السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
473. -- باب: الابتداء بالتكبير قبل الابتداء بالرفع
-- باب: ہاتھ اٹھانے سے پہلے تکبیر کی ابتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،" أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَذَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَقَالَ: إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَرِوَايَةُ مَنْ دَلَّتْ رِوَايَتُهُ عَلَى الرَّفْعِ مَعَ التَّكْبِيرِ أَثْبَتُ وَأَكْثَرُ، فَهِيَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا، پہلے انہوں نے تکبیر کہی پھر رفع یدین کیا اور جب رکوع کرنے لگے تو رفع یدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا اور انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔“
(ب) ایک دوسری حدیث میں اسحاق بن شاہین واسطی، خالد بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے۔“
(ج) وہ روایات جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رفع یدین تکبیر کے ساتھ ہے، وہ زیادہ ثابت اور تعداد میں زیادہ ہیں۔ اسی بنا پر وہ اتباع کے زیادہ لائق ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2315]
(ب) ایک دوسری حدیث میں اسحاق بن شاہین واسطی، خالد بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے۔“
(ج) وہ روایات جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رفع یدین تکبیر کے ساتھ ہے، وہ زیادہ ثابت اور تعداد میں زیادہ ہیں۔ اسی بنا پر وہ اتباع کے زیادہ لائق ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2315]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 737»
الحكم على الحديث: صحيح
474. -- باب: كيفية رفع اليدين في افتتاح الصلاة
-- باب: نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھانے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2316
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَسْجِدَ الزُّرَقِيِّينَ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا، ثُمَّ سَكَتَ هُنَيْئَةً يَسْأَلُ اللهَ مِنْ فَضْلِهِ، وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَكَعَ".
سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجدِ زرقیین میں ہمارے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو کھول کر اٹھاتے اور لمحہ بھر خاموش رہتے، اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے اور رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2316]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطياالسي 2495»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2317
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، بِمِصْرَ ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ:" ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ" كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: هَكَذَا وَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ بِيَدِهِ، وَلَمْ يُفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَلَمْ يَضُمَّهَا".
حضرت سعید بن سمعان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تین عمل ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، لیکن لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس طرح کرتے، راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو نہ بہت ملایا اور نہ ہی ان میں زیادہ فاصلہ رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2317]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2318
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ نَشَرَ أَصَابِعَهُ نَشْرًا".
سعید بن سمعان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جب نماز شروع فرماتے تو اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2318]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ و تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2319
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ" وَقَدْ قِيلَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ التَّكْبِيرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ اس روایت کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عمل (رفع یدین) تکبیر سے پہلے کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 2/ 375/ 8862»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2320
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَرِيضَةً وَلَا تَطَوُّعًا إِلَّا شَهَرَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَدْعُو، ثُمَّ يُكَبِّرُ بَعْدُ" تَابَعَهُ جَرِيرٌ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا اسْتَفْتَحَ أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ وَلْيَسْتَقْبِلْ بِبَاطِنِهِمَا الْقِبْلَةَ" إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ، فَضَرَبْتُ عَلَيْهِ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی فرض یا نفل نماز میں نہیں دیکھا مگر آپ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے، پھر اس کے بعد تکبیر کہتے۔
(ب) ایک حدیث میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اور ہتھیلیوں کو قبلہ رخ رکھے۔“
لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2320]
(ب) ایک حدیث میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اور ہتھیلیوں کو قبلہ رخ رکھے۔“
لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابو نعيم في الحلية 9/238»
الحكم على الحديث: منكر
475. -- باب: رفع اليدين في الثوب
-- باب: کپڑے کے اندر ہاتھ اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2321
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ" قَامَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِزَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ".
عاصم بن کلیب فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے (دل میں) سوچا کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر رکھوں گا کہ آپ نماز کس طرح ادا فرماتے ہیں، میں نے آپ کی طرف دیکھا، آپ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔۔۔ مکمل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں فرمایا: پھر اس کے بعد میں سردیوں کے موسم میں آیا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے بڑی بڑی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، لیکن ان چادروں کے نیچے ان کے ہاتھ (رفع یدین کے وقت) حرکت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 4/318»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2322
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
سفیان بن عیینہ، عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں ان لوگوں کے پاس موسم سرما میں آیا، میں نے دیکھا کہ وہ (رفع یدین کرتے وقت) اپنے ہاتھ چادروں میں اٹھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2322]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي سنده 852»
الحكم على الحديث: صحيح
476. -- باب: وضع اليد اليمنى على اليسرى في الصلاة
-- باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2323
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ" قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: وَصَفَ هَمَّامٌ" حِيَالَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، وَرَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَفَّانَ.
حضرت عبدالجبار کے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے۔
ابو عثمان کہتے ہیں: ہمام نے اس کی حالت یہ بیان کی کہ کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر اپنے کپڑے میں چھپا لیتے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالتے اور ان کو بلند کرتے پھر تکبیر کہتے۔ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، تب بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے اور جب سجدہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2323]
ابو عثمان کہتے ہیں: ہمام نے اس کی حالت یہ بیان کی کہ کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر اپنے کپڑے میں چھپا لیتے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالتے اور ان کو بلند کرتے پھر تکبیر کہتے۔ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، تب بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے اور جب سجدہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2323]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 401»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2324
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ عَلَى شِمَالِهِ بِيَمِينِهِ" وَرَأَيْتُ عَلْقَمَةَ يَفْعَلُهُ قَالَ يَعْقُوبُ وَمُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور میں نے علقمہ کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2324]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 723»
الحكم على الحديث: صحيح