🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1160. -- باب: كراهية مس الحصى
-- باب: (دوران خطبہ) کنکریوں کو چھونے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5849
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ؛ فَدَنَا، وَأَنْصَتَ، وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام کے قریب خاموشی سے بیٹھا رہا، غور سے خطبہ سنا تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، بلکہ تین دن مزید بھی اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور کنکریوں کو چھونا لغو بات ہے۔“
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کے دن غسل کی جگہ وضو بھی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5849]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 857»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1161. -- باب: استيذان المحدث الإمام
-- باب: جس کا وضو ٹوٹ جائے اس کا امام سے اجازت مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5850
قَالَ اللهُ جَلَّ ثنَاؤُهُ: {وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ} [النور: 62] قَالَ مُجَاهِدٌ:" ذَاكَ فِي الْغَزْوِ وَالْجُمُعَةِ، وَإِذْنُ الْإِمَامِ أَنْ يُشِيرَ بِيَدِهِ". وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ:" فِي الْحَرْبِ وَنَحْوِهَا". وَعَنْ مَكْحُولٍ هِيَ، قَالَ:" فِي الْغَزْوِ وَالْجُمُعَةِ، وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ"، وَعَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" رَأَيْتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ الْإِمَامَ وَهُوَ يَخْطُبُ يُشِيرُ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، وَيُشِيرُ الْإِمَامُ وَلَا يَتَكَلَّمُ". وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يَقُولُ:" لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الْإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، وَدَلَّ عَلَى صِحَّةِ قَوْلِهِ مَا".
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ﴾ ”اور جب وہ (مومن) کسی اجتماعی کام پر آپ کے ساتھ ہوں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، واپس نہیں جاتے۔“ [سورة النور: 62]
امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد جہاد اور نمازِ جمعہ ہے، اور امام کی طرف سے اجازت یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے۔“
اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ جنگ اور اس جیسے دیگر مواقع کے بارے میں ہے۔“
اور امام مکحول رحمہ اللہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ جہاد اور نمازِ جمعہ کے متعلق ہے، اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔“
اور عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ امام سے اجازت طلب کرتے تھے جبکہ وہ خطبہ دے رہا ہوتا تھا، اجازت طلب کرنے والا شخص اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا تھا اور امام بھی جواب میں اشارہ کر دیتا تھا اور کوئی بات نہیں کرتا تھا۔“
اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”جب کوئی شخص جمعہ کے دن باہر جانا چاہے تو اس پر امام سے اجازت لینا لازم نہیں ہے، اور ان کے اس قول کی صحت پر وہ بات دلالت کرتی ہے جو (آگے بیان کی گئی ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: Q5850]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ⦗٣١٧⦘ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ عَائِشَةَ فِيهِ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامٍ مُرْسَلًا قَالَ:" إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ".
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز میں تم میں سے کوئی بے وضو ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر نکل جائے۔“
(ب) ہشام رحمہ اللہ مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن بے وضو ہو جائے تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اور نکل جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5850]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1162. -- باب: الإمام يتكلم بعدما ينزل من المنبر
-- باب: امام کے منبر سے اترنے کے بعد گفتگو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5851
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ذَكَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، وَبَعْدَمَا يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى الصَّلَاةِ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ ثَابِتٍ، وَهُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ ثَابِتٍ مَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی آدمی اپنی ضرورت پیش کرتا اور نماز کی اقامت ہو چکی ہوتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ضرورت کو پورا کر دیتے، پھر نماز پڑھاتے۔
امام ابوداود رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ ثابت سے معروف نہیں ہے، اور یہ ان روایات میں سے ہے جنہیں صرف جریر بن حازم نے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5851]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ ابو داؤد 1120»

الحكم على الحديث: شاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5852
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا حَيَّانُ، ثنا عُمَارَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ:" أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلُّوا". لَفْظُ حَدِيثِ حَيَّانَ وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَجَاءَ فَصَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عشا کی نماز کی اقامت ہو جانے کے بعد ایک آدمی نے کہا: ”مجھے کام ہے“ یا کہا: ”ضرورت ہے“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ قوم سو گئی یا بعض افراد سو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی۔
(ب) حجاج رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت ہو چکی تو ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی کام ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات چیت کرتے رہے اور بعض افراد سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور انہوں نے ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے وضو کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 617»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5853
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ" ⦗٣١٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَيَّاشٍ الرَّقَّامِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا بِمَعْنَى رِوَايَةِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ.
حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اقامت کے بعد باتیں کرتا ہے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ اقامت ہو چکی تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ کو اقامت کے بعد روک لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 201»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1163. -- باب: من تكون خلفه الجمعة من أمير ومأمور وغير أمير حرا كان أو عبدا
-- باب: امیر، مامور اور غیر امیر خواہ آزاد ہو یا غلام، کس کے پیچھے جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَي الرَّبَذَةِ، وَعَلَى الْمَاءِ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ،، فَقِيلَ أَبُو ذَرٍّ، فَنَكَصَ الْعَبْدُ فَقَالَ لَهُ أَبُو ذَرٍّ:" تَقَدَّمْ؛ إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ربذہ گئے اور چشمہ پر ایک حبشی غلام تھا، جب نماز کی اقامت کہہ دی گئی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نماز کے لیے کہا گیا تو غلام پیچھے ہٹا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس کو فرمایا: آگے بڑھو؛ کیونکہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ ”میں سنوں اور اطاعت کروں، اگرچہ کان کٹا حبشی غلام ہی امیر کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5854]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5119»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنِ الْحُبَابُ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ:" شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ".
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عید کی نماز میں سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے ساتھ حاضر ہوا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان دنوں محصور تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5855]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5310»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَتَحَرَّجُ فِي الصَّلَاةِ مَعَ هَؤُلَاءِ، وَأَنْتَ مَحْصُورٌ، وَأَنْتَ الْإِمَامُ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الصَّلَاةِ مَعَهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ الصَّلَاةَ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ فَإِذَا أَحْسَنُوا فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاؤُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ" وَسَائِرُ الْآثَارِ فِي هَذَا الْمَعْنَى قَدْ مَضَتْ فِي بَابِ الْإِمَامَةِ.
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جب وہ گھر میں بند تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں حرج محسوس کرتا ہوں اور آپ کا گھیرا کیا ہوا ہے، حالانکہ آپ امام ہیں، ان کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نماز اچھا کام ہے جب تک لوگ کریں، جب وہ اچھائی کریں تو آپ بھی ان کے ساتھ مل کر اچھائی کریں اور جب وہ برائی کریں تو آپ ان سے بچ جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5856]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5311»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5857
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ إِلَى قُضَاعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ، فَخَطَبَ ⦗٣١٩⦘ النَّاسَ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، وَكَانَ مِنْ أَقْرإِ النَّاسِ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ"، فَسَمِعَهَا ابْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا وَإِنَّكَ مَا عَلِمْتُ لَكَذُوبٌ إِنَّكَ مِنْهُمْ. قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: حَمَلَ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُمْ يَجْمَعُونَ مَعَهُمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ.
عبد العزیز بن عبد الملک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ محمد بن ابو حذیفہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور لوگوں پر قرآن کی سورت پڑھی؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن پڑھے ہوئے تھے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن یہ ان کے حلقوں سے نیچے نہ گزرے گا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“ ابن ابی حذیفہ نے یہ بات سنی تو کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ سچے ہیں، حالانکہ میرے علم کے مطابق آپ بہت جھوٹے ہیں، تو بیشک آپ انہی میں سے ہیں۔
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ سمجھا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے اور ان سے یہ بات کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5857]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 4/145»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں