السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
971. -- باب: من استحب تأخيرها حتى ترمض الفصال
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اسے اتنی تاخیر سے پڑھنا مستحب قرار دیا کہ اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں گرمی سے جلنے لگیں۔
حدیث نمبر: 4908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ:" أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ". وَقَالَ مَرَّةً وَأُنَاسًا يُصَلُّونَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
قاسم شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو مسجدِ قبا میں چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: حالانکہ انھیں علم ہے کہ اس وقت کے علاوہ نماز پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ”صلوٰۃ الاوابین کا وقت جب اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہو جائیں۔“ اور ایک مرتبہ فرمایا: جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4908]
تخریج الحدیث: «حسن۔ مسلم 748»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4909
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ رَأَى نَاسًا جُلُوسًا إِلَى قَاصٍّ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ.
قاسم شیبانی رحمہ اللہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انہوں نے مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی کی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ» ”صلاۃ الاوابین“ کا وقت وہ ہے جب «تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ”اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہو جائیں۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4909]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 4910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى لَا يُنْهِضُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ".
قاسم بن عبدالرحمن سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ باوضو ہو کر فرض نماز پڑھنے کے لیے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے احرام باندھ کر حج کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور جو بندہ صرف چاشت کے نفل پڑھنے ہی کے ارادے سے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے عمرہ کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور وہ نماز جو نماز کے بعد ادا کی جائے اور ان کے درمیان فضول بات نہ کی ہو، وہ «عِلِّیِّینَ» میں لکھ دی جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ ابوداؤد 558»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
972. -- باب: ذكر الحديث الذي روي في ترك الرسول صلى الله عليه وسلم صلاة الضحى، وأن المراد به أنه كان لا يداوم عليها
-- باب: اس حدیث کا تذکرہ جو رسول اللہ ﷺ کے نماز چاشت ترک کرنے کے بارے میں مروی ہے، اور یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس پر ہمیشگی اختیار نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 4911
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا". زَادَ مَعْمَرٌ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ⦗٧١⦘ وَعِنْدِي وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ مَا رَأَيْتُهُ دَاوَمَ عَلَى سُبْحَةِ الضُّحَى" وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" أَيْ أُدَاوِمُ عَلَيْهَا. وَكَذَا قَوْلُهَا:" مَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا" تَعْنِي الْمُدَاوَمَةَ عَلَيْهَا فَقَدْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہمیشہ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں ان نوافل کو (ہمیشہ) پڑھتی ہوں۔
(ب) معمر کی روایت میں اضافہ ہے کہ لوگوں نے کوئی ایسی چیز ایجاد نہیں کی، جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو۔
(نوٹ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان «إِنِّي لَأُسَبِّحُهَا» ”یعنی میں ان پر ہمیشگی کرتی ہوں“، «وَمَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا» ”سے ان کی مراد اس نماز پر ہمیشگی کرنا تھی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4911]
(ب) معمر کی روایت میں اضافہ ہے کہ لوگوں نے کوئی ایسی چیز ایجاد نہیں کی، جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو۔
(نوٹ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان «إِنِّي لَأُسَبِّحُهَا» ”یعنی میں ان پر ہمیشگی کرتی ہوں“، «وَمَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا» ”سے ان کی مراد اس نماز پر ہمیشگی کرنا تھی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1123»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ:" لَا، إِلَّا أَنْ يَجِئَ مِنْ مَغِيبِهِ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَطَرٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي هَذَا إِثْبَاتُ فِعْلِهَا إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِهِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهَا أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْنَا مِنَ التَّأْوِيلِ، وَقَدْ بُيِّنَتِ الْعِلَّةُ فِي تَرْكِهِ الْمُدَاوَمَةَ عَلَيْهَا.
عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں، سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے۔
(ب) معاذہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات پڑھتے تھے اور جتنا چاہتے زیادہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4912]
(ب) معاذہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعات پڑھتے تھے اور جتنا چاہتے زیادہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4912]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 717»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4913
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں انہیں پڑھتی ہوں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس ڈر سے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور وہ ان پر فرض کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4911»
الحكم على الحديث: صحيح
973. -- باب: الخبر الذي جاء في الصلاة التي تسمى صلاة الزوال
-- باب: اس حدیث کا بیان جو اس نماز کے بارے میں آئی ہے جسے زوال کی نماز کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبَى إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوَّعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ لَنَا:" وَمَنْ يُطِيقُهُ؟" قُلْنَا: حَدِّثْنَاهُ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الْعَصْرِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِمَا بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى ⦗٧٢⦘ إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى فَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الظُّهْرِ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ يَفْعَلُ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْعَلُ فِيهِنَّ مِثْلَ ذَلِكَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبَى إِسْحَاقَ. وَزَادَ إِسْرَائِيلُ فِي رِوَايَتِهِ: وَقَلَّمَا يُدَاوِمُ عَلَيْهَا.
