السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1164. -- باب: من لم ير الجمعة تجزئ خلف الغلام لم يحتلم
-- باب: جس کا نظریہ ہے کہ بالغ نہ ہونے والے لڑکے کے پیچھے نمازِ جمعہ ادا نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 5858
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَا يَؤُمُّ الْغُلَامُ حَتَّى يَحْتَلِمَ". مَوْقُوفٌ مُطْلَقٌ.
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بچہ امامت نہ کروائے جب تک بالغ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5858]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا۔ عبد الرزاق 1872»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
1165. -- باب: ما دل على جواز إمامته في الصلاة
-- باب: اس دلیل کا بیان جو نماز میں اس (نابالغ) کی امامت کے جواز پر دلالت کرتی ہے
حدیث نمبر: 5859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرٌ يَعَنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْجَرْمِيَّ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ النَّاسُ لِيَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَلَمَّا قَضَوْا حَاجَتَهُمْ قَالُوا: مَنْ يُصَلِّي بِنَا أَوْ لَنَا، فَقَالَ:" يُصَلِّي بِكُمْ أَكْثَرُكُمْ أَخْذًا أَوْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ" قَالَ: فَجَاؤُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوا، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَوْ أَخَذَ مِنَ الْقُرْآنِ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ أَوْ أَخَذْتُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، فَقَدَّمُونِي، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا وَأَنَا إِمَامُهُمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا". قَالَ مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ: وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عَلَى جَنَائِزِهِمْ وَفِي مَسَاجِدِهِمْ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. وَرُوِّينَاهُ فِي بَابِ الْإِمَامَةِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ سِتِّ سِنِينَ، وَفِي رِوَايَةٍ: سَبْعٍ أَوْ ثَمَانٍ".
(الف) عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور ان کی قوم کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تاکہ وہ قرآن سیکھیں۔ جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمیں نماز کون پڑھائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو قرآن زیادہ یاد ہو۔“ وہ اپنی قوم کے پاس آ گئے تو انہوں نے سوال کیا، لیکن کوئی بھی مجھ سے زیادہ قرآن کو جمع کرنے والا اور یاد رکھنے والا نہ تھا۔ میں اس وقت بچہ تھا اور میرے اوپر ایک چادر تھی۔ انہوں نے مجھے آگے کر دیا، میں نے ان کو نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں: جب بھی یہ لوگ اکٹھے ہوتے تو میں ان کی امامت کرواتا تھا۔ مسعر بن حبیب فرماتے ہیں کہ وہ ان کے جنازے بھی پڑھاتے اور وہ اپنی مساجد میں ہوتے۔
(ب) ایوب سختیانی، عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سات یا چھ سال کے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5859]
(ب) ایوب سختیانی، عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سات یا چھ سال کے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5137»
الحكم على الحديث: صحيح
1166. جماع أبواب التبكير إلى الجمعة وغير ذلك -- باب: فضل التبكير إلى الجمعة
جمعہ کے لیے جلدی جانے اور دیگر متعلقہ امور کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5860
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَبُو مُحَمَّدٍ الْهِلَالِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ⦗٣٢٠⦘ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ وَاجْتَمَعُوا لِلْخُطْبَةِ"..
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لکھتے رہتے ہیں کہ پہلے کون آیا۔ جو جمعہ کے لیے پہلے آتا ہے اس کو اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور جو اس کے بعد آیا اسے گائے کی قربانی کا۔ پھر جو اس کے بعد آئے تو مینڈھے کی قربانی کا یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا اور جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ جمعہ کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5860]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 887»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5861
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنِ حَجَّاجٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَه بِنَحْوِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَالَ:" يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ، وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْمُهَجِّرَ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے لوگوں کے آنے کو ترتیب وار درج کرتے ہیں اور جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور غور سے خطبہ جمعہ سنتے ہیں۔“ پھر انہوں نے نماز کے لیے جلدی آنے والے کے لیے بھی بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5861]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَيَكْتِبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يَهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي كَبْشًا ثُمَّ، كَالَّذِي يَهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يَهْدِي بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پہلے آنے والوں کا ثواب لکھتے ہیں۔ جلدی آنے والے کے لیے جیسے اونٹ کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے گائے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے مینڈھے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے جیسے مرغی کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کے لیے انڈے کا ثواب ہے۔ جب امام خطبہ کے لیے آتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5862]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5863
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ، يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کیا، پھر وہ جمعہ کے لیے چلا تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، اور جو دوسری گھڑی چلا تو گویا اس نے گائے قربان کی، اور جو تیسری گھڑی چلا تو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا قربان کیا، اور جو چوتھی گھڑی مسجد میں گیا تو گویا اس نے مرغی قربان کی، اور جو پانچویں گھڑی چلا تو گویا اس نے انڈے کی قربانی دی؛ جب امام آجاتا ہے تو فرشتے آجاتے ہیں اور غور سے خطبہ سننے لگتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 841»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٣٢١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامٌ، أنبأ مَطَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَقْعُدُ مَلَائِكَةٌ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ النَّاسِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَرُفِعَتِ الْأَقْلَامُ، قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا حَبَسَ فُلَانًا وَمَا حَبَسَ فُلَانًا، قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ مَرِيضًا فَاشْفِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ عَائِلًا فَاغْنِهِ".
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے آنے کے اوقات نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ امام آ جائے اور جب امام آ جاتا ہے تو رجسٹر لپیٹ لیے جاتے ہیں اور قلمیں اٹھا لی جاتی ہیں اور فرشتے آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ فلاں کو کس نے روک لیا، فلاں کو کس نے روک لیا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اگر وہ بیمار ہے تو اس کو شفا دے، اگر وہ گمراہ ہے تو اس کو ہدایت دے، اگر وہ فقیر ہے تو اس کو غنی کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5864]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن خزيمه 1771»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ وَحَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، وَذَكَرَ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ سَمَاعَ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جس نے اعضاء کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے چلا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموش رہا، غور سے سنتا رہا تو اس کے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے فضول کام کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 1767»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5866
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيَّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا وَاقْتَرَبَ، وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ قِيَامِ سَنَةٍ وَصِيَامِهَا". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعةٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْوَهْمُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ مِنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ هَذَا، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ" غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ" يَعْنِي غَسَّلَ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ فِي رُءُوسِهِمْ الْخِطْمِيَّ أَوْغَيْرِهِ، فَكَانُوا أَوَّلًا يَغْسِلُونَ رُءُوسَهَمْ ثُمَّ يَغْتَسِلُونَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اعضا کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے جمعہ کے لیے گیا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خطبہ بغور سنتا رہا اور خاموش رہا تو اس کے لیے ایک قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور روزوں کا اجر ہے۔“
اس کی سند اور متن میں وہم اسی عثمان شامی کی طرف سے ہے، اور صحیح وہ روایت ہے جو ایک جماعت نے ابو الاشعث سے، انہوں نے اوس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے «غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کے بارے میں فرمایا: یعنی اپنا سر اور جسم دھویا، اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ اور یہی صحیح ہے؛ کیونکہ وہ اپنے سروں میں خطمی بوٹی وغیرہ لگایا کرتے تھے، تو پہلے اپنے سروں کو دھوتے تھے، پھر غسل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5866]
اس کی سند اور متن میں وہم اسی عثمان شامی کی طرف سے ہے، اور صحیح وہ روایت ہے جو ایک جماعت نے ابو الاشعث سے، انہوں نے اوس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے «غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کے بارے میں فرمایا: یعنی اپنا سر اور جسم دھویا، اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ اور یہی صحیح ہے؛ کیونکہ وہ اپنے سروں میں خطمی بوٹی وغیرہ لگایا کرتے تھے، تو پہلے اپنے سروں کو دھوتے تھے، پھر غسل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5866]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 2/209»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1167. -- باب: صفة المشي إلى الجمعة
-- باب: جمعہ کی طرف چل کر جانے کے طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 5867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَؤُهَا إِلَّا" فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ"..
سالم اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ یہی پڑھتے تھے کہ ﴿تم اللہ کے ذکر کی طرف چلو﴾ [سورة الجمعة: 9] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5867]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 239»
الحكم على الحديث: صحيح