السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
519. -- باب: يركع بركوع الإمام ويرفع برفعه ولا يسبقه وكذلك في السجود وغيره
-- باب: مقتدی امام کے رکوع کرنے پر رکوع کرے اور اس کے سر اٹھانے پر سر اٹھائے اور اس سے پہل نہ کرے، اور اسی طرح سجدے وغیرہ میں بھی کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2595
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْطَاكِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: ثنا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا" يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَتَّبِعُهُ" وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ نَسْجُدُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ.
محارب بن دثار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو ہم رکوع کرتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور ہم اس وقت تک کھڑے ہی رہتے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے، پھر ہم سجدے کے لیے جھکتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 690»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2596
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَخِرَّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ.
ابواسحاق سے روایت ہے کہ مجھے عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے براء رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور وہ سچے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو کوئی بھی اپنی کمر نہ جھکاتا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر رکھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدی سجدے میں جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2597
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ فَإِنِّي قَدْ بَدُنْتُ فَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَرْكَعُ تُدْرِكُونِي حِينَ أَرْفَعُ وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ حِينَ أَسْجُدُ تُدْرِكُونِي حِينَ أَرْفَعُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ.
ابن محیریز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکوع اور سجدوں میں مجھ پر سبقت نہ لے جاؤ، کیونکہ میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں (کمزور ہو چکا ہوں)۔ بعض اوقات میں رکوع کے وقت تم پر سبقت لے جاتا ہوں تو تم مجھے اٹھتے وقت پا لیتے ہو اور بعض اوقات میں سجدہ کرتے وقت تم پر سبقت لے جاتا ہوں تو تم مجھے اٹھتے وقت پا لیتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة 1549»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2598
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَدُنْتُ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَكِنْ أَسْبِقُكُمْ، إِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ مَا فَاتَكُمْ" لَمْ يُضْبَطْ عَنْ شُيُوخِنَا بَدُنْتُ أَوْ بَدَّنْتُ وَاخْتَارَ أَبُو عُبَيْدٍ بَدَّنْتُ بِالتَّشْدِيدِ وَنَصْبِ الدَّالِ، يَعْنِي كَبِرْتُ، مَنْ قَالَ: بَدُنْتُ بِرَفْعِ الدَّالِ فَإِنَّهُ أَرَادَ كَثْرَةَ اللَّحْمِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، لہٰذا تم رکوع اور سجدوں میں (جاتے وقت) مجھ سے پہل نہ کیا کرو، مجھے تم سے آگے ہی رہنا چاہیے تاکہ تم اسے ادا کر لو جو تم سے رہ گیا ہے۔“
(ب) ہم نے اپنے شیوخ سے اس کا صحیح اعراب یاد نہیں کیا کہ «بَدَنْتُ» ہے یا «بَدَّنْتُ»، مگر ابوعبید نے «بَدَّنْتُ» کو پسندیدہ قرار دیا ہے یعنی دال منصوب مشدد کے ساتھ، مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں «بَدَنْتُ»، اور جو «بَدُنْتُ» پڑھتے ہیں تو اس کا معنیٰ ہے: ”میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2598]
(ب) ہم نے اپنے شیوخ سے اس کا صحیح اعراب یاد نہیں کیا کہ «بَدَنْتُ» ہے یا «بَدَّنْتُ»، مگر ابوعبید نے «بَدَّنْتُ» کو پسندیدہ قرار دیا ہے یعنی دال منصوب مشدد کے ساتھ، مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں «بَدَنْتُ»، اور جو «بَدُنْتُ» پڑھتے ہیں تو اس کا معنیٰ ہے: ”میرا جسم بوجھل ہو گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن حبان 2231»
الحكم على الحديث: حسن
520. -- باب: إثم من رفع رأسه قبل الإمام
-- باب: امام سے پہلے سر اٹھانے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 2599
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَحُوِّلَ اللهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام سے پہلے سر اٹھانے والا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کی طرح بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 691»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2600
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَشُعْبَةُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَمَا يَخْشَى اللهَ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يَجْعَلَ اللهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ" قَالَ: شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ" أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ" ⦗١٣٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْحَمَّادَيْنِ.
محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کیا اس شخص کو خوف نہیں آتا جو امام سے پہلے سر اٹھا لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کی طرح بنا دے۔“
شعبہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: «أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ» ”یا اس کی شکل گدھے کی شکل جیسی بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2600]
شعبہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: «أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ» ”یا اس کی شکل گدھے کی شکل جیسی بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2601
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو حَمَّادِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ مِنْ كِتَابِهِ وَمِنْ حِفْظِهِ أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخَافُ أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کو اس بات سے خوف محسوس نہیں ہوتا کہ امام سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ:" إِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ فَظَنَّ أَنَّ الْإِمَامَ قَدْ رَفَعَ فَلْيُعِدْ رَأْسَهُ فَإِذَا رَفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ فَلْيَمْكُثْ قَدْرَ مَا تَرَكَ" وَرُوِّينَا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ يَعُودُ فَيَسْجُدُ.
(ا) حارث بن مخلد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھا لے یہ سمجھتے ہوئے کہ امام اٹھ گیا ہے تو وہ دوبارہ سجدے میں چلا جائے۔ پھر جب امام سجدے سے سر اٹھائے تو وہ اتنی دیر مزید ٹھہرا رہے جتنی دیر پہلے اس نے چھوڑا تھا۔
(ب) ابراہیم نخعی اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ دوبارہ لوٹے اور سجدہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2602]
(ب) ابراہیم نخعی اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ دوبارہ لوٹے اور سجدہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
521. -- باب: القول عند رفع الرأس من الركوع وإذا استوى قائما
-- باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور جب سیدھا کھڑا ہو جائے تو کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2603
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کر لیتے تو کہتے: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 789»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ، وَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تب بھی اسی طرح رفع یدین کرتے اور کہتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی دعا سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی واسطے ہیں“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں اس طرح (رفع یدین) نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 735»
الحكم على الحديث: صحيح