السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
979. -- باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر
-- باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ حَاتِمٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ⦗٨٢⦘ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْمَى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ وَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا، أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِي دَارِي؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَاخْرُجْ". خَالَفَهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں اذان سنتا ہوں لیکن مجھے لانے والا کوئی نہیں، کیا میں اپنے گھر میں مسجد بنا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان سنتے ہو؟“ کہنے لگا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان سنتے ہو تو نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4947]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4948
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَاوِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ:" أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً"..
ابو رزین رحمہ اللہ، سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بوڑھا نابینا آدمی ہوں، میرا گھر دور ہے اور میرا ایک رہنما ہے جو میرے موافق نہیں، کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اذان سنتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4948]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظرماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ. وَرَوَاهُ أَبُو سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابو رزین، ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4946»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ السِّبَاعِ وَالْهَوَامِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْمَعُ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيْ هَلَّا". قَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: لَيْسَ فِي أَمَرِهِ هَذَا الْأَعْمَى بِحُضُورِ الْجَمَاعَةِ مَا يَدُلُّ أَنَّ حُضَورَهَا فَرْضٌ لِأَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِعِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ أَعْمَى، التَّخَلُّفَ عَنْ ⦗٨٣⦘ حُضُورِهَا فَدَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ" لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً" أَيْ لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً تَلْحَقُ فَضِيلَةَ مَنْ حَضَرَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا التَّأْوِيلَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مدینہ میں موذی جانور اور درندے بہت زیادہ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» سنتے ہو؟ تو نماز کی طرف آؤ۔“
نوٹ: ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں: اس نابینا کو جماعت میں حاضر ہونے کا حکم دینے میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ جماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو، جو نابینا تھے، جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی تھی۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا“ کا مطلب یہ ہے کہ میں تیرے لیے ایسی رخصت نہیں پاتا جس سے تجھے جماعت میں حاضر ہونے والے کی فضیلت مل جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4950]
نوٹ: ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں: اس نابینا کو جماعت میں حاضر ہونے کا حکم دینے میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ جماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو، جو نابینا تھے، جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی تھی۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا“ کا مطلب یہ ہے کہ میں تیرے لیے ایسی رخصت نہیں پاتا جس سے تجھے جماعت میں حاضر ہونے والے کی فضیلت مل جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4950]
تخریج الحدیث: «قوي۔ ابوداؤد 553»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 4951
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي قَائِدًا لَا يُلَاوِمُنِي فِي هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ:" أِيُّ الصَّلَاتَيْنِ؟" قُلْتُ: الْعِشَاءُ وَالصُّبْحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ الْقَاعِدُ عَنْهُمَا مَا فِيهِمَا لَأَتَاهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقِيلَ عَبْدَ اللهِ، وَقِيلَ عَمْرٌو.
علاء بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے لانے والا موجود ہے لیکن ان دو نمازوں میں وہ مجھے نہیں لا سکتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون سی دو نمازیں؟“ انہوں نے کہا: ”عشاء اور صبح۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ان دونوں نمازوں سے پیچھے رہنے والا جان لے کہ ان دو نمازوں کا کیا اجر و ثواب ہے تو وہ ان کے وقت ضرور آئے، اگرچہ اس کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ابن ام مکتوم کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ عبداللہ اور کہا گیا ہے کہ عمرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4951]
شیخ فرماتے ہیں: ابن ام مکتوم کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ عبداللہ اور کہا گیا ہے کہ عمرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4952
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سَنَةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
ابواحوص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کر دیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 654»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4953
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ، لَا يَسْتَطِيعُونَهُمَا" أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَيُشْبِهُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَمِّهِ بِأَنْ يُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ أَنْ يَكُونَ مَا قَالَهُ فِي قَوْمٍ تَخَلَّفُوا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ لِنِفَاقٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق صبح اور عشاء کی نماز میں حاضر ہونا ہے، وہ ان میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4953]
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الشافعي 214»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی کو فجر اور عشاء کی نماز میں غائب پاتے تو ہمارا گمان ان کے بارے میں برا ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الطبراني في الكبير 13085»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
980. -- باب: ما جاء في فضل صلاة الجماعة
-- باب: باجماعت نماز کی فضیلت کے متعلق جو روایات آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 4955
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً". وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ" تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز باجماعت اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔“
امام شافعی کی روایت میں ہے کہ ”اکیلے کی نماز سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4955]
امام شافعی کی روایت میں ہے کہ ”اکیلے کی نماز سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 619»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4956
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ".
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز باجماعت اکیلے آدمی کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح