🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1055. -- باب: الإمام يؤخر الصلاة والقوم لا يخشونه
-- باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس (کے تسلط) سے نہ ڈرتے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5314
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، وَيُحْدِثُونَ الْبِدْعَةَ"، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَكَيْفَ أَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ:" تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللهَ". تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ" وَيُطْفِئُونَ السُّنَّةَ".
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امیر ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے اور بدعات جاری کریں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگر میں ان کو پالوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے سوال کرتے ہو تم کیا کرو! جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5314]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه 2865»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1056. -- باب: الإمام يؤخر الصلاة والقوم يخافون سطوته
-- باب: امام نماز کو مؤخر کرے اور لوگ اس کے رعب و دبدبے سے ڈرتے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5315
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ أَوْ قَالَ: يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا" قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ؛ فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
عبداللہ بن صامت، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس وقت کیا کرو گے جب امیر تم پر نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے؟“ یا فرمایا: ”نمازوں کا وقت نکال دیا کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھو، اگر ان کے ساتھ نماز کو پالو تو وہ نماز تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5315]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 648»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ وَهُوَ دُحَيْمٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْيَمَنَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا قَالَ: فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ بِرَجُلٍ أَجَشِّ الصَّوْتِ، قَالَ: قَالَ: فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وَقْتِهَا؟" ⦗١٧٨⦘ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً".
عمرو بن میمون اودی فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر یمن آئے۔ میں نے ان کی تکبیر نماز فجر میں سنی، وہ بھاری (گمبھیر) آواز والے آدمی تھے۔ ان کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی، میں اس سے جدا نہیں ہوا یہاں تک کہ ملک شام میں میں نے اس کو دفن کیا۔ پھر میں نے تمام لوگوں سے زیادہ فقیہ اس کے بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا، میں ان کے پاس آگیا۔ میں ان کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے اس وقت جب امراء نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر کے پڑھیں گے؟“ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں اس وقت کو پالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5316]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابن حبان 1481»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1057. -- باب:: إذا اجتمع القوم فيهم الوالي
-- باب: جب لوگ جمع ہوں اور ان میں حاکم بھی موجود ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5317
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ". لَفْظُ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کرائے جو قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو جو سنت کو زیادہ جانتا ہو۔ اگر وہ سنت میں بھی برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے پہلے ہو، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔ کوئی شخص کسی کی امامت اس کی بادشاہی میں نہ کروائے اور نہ ہی اس کے گھر اس کی عزت والی جگہ پر بیٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5317]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5285»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1058. -- باب: إمامة القوم لا سلطان فيهم وهم في بيت أحدهم
-- باب: ایسے لوگوں کی امامت جن میں کوئی حکمران نہ ہو اور وہ ان میں سے کسی کے گھر میں ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5318
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ"، أَوْ قَالَ:" إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ"..
سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کروائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اور ہجرت کے اعتبار سے مقدم ہو، اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو ہجرت کے اعتبار سے جو مقدم ہو۔ اگر ہجرت کے اعتبار سے برابر ہوں تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔ کوئی بندہ کسی کی امامت اس کے گھر اور بادشاہی میں نہ کروائے اور اس کی عزت والی جگہ پر بغیر اجازت نہ بیٹھے“ یا یہ فرمایا: ”مگر وہ اس کو اجازت دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5285»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5319
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا"، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ: وَمَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ..
اسماعیل بن رجا نے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا اور قرأت کے اعتبار سے مقدم۔ اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔“ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اس کی عزت کی جگہ کون سی ہے؟ فرمایا: ”اس کا بستر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5319]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 582»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5320
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ⦗١٧٩⦘ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ فُورَكٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ" وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا فِي أَهْلِهِ، وَلَا يُقْعَدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَوْ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ" أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً".
ایک دوسری سند سے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کی اس کی بادشاہی میں اور اس کے گھر والوں میں امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ پر بیٹھا جائے مگر اس کی اجازت سے“ یا فرمایا: ”مگر یہ کہ وہ اسے اجازت دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5320]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5285»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5321
وَحَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْبَدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ لِكِتَابِ اللهِ وَأَقْدَمُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُكُمْ سَوَاءً فَأَقْدَمُكُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَتْ هِجْرَتُكُمْ سَوَاءً فَأَقْدَمُكُمْ سِنًّا، وَلَا يَؤُمُّ رَجُلٌ رَجُلًا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا فِي أَهْلِهِ، وَلَا يَجْلِسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو بدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری امامت وہ کروائے جو قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا ہو اور قرآن کی قرأت میں مقدم ہو۔ اگر تمہاری سب کی قرأت برابر ہو تو تم میں سے ہجرت کے اعتبار سے مقدم، اگر تمہاری ہجرت برابر ہو تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو اور کوئی بندہ کسی کی بادشاہی اور اس کے گھر میں امامت نہ کروائے اور نہ ہی گھر میں اس کی عزت والی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5285»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5322
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ، وَمَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ قَالَ: أَتَيْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي بَيْتِهِ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَقُلْنَا لِقَيْسٍ: قُمْ فَصَلِّ لَنَا، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ بِقَوْمٍ لَمْ أَكُنْ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: لَيْسَ بِدُونِهِ، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَبِصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَأَحَقُّ أَنْ يَؤُمَّ فِي رَحْلِهِ". قَالَ قَيْسٌ عِنْدَ ذَلِكَ لِمَوْلًى لَهُ: قُمْ فَصَلِّ لَهُمْ".
معبد بن خالد، عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ہم قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر آئے تو انہوں نے نماز کے لیے اذان دی، ہم نے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا: جماعت کراؤ۔ انہوں نے کہا: میں ایسی قوم کو جماعت نہیں کراؤں گا جن کا میں امیر نہیں، تو دوسرے شخص یعنی عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی سواری کے اگلے حصہ کا زیادہ حقدار ہے، اسی طرح اپنے گھر میں اپنے بستر کا، اور وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اپنے گھر میں امامت کروائے۔“ تو قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے کہا: کھڑے ہو جاؤ اور ان کو نماز پڑھاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5322]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ الحاكم 2/73»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5323
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي أَسِيدٍ قَالَ:" زَارَنِي حُذَيْفَةُ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَرَادَ أَبُو ذَرٍّ أَنْ يَتَقَدَّمَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: رَبُّ الْبَيْتِ أَحَقُّ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: نَعَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ".
ابو سعید جو ابو اُسَید کے غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے تو نماز کا وقت ہو گیا، ابوذر رضی اللہ عنہ نے جماعت کروانے کا ارادہ کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”گھر کا مالک زیادہ حق رکھتا ہے“، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی کہہ دیا: ”اے ابوذر! بات ایسے ہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5323]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبد الرزاق 3818»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں