🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
517. -- باب: من ركع دون الصف وفي ذلك دليل على إدراك الركعة ولولا ذلك لما تكلفوه
-- باب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" دَخَلَا الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَا، ثُمَّ دَبَّا وَهُمَا رَاكِعَانِ حَتَّى لَحِقَا بِالصَّفِّ".
ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما دونوں مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، ان دونوں نے فوراً رکوع کیا، پھر رکوع کی حالت میں ہی چلتے ہوئے صف کے ساتھ جا کر مل گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2585]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ رَأَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" دَخَلَ الْمَسْجِدَ ⦗١٣٠⦘ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَمَشَى حَتَّى أَمْكَنَهُ أَنْ يَصِلَ الصَّفَّ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَ فَرَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ".
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، وہ چلتے رہے یہاں تک کہ ان کے لیے رکوع کی حالت میں صف تک پہنچنا ممکن ہو گیا تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے، پھر رکوع کی حالت میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا393»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ فَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعَ وَرَكَعَتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ حِينَ رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ وَأَنَا أَرَى أَنِّي لَمْ أُدْرِكْ فَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بِيَدِي وَأَجْلَسَنِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ" وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
زید بن وہب سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے مسجد کی طرف آیا۔ جب ہم مسجد کے درمیان پہنچے تو امام نے رکوع کیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر ہم حالتِ رکوع میں ہی چلے حتیٰ کہ جس وقت لوگوں نے اپنے سر اٹھائے ہم صف تک جا پہنچے۔ جب امام نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا؛ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے رکعت نہیں پائی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بٹھا دیا۔ پھر فرمایا: تم نے رکعت پا لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2622»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
518. -- باب: من كبر تكبيرة واحدة للافتتاح وركع ومن استحب أن يكبر أخرى للركوع
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز شروع کرنے کے لیے ایک ہی تکبیر کہی اور رکوع کر لیا، اور اس شخص کا بیان جس نے رکوع کے لیے دوسری تکبیر کہنے کو مستحب سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِذَا أَتَيَا الْإِمَامَ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَا تَكْبِيرَةً وَيَرْكَعَانِ بِهَا".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تشریف لائے تو امام رکوع میں تھا، انہوں نے ایک ہی تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنُ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ" إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُكُوعٌ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ" قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي ذَاكَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ شُعَيْبٌ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَانَ عُرْوَةُ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَاه فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگ رکوع میں تھے، وہ قبلہ رُخ ہوئے، تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے، پھر رکوع کی حالت میں ہی دبے پاؤں چل کر صف سے جا ملے۔
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بھی اس طرح کرتے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2586»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: إِنَّ بَعْضَهُمْ أَخْبَرَنِي عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" إِنْ أَدْرَكَهُمْ رُكُوعًا أَوْ سُجُودًا أَوْ جُلُوسًا يُكَبِّرُ تَكْبِيرَتَيْنِ" فَقَالَ مَالِكٌ: أَمَّا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَذَلِكَ الْأَمْرُ ⦗١٣١⦘ الَّذِي نَعْرِفُهُ، وَأَمَّا تَكْبِيرَتَيْنِ لِلْجُلُوسِ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ هَذَا، قُلْتُ: يُكَبِّرُ وَاحِدَةً يَسْتَفْتِحُ بِهَا وَيَجْلِسُ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ" قَالَ الشَّيْخُ: إِنْ صَحَّ هَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ فِي السُّجُودِ فَكَبَّرَ لِلِافِتِتَاحِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الِافْتِتَاحِ رَفَعَ الْإِمَامُ بِتَكْبِيرَةٍ وَقَعَدَ فَيُوَافِقُهُ فِي أَذْكَارِهِ وَأَفْعَالِهِ، وَكَذَلِكَ فِي السُّجُودِ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ تَكْبِيرُ الْإِمَامِ لِلسُّجُودِ بَعْدَ افْتِتَاحِهِ لِلصَّلَاةِ وَاقْتِدَائِهِ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آدمی اگر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگوں کو رکوع، سجدے یا قعدے وغیرہ میں پائے تو دو تکبیریں کہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجدوں کے بارے میں تو ہم یہ حکم جانتے ہیں، لیکن جلسے وغیرہ کی حالت میں دو تکبیریں میرے علم میں نہیں۔ راوی نے پوچھا: کیا ایک ہی تکبیر سے نماز شروع کرے اور بیٹھ جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح ہو تو بھی یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایسا سجدوں میں مراد لیا ہو، یعنی انہوں نے نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر کہی ہو اور امام ایک تکبیر کہہ کر سجدے سے اٹھ کر بیٹھ گیا ہو تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اپنے اذکار و افعال میں اس کی موافقت کرے۔
اور اسی طرح سجدے میں ہوا ہو گا، یعنی امام نے سجدے کے لیے تکبیر کہی ہو اور انہوں نے ایک تکبیر سے نماز شروع کر کے امام کی اقتدا کر لی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَهُمْ رُكُوعًا كَبَّرَ تَكْبِيرَتَيْنِ تَكْبِيرَةً لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَتَكْبِيرَةً لِلرُّكُوعِ وَقَدْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ".
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کو رکوع میں پائے تو وہ دو تکبیریں کہے، ایک نماز شروع کرنے کی اور دوسری رکوع کی، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس نے رکعت کو پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
519. -- باب: يركع بركوع الإمام ويرفع برفعه ولا يسبقه وكذلك في السجود وغيره
-- باب: مقتدی امام کے رکوع کرنے پر رکوع کرے اور اس کے سر اٹھانے پر سر اٹھائے اور اس سے پہل نہ کرے، اور اسی طرح سجدے وغیرہ میں بھی کرے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي" ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، رکوع و سجود، قیام و سلام میں مجھ سے پہل نہ کیا کرو؛ کیونکہ میں تمہیں اپنے سامنے اور پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہو جائے“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 426»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ" لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لِمَنْ فِي الْمَسْجِدِ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ أَتَمُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھایا کرتے تھے کہ ”رکوع میں امام سے جلدی نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہا کرو اور جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہا کرو اور جب تمہاری آواز فرشتوں کے کلام کے برابر ہوجائے گی تو مسجد میں موجود تمام لوگوں کی مغفرت ہوجائے گی۔ جب امام رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2596»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ عَطَاءُ بْنُ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأنا أَسْمَعُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي سَنَةِ مِائَتَيْنِ أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا جَمِيعًا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، وَلَا تَرْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ أَتَمُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ (رکوع سے) سر اٹھائے تو تم اپنے سر اٹھاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم سب اکٹھے کہو «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور جب وہ (سجدے سے) سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور اس کے سر اٹھانے سے پہلے اپنے سر مت اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں