🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
498. -- باب: إعادة سورة في كل ركعة
-- باب: ہر رکعت میں ایک ہی سورت کو دہرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2465
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَؤُهَا لَهُمْ فِي الصَّلَاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ، افْتَتَحَ بِـ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ، ثُمَّ لَا تَرَى أَنَّهَا تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُمْ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ، وَكَانُوا يَرَوْنَهُ أَفْضَلَهُمْ، وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا ⦗٨٩⦘ أَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ:" يَا فُلَانُ، مَا يَمْنَعُكَ مِمَّا يَأْمُرُكَ أَصْحَابُكَ، وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حُبَّهَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص مسجدِ قبا میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا۔ جب وہ کوئی سورت شروع کرتا تو پہلے سورہ اخلاص پڑھتا۔ جب اس سے فارغ ہوتا تو اس کے بعد دوسری سورت ملا کر پڑھتا۔ وہ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتا تھا۔ اس کے مقتدیوں نے اس پر اعتراض کیا کہ سورہ اخلاص کو شروع فرما دیتے ہیں، پھر خیال کرتے کہ یہ سورت کافی نہیں اور دوسری سورت اس کے ساتھ ملاتے ہیں، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یا صرف اسی کو پڑھا کریں یا پھر کوئی دوسری پڑھ لیا کریں۔ اس نے انھیں کہا: میں تو یہ سورت چھوڑنے والا نہیں، اگر تم راضی ہو تو میں تمہاری امامت کروں گا اور اگر تم ناپسند سمجھو تو میں امامت چھوڑنے پر تیار ہوں۔ لوگ اس کو اپنے میں سے سب سے افضل اور بہتر جانتے تھے، اس کے علاوہ کسی اور کی امامت کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے یہ مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اے بندہ خدا! تو ایسا کیوں نہیں کرتا جیسے تیرے ساتھی کہتے ہیں؟ اور کس نے تجھے ہر رکعت میں اس سورت کو لازم کرنے پر ابھارا ہے؟“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سورت سے محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رواه البخاري تعليق، كتاب الاذان باب الجمع من السورتين في الركعة…»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2466
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2466]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
499. -- باب: الاقتصار على فاتحة الكتاب
-- باب: صرف سورۃ الفاتحہ پر اکتفا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2363»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ عَلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ.
عطا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر نماز میں قراءت کی جائے گی۔“ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا وہ ہم نے تمہیں سنا دیا اور جو کچھ ہم سے پوشیدہ رکھا گیا ہم نے اس کو آپ سے بھی پوشیدہ رکھا۔ ایک شخص نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں سورہ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس سے زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے اور اگر اسی پر اکتفا کرلو تو بھی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 772»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2469
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، أنبأ حَنْظَلَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہیں پڑھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 1/282»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ، فَذَكَرَهُ.
اسی طرح عبدالملک بن خطاب نے حنظلہ سدوسی سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
وَرَوَاهُ غَيْرُهُمَا، عَنْ حَنْظَلَةَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَزِدْ فِيهِمَا عَلَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ فَذَكَرَهُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِهِ فِي جَوَازِ الِاقْتِصَارِ عَلَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی اور سورہ فاتحہ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے صرف سورہ فاتحہ پر اکتفا کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
500. -- باب: وجوب القراءة في الركعتين الأخريين
-- باب: آخری دو رکعتوں میں قراءت واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا، فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس نے ایسا تین بار کیا، بالآخر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز سکھلا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے آسانی سے یاد ہو وہ پڑھ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کر، پھر سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا، اسی طرح ساری نماز مکمل کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 757»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2473
وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ كَذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ" ⦗٩١⦘ أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فَذَكَرَهُ.
یہی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک سند سے بھی منقول ہے، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسی طرح ہر رکعت اور سجدہ میں کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2473]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام 74»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" إِذَا كُنْتَ إِمَامًا فَخَفِّفْ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّيْتَ وَحْدَكَ فَطَوِّلْ مَا بَدَا لَكَ، وَفِي كُلِّ صَلَاةٍ اقْرَأْ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَ عَنْكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ دُونَ مَا فِي أَوَّلِهِ مِنَ الْأَمْرِ بِالتَّخْفِيفِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا مَضَى.
سیدنا عطا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تو امام ہو تو ہلکی نماز پڑھ، کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب تو اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی لمبی کر سکتا ہے کر لیا کر۔ ہر نماز میں قرأت کر۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمیں سنایا وہ ہم نے تمہیں سنا دیا اور جو ہم سے پوشیدہ رکھا وہ ہم نے بھی تم سے پوشیدہ رکھا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اگر میں سورہ فاتحہ سے زیادہ کچھ نہ پڑھوں تو کیا درست ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اگر تو اس سے زیادہ پڑھ لے تو بہتر ہے اور اگر اسی پر اکتفا کرے تو بھی تیری نماز ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 772»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں