحْسَبُنِي أَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ" قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً" قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشَرَةَ" قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ:" فَاقْرَأْ فِي عَشَرَةٍ" قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ:" فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ہر ماہ میں قرآن ختم کر۔“ میں نے کہا: میں (اس سے کم میں ختم کرنے کی) طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر بیس راتوں میں ختم کرلیا کر۔“ میں نے کہا: اس سے بھی زیادہ قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پندرہ دنوں میں مکمل کرلیا کر۔“ میں نے کہا: میں اس سے کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو دس دن میں ختم کرلیا کر۔“ میں نے کہا: میں پھر بھی قوت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سات دنوں میں ختم کرلیا کر اور اس سے جلدی ختم نہ کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4057]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 5054»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4058
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الضَّخْمُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً ⦗٥٥٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى وَعَنْ سَعْدِ بْنِ حَفْصٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
ایک دوسری سند سے بالکل اسی طرح کی حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4058]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4059
أنبأ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فِي سَبْعٍ وَلَا تَقْرَءُوُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَلْيُحَافِظِ الرَّجُلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَلَى جُزْئِهِ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي رَمَضَانَ فِي ثَلَاثٍ، وَفِي غَيْرِ رَمَضَانَ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَمَانٍ، وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو سات دن میں مکمل پڑھا کرو اور اس کو تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کرو اور آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر دن رات میں (کم از کم) قرآن کے ایک پارے کی (تلاوت) پر محافظت کرے۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں یہ روایت بیان کی گئی کہ وہ رمضان المبارک میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے اور غیر رمضان میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک قرآن مکمل کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر آٹھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔
(د) سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے۔
(ہ) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی پوری رات کو زندہ رکھتے (یعنی عبادت کرتے) اور ہر رکعت میں قرآن مکمل پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4059]
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں یہ روایت بیان کی گئی کہ وہ رمضان المبارک میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے اور غیر رمضان میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک قرآن مکمل کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر آٹھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔
(د) سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے۔
(ہ) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی پوری رات کو زندہ رکھتے (یعنی عبادت کرتے) اور ہر رکعت میں قرآن مکمل پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4059]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطبراني في الكبير 9/143/8707»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4060
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ قَالَ: لَأَنْ أَقْرَأَ الْبَقَرَةَ فِي لَيْلَةٍ فَأَتَدَّبَّرَهَا وَأُرَتِّلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَقَرَأَهَا كَمَا تَقْرَأُ".
ابوحمزہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: میں بہت تیز تیز قرآن پڑھتا ہوں، میں تین دن میں (پورا) قرآن پڑھ لیتا ہوں! فرمایا: میں ایک رات میں صرف سورۃ البقرہ پڑھوں، اس میں غور و فکر کروں اور اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں تمہاری طرح پڑھوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4060]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2/489/4187»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4061
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةً وَاحِدَةً أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ فَإِنْ كُنْتَ فَاعِلًا لَا بُدَّ فَاقْرَأْهُ قِرَاءَةً تُسْمِعُ أُذُنَيْكَ وَيَعِيهِ قَلْبُكَ".
ابوحمزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں تیز قرأت کرنے والا آدمی ہوں اور کبھی کبھار تو میں ایک رات میں ایک بار، دو بار قرآن پڑھ لیتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک ہی سورت پڑھوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں اس طرح کروں جس طرح تم کرتے ہو (یعنی ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ ختم۔)
اگر تو نے لازمی اس طرح کرنا ہی ہے تو (کم از کم) اس طرح پڑھ کہ تو اپنے کانوں کو سنا سکے اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4061]
اگر تو نے لازمی اس طرح کرنا ہی ہے تو (کم از کم) اس طرح پڑھ کہ تو اپنے کانوں کو سنا سکے اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4061]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وهو عندالمصنف في الشعب 5/175/2091 وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح