السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1062. -- باب: السمع والطاعة للإمام ما لم يأمر بمعصية من تأخير الصلاة عن وقتها وغير ذلك
-- باب: امام کی بات سننا اور ماننا جب تک کہ وہ کسی نافرمانی کا حکم نہ دے جیسے نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا اور دیگر امور
حدیث نمبر: 5334
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ⦗١٨٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ"..
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے جس کو وہ پسند ہو یا نہ ہو جب تک نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اطاعت واجب نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2796»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5335
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ" مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
عبید اللہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح حدیث ذکر کی ہے، فرماتے ہیں: ”جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: «صحيح انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح انظر ما قبله
حدیث نمبر: 5336
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ قَوْمٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا"، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ:" يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللهَ" قَالَهَا ثَلَاثًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”عنقریب ایسی قوم تمہارے کاموں کی والی بن جائے گی جو سنت کو ختم کریں گے اور بدعات کو جاری کریں گے اور نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان کو پالوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام عبد کے بیٹے! اس کی اطاعت واجب نہیں جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 5314»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5337
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ إِيَاسٍ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُ مْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم ایسی اقوام کو پالو جو نمازوں کو مؤخر کر کے پڑھیں گی۔ اگر تم ایسے لوگوں کو پالو تو تم نماز اپنے گھروں میں وقت پر پڑھ لو، جس وقت کو تم پہچانتے ہو۔ پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لو اور اس کو نفل بنا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ مسلم 534»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5338
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَبُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَفَعَهُ قَالَ: ضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟"، ثُمَّ قَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اخْرُجْ فَإِنْ كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ مُسْنَدًا.
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تو ایسی قوم میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟“ پھر فرمایا: ”نماز اس کے وقت میں پڑھ، پھر نکل، اگر تو مسجد میں ہو اور اقامت کہہ دی جائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5315»
الحكم على الحديث: صحيح
1063. -- باب: ما جاء فيمن أم قوما وهم له كارهون
-- باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو لوگوں کی امامت کرائے درآں حالیکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 5339
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗١٨٣⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُمْ صَلَاةً: مَنْ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا قَالَ: وَالدِّبَارُ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا بَعْدَ فَوْتِ الْوَقْتِ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ فِي هَذَا الْبَابِ: يُقَالُ: لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَلَا صَلَاةُ امْرَأَةٍ وَزَوْجُهَا عَاتِبٌ عَلَيْهَا، وَلَا عَبْدٌ آبِقٌ حَتَّى يَرْجِعَ، وَلَمْ أَحْفَظْهُ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْمَعْنَى إِنَّمَا يُرْوَى بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ أَحَدُهُمَا مُرْسَلٌ وَالْآخَرُ مَوْصُولٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین بندوں کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے: ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو، ایسا آدمی جو نماز کا وقت ختم ہونے کے بعد نماز پڑھے اور ایسا آدمی جس نے آزاد کو غلام بنا دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا بندہ جو امام بنا ہوا ہے لیکن قوم اسے ناپسند کرتی ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو، بھاگا ہوا غلام جب تک واپس نہ لوٹے اور فرمایا: مجھے وہ علت اور وجہ یاد نہیں جس کی بنا پر اہل علم اس حدیث کو ثابت کرتے ہیں۔
یہ حدیث اس معنی میں صرف دو ضعیف سندوں سے مروی ہے، ان میں سے ایک مرسل ہے اور دوسری موصول۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5339]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا بندہ جو امام بنا ہوا ہے لیکن قوم اسے ناپسند کرتی ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو، بھاگا ہوا غلام جب تک واپس نہ لوٹے اور فرمایا: مجھے وہ علت اور وجہ یاد نہیں جس کی بنا پر اہل علم اس حدیث کو ثابت کرتے ہیں۔
یہ حدیث اس معنی میں صرف دو ضعیف سندوں سے مروی ہے، ان میں سے ایک مرسل ہے اور دوسری موصول۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أبو داؤد 593»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5340
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ رُءَوْسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا سَاخِطٌ عَلَيْهَا، وَمَمْلُوكٌ فَرَّ مِنْ مَوْلَاهُ"..
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی نمازیں ان کے سروں سے آگے نہیں گزرتیں: ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو اور ایسی عورت جو رات گزارتی ہے اور اس کا خاوند اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایسا غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5340]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ترمذي 360»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5341
وَبِإِسْنَادِهِمَا ثنا بَقِيَّةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَمْثَلُ مِنْ هَذَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ قَوِيٍّ أَيْضًا، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ مَا.
ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
عبدالرحمن بن زیاد کی حدیث اس سے بہتر ہے اگرچہ وہ بھی قوی نہیں، اور قتادہ کی حدیث میں سے محفوظ وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5341]
عبدالرحمن بن زیاد کی حدیث اس سے بہتر ہے اگرچہ وہ بھی قوی نہیں، اور قتادہ کی حدیث میں سے محفوظ وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5342
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ سَيِّدِهِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ، وَامْرَأَةٌ بَاتَ زَوْجُهَا غَضْبَانُ عَلَيْهَا، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ". وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ فِي الْإِمَامَةِ وَالْمَرْأَةِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ.
معمر رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین بندے ایسے ہیں کہ ان کی نمازیں ان کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتیں: اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام یہاں تک کہ وہ اپنے آقا کے پاس واپس آ جائے، ایسی عورت کہ اس کا خاوند اس حال میں رات گزارے کہ اس پر ناراض ہو، اور ایسا امام جس کو قوم ناپسند کرتی ہو۔“
یہ روایت ابو غالب عن ابی امامہ کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5342]
یہ روایت ابو غالب عن ابی امامہ کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ عبد الرزاق 20449»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
1064. -- باب: ارتفاع الكراهية إذا كان أكثرهم به راضين
-- باب: جب ان کی اکثریت اس (امام) سے راضی ہو تو کراہت کا ختم ہو جانا
حدیث نمبر: 5343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ ⦗١٨٤⦘ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ عَلَى إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنَّ أَبَاهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.
عبداللہ بن دینار ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنا دیا۔ اس کی امارت پر بعض لوگوں نے تنقید کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی امارت پر تنقید کرتے ہو تو تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اس سے پہلے تنقید کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ (اس کا باپ) یقیناً امارت کا اہل تھا، اس کا باپ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھا اور یہ مجھے اس کے باپ کے بعد سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري 3524»
الحكم على الحديث: صحيح بخاري 3524