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کے نفلوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ہم سے کہا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: آپ ہمیں بیان کریں ہم اس کی طاقت رکھیں گے جتنا ہو سکا۔ فرمانے لگے: فجر کی نماز پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے بلند ہونے تک ٹھہر جاتے، اس کا اندازہ عصر کا ہے، پھر کھڑے ہوتے دو رکعت نماز پڑھتے، ان کے درمیان سلام کے ذریعے فاصلہ کرتے اور سلام مقربین فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر چاشت کے وقت تک رک جاتے، اس کا اندازہ ظہر کا ہے، پھر کھڑے ہو کر چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کرتے اور مقربین فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر سورج ڈھلنے تک رک جاتے، پھر چار رکعات نماز ادا کرتے، ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور یہ مقربین فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر دو رکعت ظہر کے بعد پڑھتے، اس میں بھی اسی طرح کرتے، پھر چار رکعات عصر سے پہلے پڑھتے، اس میں بھی اسی طرح کرتے۔
(ب) اسرائیل کی روایت میں اضافہ ہے کہ اس پر ہمیشگی نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4914]
(ب) اسرائیل کی روایت میں اضافہ ہے کہ اس پر ہمیشگی نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ترمذي 598»
الحكم على الحديث: جيد
حدیث نمبر: 4915
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبَى إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوَّعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ مِنْكُمْ؟ قُلْنَا: نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ كَهَيْئَتِهَا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الْعَصْرِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّقَتْ وَكَانَتْ مِنَ الْمَشْرِقِ كَهَيْئَتِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الظُّهْرِ قَامَ ⦗٧٣⦘ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي الظُّهْرَ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِمِثْلِ ذَلِكَ". ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ،" فَهَذِهِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلَّمَا يُدَاوِمُ عَلَيْهَا". تَفَرَّدَ بِهِ عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يُضَعِّفُهُ فَيَطْعَنُ فِي رِوَايَتِهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دن کی نفل نمازوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: ہم اتنا کریں گے جتنی طاقت رکھیں گے۔ وہ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے جب تک سورج مشرق کی جانب سے اس حالت پر نہ آ جاتا جیسے عصر کے وقت مغرب کی جانب سے ہوتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرتے، پھر رک جاتے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا اور مکمل ٹکیا بن جاتی اور اس کی وہ حالت ہو جاتی جو مشرق سے مغرب کی جانب آتے ہوئے ہوتی ہے، پھر ظہر کے وقت کھڑے ہو کر چار رکعات ادا کرتے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر سورج کے ڈھل جانے تک رک جاتے، پھر ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، ان میں ایسے ہی فاصلہ کرتے، پھر ظہر کی نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعات ادا کرتے، پھر عصر سے پہلے چار رکعات ادا فرماتے، ان میں بھی اسی طرح فاصلہ کرتے، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ یہ سولہ رکعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کے نفل تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر کم ہی ہمیشگی کرتے تھے۔
اس روایت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے میں عاصم بن ضمرہ منفرد ہیں، اور عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ انہیں ضعیف قرار دیتے تھے اور ان کی اس حدیث کی روایت پر جرح کرتے تھے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4915]
اس روایت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے میں عاصم بن ضمرہ منفرد ہیں، اور عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ انہیں ضعیف قرار دیتے تھے اور ان کی اس حدیث کی روایت پر جرح کرتے تھے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4915]
تخریج الحدیث: «جيد۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: جيد
974. -- باب: ما جاء في صلاة التسبيح
-- باب: صلوۃ التسبیح کے بارے میں جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4916
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً عَلَيْنَا مِنْ حِفْظِهِ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقِنْبَارِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:" يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَجْزِيكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، عَمْدَهُ وَخَطَأَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ، أَنْ تُصَلَّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ، ثُمَّ تَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، ثُمَّ تَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِكَ مِنَ السُّورَةِ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ قَائِمٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ مَرَّةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً"..
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خوبیاں نہ بتاؤں؟ جب آپ یہ کریں گے تو اللہ آپ کے پہلے اور بعد والے، نئے اور پرانے، جان بوجھ کر کیے ہوئے اور غلطی سے ہو جانے والے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ معاف کر دیں گے، وہ دس چیزیں یہ ہیں کہ تو چار رکعات ادا کر اور تکبیر کہہ کر ابتدا کر، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، پھر سورت سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہو کر «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» پندرہ بار پڑھ، پھر رکوع کر اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر رکوع سے سر اٹھا اور کھڑے ہونے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدہ کر اور سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ۔ ہر رکعت میں یہ کل 75 مرتبہ ہو جائے گا۔ اگر تو ہر روز پڑھ سکے تو ایسا کر اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ہر ہفتہ میں، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو مہینہ میں ایک مرتبہ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو عمر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1297»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ: صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ قَبْلَ قَوْلِهِ: سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، وَكَأَنَّهُ سَقَطَ عَلَيَّ أَوْ عَلَى شَيْخِي فِي الْإِمْلَاءِ..
عبدالرحمن بن بشر بن حکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ ”چھوٹے اور بڑے گناہ بھی“، اس قول سے قبل کہ ”اس کے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف کیے جائیں گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1297»
الحكم على الحديث: ضعيف