السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
464. -- باب: متى يقوم المأموم
-- باب: مقتدی کب کھڑا ہو، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2286
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 611»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2287
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا: ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ" ⦗٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْهُ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ شَيْبَانَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَجَّاجِ دُونَ قَوْلِهِ (قَدْ خَرَجْتُ) وَأَمَّا الَّذِي يَرْوِيهِ بَعْضُ الْمُتَفَقِّهَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَتَّى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا، وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِذَا قِيلَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَثَبَ فَقَامَ وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ وَالْحَسَنِ.
عبداللہ بن ابو قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کہ میں نماز کے لیے نکل آیا ہوں۔“
(ب) اسی طرح اس حدیث کو ولید بن مسلم نے شیبان سے، انہوں نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ”جب تک تم دیکھو کہ میں نماز کے لیے نکل پڑا ہوں۔“
حجاج سے منقول روایت میں «قَدْ خَرَجْتُ» ”میں یقیناً نکل آیا ہوں“ کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت میں، جسے بعض متفقہین نے نقل کیا ہے، «حَتّٰى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ» ”یہاں تک کہ تم مجھے صف میں کھڑا ہوا دیکھ لو“ یہ الفاظ ہیں۔
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ سنتے تو نماز کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے۔
(د) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ عطاء اور حسن کا قول ہے۔
یہ الفاظ «حَتّٰى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ» ہم تک نہیں پہنچے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2287]
(ب) اسی طرح اس حدیث کو ولید بن مسلم نے شیبان سے، انہوں نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ”جب تک تم دیکھو کہ میں نماز کے لیے نکل پڑا ہوں۔“
حجاج سے منقول روایت میں «قَدْ خَرَجْتُ» ”میں یقیناً نکل آیا ہوں“ کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت میں، جسے بعض متفقہین نے نقل کیا ہے، «حَتّٰى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ» ”یہاں تک کہ تم مجھے صف میں کھڑا ہوا دیکھ لو“ یہ الفاظ ہیں۔
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ سنتے تو نماز کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے۔
(د) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ عطاء اور حسن کا قول ہے۔
یہ الفاظ «حَتّٰى تَرَوْنِي قَائِمًا فِي الصَّفِّ» ہم تک نہیں پہنچے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
465. -- باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه
-- باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، وَأَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي" فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ أَخِيهِ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے بعد اور تکبیر کہنے سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: ”اپنی صفوں کو سیدھا (برابر) رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہوجاؤ، میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ہر شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا تو اپنا کندھا اپنے بھائی کے کندھے کے ساتھ ملا لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 687»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2289
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مَطْوِيَّةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا حُمَيْدٌ، ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ مَطْوِيَّةَ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اقامت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کرلو اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوجاؤ۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2290
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرٍ ثنا ⦗٣٤⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ، حَتَّى يَرَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا، فَقَامَ حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ:" عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو درست فرمایا کرتے تھے، گویا کہ آپ اس کے ذریعے تیر سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ یقین کرلیتے کہ ہم نے آپ سے سیکھ لیا ہے۔ پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ تکبیر کہنے ہی لگے تھے کہ اچانک ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی، اس کا سینہ صف سے آگے نکلا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو ضرور سیدھا رکھو وگرنہ پروردگار تمہارے منہ ٹیڑھے کر دے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2290]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 436»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2291
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ".
حضرت سماک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو برابر فرمایا کرتے، جب ہم سیدھے ہو جاتے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2291]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 660»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2292
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَإِذَا جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ كَبَّرَ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صفوں کو برابر کرنے کا حکم دیتے تھے (یعنی کچھ آدمیوں کی ذمہ داری لگا دیتے جو صفیں سیدھی کریں)، جب وہ لوگ آ کر خبر دیتے کہ صفیں سیدھی ہو گئی ہیں تب آپ تکبیر کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2292]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 373»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2293
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنَا أُكَلِّمُهُ فِي أَنْ يَفْرِضَ لِي فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ، وَهُوَ يُسَوِّي الْحَصْبَاءَ بِنَعْلَيْهِ، حَتَّى جَاءَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ، فَقَالَ لِي:" اسْتَوِ فِي الصَّفِّ" ثُمَّ كَبَّرَ".
ابوسہیل بن مالک اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اقامت کہہ دی گئی جب کہ میں ان سے اپنے حصے کے بارے میں باتیں کر رہا تھا، میں ان سے مسلسل باتیں کرتا رہا اور وہ اپنے جوتوں سے کنکریوں کو برابر کر رہے تھے، حتیٰ کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے جنہیں آپ نے صفوں کی درستگی پر مامور کر رکھا تھا۔ پھر انہوں نے آکر خبر دی کہ صفیں درست ہو چکی ہیں تو آپ نے مجھے فرمایا: صف میں برابر ہو جاؤ، پھر آپ نے تکبیر کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 374»
الحكم على الحديث: صحيح
466. -- باب: ما يقول في الأمر بتسوية الصفوف
-- باب: صفیں سیدھی کرنے کا حکم دیتے وقت کیا کہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ؟ قُلْتُ: لَا وَاللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَدَهُ فَيَقُولُ:" اسْتَوُوا اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ".
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی تو انہوں نے مجھے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہاتھ رکھتے تھے اور کہتے تھے: «اسْتَوُوا، اعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ» ”برابر ہو جاؤ (سیدھے ہو جاؤ)، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 669»
الحكم على الحديث: ضعيف
467. -- باب: الإمام تعرض له الحاجة بعد الإقامة
-- باب: اقامت کے بعد امام کو کوئی ضرورت پیش آ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٥⦘ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ:" اعْدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ" ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ، فَقَالَ:" اعْدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهِ تَعَالَى: وَسَائِرُ السُّنَنِ فِي تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَكَيْفِيَّتِهَا مُخَرَّجَةٌ فِي أَبْوَابِ الْإِمَامَةِ بِمَشِيئَةِ اللهِ.
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے، اس میں بھی محمد بن مسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث نقل کی کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اس (لکڑی) کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے، پھر (دائیں بائیں) جھانکتے، نظر دوڑاتے اور فرماتے: ”برابر ہو جاؤ، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو“، پھر اس (لکڑی) کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑتے اور پھر یہ الفاظ دہراتے: ”برابر ہو جاؤ، صفوں کو سیدھا کر لو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف