السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
428. -- باب: من استحب تأخيرها
-- باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى ثنا عَوْفٌ ثنا أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ ⦗٦٦٢⦘ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي: حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، قَالَ: وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ.
عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو منہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا: ہمیں بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کس وقت میں ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز جسے تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد ادا فرماتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ اگر ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی چمک رہا ہوتا اور مغرب کا وقت مجھے یاد نہیں رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند فرماتے تھے اور عشا سے پہلے سونے کو ناپسند سمجھتے اور عشا کے بعد بات چیت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (اتنی روشنی ہو جاتی تھی کہ) ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیات فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 516»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2119
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”عشاء کی نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مسلم 643»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدَ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِي سَعِيدٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔“
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث 1758»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو الْيَمَانِ ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيُّ صَاحِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقِيَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ لَيْلَةً فَتَأَخَّرَ بِهَا حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّى أَوْ لَيْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ".
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 5/237»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُسْتَحَبُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ وَيَقْرَأُ {وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] ".
حضرت عبید اللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ عشاء کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھتے تھے: ﴿وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] (اور رات کی گھڑیوں میں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تفسير طبري 7/ 124»
الحكم على الحديث: صحيح
429. -- باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير
-- باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنا سُفْيَانُ عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا" يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عشا سے پہلے سونے کو اور عشا کے بعد گپ شپ کو ناپسند سمجھتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 516»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الطَّائِفِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" مَا نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَهَا وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا" يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے کبھی نہیں سوئے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد باتیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن ماجه 702»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ثنا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاعِبًا بَعْدَهَا إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء سے پہلے کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی عشاء کے بعد کبھی کھیلتے دیکھا، یا تو آپ ذکر کرتے رہتے اور ثواب پاتے یا پھر آرام فرماتے اور سکون کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابو يعلي 4878»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" حَدَّثَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز کے بعد دنیاوی باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6678»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا سُفْيَانُ ⦗٦٦٤⦘ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ".
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کے بعد دنیاوی گفتگو جائز نہیں ہے، البتہ نماز پڑھنے والا اور مسافر ضرورت کی باتیں کر سکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 379»
الحكم على الحديث: حسن لغيره