السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
422. -- باب: تعجيل صلاة العصر
-- باب: عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ⦗٦٤٨⦘ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے، البتہ کبھی کبھار سخت گرمی میں تھوڑا مؤخر بھی کر لیا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل واضح ہوتا (یعنی اس کی تپش موجود ہوتی تھی)۔ آدمی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ تک غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا جب کہ وہ مدینہ سے چھ میل کی مسافت پر ہے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2079
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْحِمْصِيُّ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ شُعَيْبُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ وَكَانَ عُمَرُ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَخَّرَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ يَوْمًا وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو أُمِّهِ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَصَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا أُمِرْتُ فَفَزِعَ عُمَرُ حِينَ حَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِذَلِكَ وَقَالَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ يَا عُرْوَةُ، إِنَّ جِبْرِيلَ لَهُوَ أَقَامَ لَهُمْ وَقْتَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ الشَّمْسُ" فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ يَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاةِ بِعَلَامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا".
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور خلافت میں ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جب کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اس زمانے میں عصر کی نماز مؤخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ایک دن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز مؤخر کر کے ادا کی جب کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ان کے پاس ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ، جو زید بن حسن کے نانا تھے اور بدری صحابی تھے، تشریف لائے اور فرمانے لگے: مغیرہ! یہ کیا ماجرا ہے؟ اللہ کی قسم! آپ جانتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے اور انہوں نے نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔ انہوں نے پھر نماز پڑھی اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ نمازیں ادا کیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے: ”مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے“۔ جب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عمر رحمہ اللہ کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو عمر رحمہ اللہ پریشان ہو گئے اور کہنے لگے: اے عروہ! غور کرو! جو تم بیان کرتے ہو کیا واقعی یقیناً جبرائیل علیہ السلام نے ان کے لیے نماز کے اوقات مقرر کیے تھے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ہاں! بشیر بن ابو مسعود رحمہ اللہ بھی اپنے والد سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2079]
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ثنا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ، أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَعَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، ⦗٦٤٩⦘ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ يُونُسُ: وَاللَّيْثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءَ بَعْدُ، وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ: مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نماز تاخیر سے ادا کی، چنانچہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک دن نماز مؤخر کی تھی تو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مغیرہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے اور انہوں نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی تھی، اسی طرح مکمل حدیث ذکر کی۔
عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں ہوتا۔
یونس اور لیث امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ابن عیینہ امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی)۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2080]
عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں ہوتا۔
یونس اور لیث امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ابن عیینہ امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی)۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2081
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي قَعْرِ حُجْرَتِي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر رہے ہوتے اور سورج کی شعاعیں میرے کمرے کے اندرونی کونے میں لگ رہی ہوتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 520»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فِي قَعْرِ حُجْرَتِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ عَقِيبَ حَدِيثِ مَالِكٍ: وَهَذَا مِنْ أَبْيَنِ مَا رُوِيَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ لِأَنَّ حُجْرَةَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَتْ بِالْوَاسِعَةِ وَذَلِكَ أَقْرَبُ لَهَا مِنْ أَنْ يَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْهَا فِي أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ.
(ا) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے ہمیں مکمل حدیث ذکر کی۔ نیز فرمایا: سورج روشن ہوتا، یعنی میرے حجرے میں چمک رہا ہوتا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2082]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 520»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ ثنا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرِيدُ نَنْحَرُ جَزُورًا لَنَا وَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا قَالَ:" نَعَمْ" فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو بنی سلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے لیے ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آپ بھی موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ چنانچہ آپ چلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ (جب ہم پہنچے) تو ابھی اونٹ ذبح نہیں کیا گیا تھا۔ (ہمارے پہنچنے کے بعد) اونٹ ذبح کیا گیا۔ پھر اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا، پھر اس سے کچھ گوشت پکایا گیا اور ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے کھا بھی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 624»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي ⦗٦٥٠⦘ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ نَطْبُخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ مَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَيْعٌ الْكِلَابِيُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِيلَ فِيهِ: عَبْدُ اللهِ وَقِيلَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى خَطَائِهِ بِحَدِيثِ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعٍ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ ضِدَّ هَذَا.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا اور اس کو دس حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا، پھر اس کو پکایا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے گوشت کھا لیا کرتے تھے۔
(ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے“، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی متابعت نہیں کی گئی، اور انہوں نے اس کی غلطی پر ابو النجاشی کی رافع سے روایت کو دلیل بنایا ہے۔ امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور رافع وغیرہ سے صحیح روایت اس کے برعکس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2084]
(ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے“، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی متابعت نہیں کی گئی، اور انہوں نے اس کی غلطی پر ابو النجاشی کی رافع سے روایت کو دلیل بنایا ہے۔ امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور رافع وغیرہ سے صحیح روایت اس کے برعکس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2353»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ⦗٦٥١⦘ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ لَمْ يُصَلُّوا الْعَصْرَ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِي حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ فَيَخْرُجُ الْإِنْسَانُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں جاتا تو انہیں اس حال میں پاتا کہ انہوں نے ابھی عصر کی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی۔
قعنبی کی حدیث میں «ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» کی جگہ «فَيَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2085]
قعنبی کی حدیث میں «ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» کی جگہ «فَيَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2086
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ثنا فُلَيْحٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا تُنْحَرُ الْجَزُورُ ثُمَّ نَعَضُّهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ وَقَدْرِ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ".
عثمان بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز غروب آفتاب سے تقریباً اتنا پہلے ادا فرماتے تھے کہ اتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کیا جائے، پھر ہم اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں اور اتنا پہلے کہ غروب آفتاب سے پہلے آدمی بنی حارثہ بن حارث سے ہو کر آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابويعلي 4330»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
423. -- باب: كراهية تأخير العصر
-- باب: عصر کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2087
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی، پھر ہم (مسجد سے) نکلے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ عصر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: (چچا جان!) ”یہ کون سی نماز ہے، جو آپ اس وقت ادا کر رہے ہیں؟“ کہنے لگے: ”یہ عصر کی نماز ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 524»
الحكم على الحديث: صحيح