السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1090. -- باب: المسافر ينتهي إلى الموضع الذي يريد المقام به
-- باب: مسافر اس جگہ پہنچ جائے جہاں وہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے
حدیث نمبر: 5494
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَقْصُرُ إِلَى عَرَفَةَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِلَى جُدَّةَ وَعُسْفَانَ وَالطَّائِفِ، وَإِنْ قَدِمْتَ عَلَى أَهْلٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَأَتِمَّ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا عرفہ میں نماز قصر کروں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ جدہ، عسفان اور طائف میں اور جب تم اپنے گھر یا مویشیوں کے پاس پہنچ جاؤ تو نماز پوری کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5495»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنِ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أُمَيَّةُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْصُرُ مِنْ مُرَّ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَقْصُرُ مِنْ عَرَفَاتٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَقْصُرُ مِنْ جُدَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنَ الطَّائِفِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا أَتَيْتَ أَهْلَكَ أَوْ مَاشِيَتَكَ فَأَتِمَّ الصَّلَاةَ".
عطاء بن ابی رباح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: کیا میں ”مر“ نامی جگہ سے قصر کروں؟ فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: عرفات سے قصر کروں؟ فرمایا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا جدہ سے قصر کروں؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا: طائف سے؟ فرمایا: ہاں اور فرمایا: جب تو اپنے گھر یا مویشیوں کے پاس آجائے تو پوری نماز پڑھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث: «صحيح انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح انظر ما قبله
1091. -- باب:: لا تخفيف عمن كان سفره في معصية الله
-- باب: جس کا سفر اللہ کی نافرمانی میں ہو اس کے لیے کوئی تخفیف (رخصت) نہیں ہے
حدیث نمبر: 5496
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ} [البقرة: ١٧٣] يَقُولُ:" غَيْرَ قَاطَعِ السَّبِيلِ، وَلَا مَفَارِقِ الْأَئِمَّةِ، وَلَا خَارِجٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ﴾ [سورة البقرة: 173] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ڈاکو نہ ہو، ائمہ (حکمرانوں) سے الگ ہونے والا نہ ہو، اور اللہ کی نافرمانی میں نکلنے والا نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5496]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراي في تفسيره 2/88»
الحكم على الحديث: صحيح
1092. -- باب: الاجتماع للصلاة في السفر
-- باب: سفر میں نماز کے لیے جمع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَّبِعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح نامی جگہ پر چمڑے کے بنے ہوئے سرخ خیمہ میں تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر نکلے تو کوئی اس میں سے حاصل کر رہا تھا اور کوئی (دوسرے سے لے کر) چھڑک رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سرخ رنگ کی چادر تھی۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، میں ان کے منہ کو ادھر ادھر (مڑتے) دیکھتا رہا، وہ دائیں بائیں (منہ پھیر کر) کہہ رہے تھے: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے اور کتے گزر رہے تھے، ان کو روکا نہیں گیا۔ پھر دو رکعت عصر کی پڑھائی۔ پھر مدینہ واپس آنے تک اس طرح دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 503»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5498
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وُضُوءَهُ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ مِنْهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ صَاحِبِهِ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، يُصَلِّي إِلَى عَنَزَةٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى كَثِيرَةٌ.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ خیمے میں دیکھا اور میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر آئے، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کی جانب جلدی کر رہے تھے اور اس کو ہاتھوں پر مل رہے تھے، جس نے کچھ نہ پایا وہ اپنے ساتھی سے تری حاصل کر رہا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5498]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1093. -- باب: المسافر يصلي بالمسافرين والمقيمين
-- باب: مسافر امام کا مسافروں اور مقیموں کو نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ يَقُولُ:" يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنَّا سَفْرٌ". ⦗٢٢٤⦘ وَرُوِّينَا قَبْلَ هَذَا فِي الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِثْلُ ذَلِكَ.
ابونضرہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور میں فتح مکہ میں بھی حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا، صرف دو دو رکعات ادا کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے شہر والو! تم چار رکعات پڑھو، ہم مسافر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5499]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1229»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5500
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِأَهْلِ مَكَّةَ فِي الْحَجِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ بَعْدَمَا سَلَّمَ::" أَتِمُّوا الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ؛ فَإِنَّا سَفْرٌ".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب انہوں نے مکہ والوں کو حج کے دنوں میں نماز پڑھائی، آپ نے دو رکعت نماز سے فراغت کے بعد فرمایا: اے اہل مکہ! تم اپنی نماز پوری کر لو، ہم مسافر ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5500]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 346»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5501
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّهُ قَالَ::" جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْنَا فَأَتْمَمْنَا".
صفوان بن عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن صفوان کی تیمار داری کے لیے آئے۔ انہوں نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر دیا، پھر ہم نے اپنی باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 349»
الحكم على الحديث: صحيح
1094. -- باب: المقيم يصلي بالمسافرين والمقيمين
-- باب: مقیم امام کا مسافروں اور مقیموں کو نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5502
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعات۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 694»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: الْمُسَافِرُ يُدْرِكُ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْقَوْمِ، يَعْنِي الْمُقِيمِينَ، أَتُجْزِيهُ الرَّكْعَتَانِ أَوْ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ؟ قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ:" يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ".
ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مسافر لوگوں کے ساتھ دو رکعات پا لیتا ہے (یعنی حاضر لوگوں کے ساتھ) کیا اس کو دو رکعات کفایت کر جائیں گی یا وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنس پڑے اور فرمایا: وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے یعنی چار رکعات پوری کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5503]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابن أبي شيبه 13978»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