السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
986. -- باب: الاثنين فما فوقهما جماعة
-- باب: دو یا دو سے زیادہ افراد جماعت ہیں۔
حدیث نمبر: 5007
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ. وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ؟".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5007]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد 574»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5008
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلُوشَا الْأَسَدْأَبَاذِي بِهَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ هُوَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنِي يَحْيَى بْنَ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيلَةُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ" ⦗٩٨⦘ كَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَلِيلَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَيْضًا ضَعِيفٍ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو یا زیادہ افراد ہوں تو جماعت ہیں۔“
علیلہ، جو ربیع بن بدر ہیں، ضعیف ہیں، اور یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی ضعیف طور پر مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5008]
علیلہ، جو ربیع بن بدر ہیں، ضعیف ہیں، اور یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی ضعیف طور پر مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5008]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابن ماجه 972»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 5009
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجْرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَالرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ فِرَاشِهِ".
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی سواری کے اگلے حصہ کا زیادہ حق رکھتا ہے اور آدمی اپنے بستر کے سرہانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5009]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
987. -- باب: من خرج يريد الصلاة فسبق بها
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز کے ارادے سے نکلا لیکن جماعت ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا، ثنا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبُخَارِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ، عَنْ مِحْصَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا، أَعْطَاهُ اللهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ چلا اور اس نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے، تو اللہ اس کو اتنا اجر دے گا جتنا نماز پڑھنے اور اس میں حاضر ہونے والوں کو ملتا ہے اور ان کے اجر میں بھی کمی نہ کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أبو داؤد 564»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 5011
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلُّوا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلُّوا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ کہنے لگا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور صرف اللہ سے ثواب کی امید پر بیان کرنے لگا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز کی طرف نکلے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ نیکی لکھ دیتے ہیں اور جب بایاں قدم رکھتا ہے تو اس کے بدلے ایک برائی ختم کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ قدم قریب قریب رکھے یا دور دور؛ اور اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے تو اس کو معاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ مسجد آتا ہے اور کچھ حصہ نماز کا پڑھا جا چکا اور کچھ باقی تھا، پھر اس نے جتنی نماز پائی پڑھ لی اور باقی پوری کر لی تو وہ انہی کی طرح ہے، اور اگر وہ مسجد آتا ہے اور انہوں نے نماز پڑھ لی ہے اور وہ اپنی نماز پوری کر لیتا ہے تو وہ بھی اسی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5011]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد 563»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
988. -- باب: الجماعة في مسجد قد صلي فيه إذا لم يكن فيها تفرق الكلمة
-- باب: اس مسجد میں جماعت کروانے کا بیان جس میں نماز پڑھی جا چکی ہو بشرطیکہ اس میں انتشار کا اندیشہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5007»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5013
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ..
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون صدقہ کرے گا اس پر؟“ تو ایک شخص نے اس کے ساتھ پڑھ لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5007»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5014
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنِ الْخَصِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى مَعَهُ، وَقَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حسن رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی حالانکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن أبي شيبه 6660»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ثنا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ:" صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ وَجَلَسْنَا، فَجَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي نَحْوٍ مِنْ عِشْرِينَ مِنْ فِتْيَانِهِ، فَقَالَ:" أَصَلَّيْتُمْ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، فَأَمَرَ بَعْضَ فِتْيَانِهِ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ".
ابو عثمان یشکری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مسجد بنو رفاعہ میں صبح کی نماز پڑھی اور ہم بیٹھ گئے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیس نوجوانوں کے ہمراہ آئے اور فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کسی نوجوان کو اذان کا حکم دیا، اس نے اذان اور اقامت کہی، پھر وہ آگے بڑھے اور ان کو نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن أبي شيبه 7094»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5016
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ:" جَاءَنَا أَنَسٌ وَقَدْ صَلَّيْنَا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ". وَعَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَرِهَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: كَرَاهِيَةُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مَحْمُولَةٌ عَلَى مَوْضِعٍ يَكُونُ الْجَمَاعَةُ فِيهِ بَعْدَ أَنْ صُلِّيَ تَفَرُّقُ الْكَلِمَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس انس رضی اللہ عنہ آئے اور ہم نے نماز پڑھ لی تھی، انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔
یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ کی ناپسندیدگی اس جگہ پر محمول ہے جہاں نماز ہو جانے کے بعد جماعت کروانا لوگوں میں تفرقہ کا سبب ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5016]
یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ کی ناپسندیدگی اس جگہ پر محمول ہے جہاں نماز ہو جانے کے بعد جماعت کروانا لوگوں میں تفرقہ کا سبب ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 3418»
الحكم على الحديث: صحيح