السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1210. -- باب: من قال: تقوم الطائفة الثانية فيركعون لأنفسهم الركعة الباقية بعد سلام الإمام
-- باب: اس شخص کا قول کہ دوسرا گروہ کھڑا ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی باقی ماندہ رکعت خود پڑھے
حدیث نمبر: 6015
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَهُ:" أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَمَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ، فَيَرْكَعُ بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ وَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ". كَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں امام کے ساتھ اس کے ساتھیوں کا ایک گروہ کھڑا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے۔ امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور جو لوگ امام کے ساتھ ہیں سجدہ کریں، پھر امام کھڑا ہو جائے اور جب امام سیدھا کھڑا ہو جائے تو کھڑا ہی رہے۔ پھر وہ اپنی دوسری رکعت مکمل کریں اور سلام پھیر کر چلے جائیں۔ امام کھڑا رہے اور وہ دشمن کے سامنے ہو جائیں۔ پھر وہ آئیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ امام کے پیچھے تکبیر کہیں گے اور امام ان کو ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ سلام پھیر دے اور وہ کھڑے ہو کر دوسری رکعت مکمل کریں اور سلام پھیریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6009»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6016
وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ فَرَوَاهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ، وَجَاءُوا أُولَئِكَ وَقَامُوا وَرَاءَ الْإِمَامِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا فَقَضَوْا تِلْكَ الرَّكْعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ الْإِمَامُ". أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ وَمَالِكٍ قَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَهَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا لِمُوَافَقَتِهِ رِوَايَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، وَسَائِرُ مَا مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
یحییٰ بن سعید اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں، اس میں ہے کہ: ”پھر وہ اس صف میں چلے جائیں اور وہ ان کی جگہ آ جائیں اور امام کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ پھر امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ کھڑے ہو کر اس رکعت کو پورا کریں۔ پھر امام سلام پھیر دے۔“
روح بن عبادہ نے بھی شعبہ اور مالک سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا: ”پھر امام سلام پھیرے۔“ اور یہی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، کیونکہ یہ عبدالرحمن بن قاسم کی اپنے والد سے روایت اور اس سے پہلے والے باب میں گزری ہوئی باقی روایات کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6016]
روح بن عبادہ نے بھی شعبہ اور مالک سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا: ”پھر امام سلام پھیرے۔“ اور یہی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، کیونکہ یہ عبدالرحمن بن قاسم کی اپنے والد سے روایت اور اس سے پہلے والے باب میں گزری ہوئی باقی روایات کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1211. -- باب: أخذ السلاح في صلاة الخوف
-- باب: نمازِ خوف میں ہتھیار ساتھ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: Q6017
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ} [النساء: 102] .
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ﴾ ”اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں۔“ [سورة النساء: 102] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: Q6017]
حدیث نمبر: 6017
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ قَالَ::" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الظُّهْرِ، وَعَلَى خَيْلِ الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، يَعْنُونَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَنَزَلَ جَبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَخْبَرَهُ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ} [النساء: ١٠٢] الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَفَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَعَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَكَبَّرَ وَالْعَدُوُّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَسَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغُوا سَجَدَ هَؤُلَاءِ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَيَّاشٍ:" فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ".
سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے تو ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور خالد بن ولید مشرکین کے سالار تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ مشرکین کہنے لگے: ”اس کے بعد والی نماز انھیں اپنے بیٹوں، اموال اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔“ وہ عصر کی نماز مراد لے رہے تھے تو ظہر و عصر کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آ گئے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ﴾ [سورة النساء: 102] ”جب آپ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کریں اور ایک گروہ ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ اپنے اسلحہ کو پکڑے ہوئے ہو۔“
نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں بنائیں اور صحابہ کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور دشمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھا۔ ان سب نے اللہ اکبر کہا اور سب نے رکوع کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہوئی تھی سب نے سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ پہرہ دے رہے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پھر دوسروں نے سجدہ کیا۔ پھر یہ دوسری صف والے پہلی صف کی جگہ اور پہلی صف والے دوسری صف والوں کی جگہ چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی۔ ان سب نے رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ پھر جب وہ فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
سیدنا ابو عیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز دو مرتبہ پڑھائی۔ ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6017]
نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں بنائیں اور صحابہ کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور دشمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھا۔ ان سب نے اللہ اکبر کہا اور سب نے رکوع کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہوئی تھی سب نے سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ پہرہ دے رہے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پھر دوسروں نے سجدہ کیا۔ پھر یہ دوسری صف والے پہلی صف کی جگہ اور پہلی صف والے دوسری صف والوں کی جگہ چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی۔ ان سب نے رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ پھر جب وہ فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
سیدنا ابو عیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز دو مرتبہ پڑھائی۔ ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6017]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1236»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ:" كَانَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْبُطُونَ مَسَاوِيكَهُمْ بِذَوَائِبِ سُيُوفِهِمْ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ اسْتَاكُوا ثُمَّ صَلُّوا، وَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَأْخُذُ سَيْفَهُ أَوْ قَوْسَهُ فَيُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ غَيْرُ قَوِيٍّ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ تھے، جو اپنی مسواکیں اپنی تلوار کے میان کے ساتھ باندھ لیتے تھے، جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ مسواک کرتے، پھر نماز پڑھتے اور ان میں سے کوئی بھی جب نماز کا وقت ہو جاتا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تو وہ اپنی تلوار یا کمان پکڑ لیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا۔
ابو سعد بقال قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6018]
ابو سعد بقال قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6018]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1212. -- باب: المعذور يضع السلاح
-- باب: معذور شخص ہتھیار رکھ دے
حدیث نمبر: 6019
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ ⦗٣٦٣⦘ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ} [النساء: ١٠٢] قَالَ:" عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ جَرِيحًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ﴾ [سورة النساء: 102] ”اگر تمہیں بارش یا بیماری کی وجہ سے تکلیف ہو تو تم اپنا اسلحہ رکھ دو“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4323»
الحكم على الحديث: صحيح
1213. -- باب: ما لا يحمل من السلاح لنجاسته أو ثقله
-- باب: اس ہتھیار کا بیان جسے ناپاکی یا بھاری پن کی وجہ سے ساتھ نہ اٹھایا جائے
حدیث نمبر: 6020
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ، فَقَالَ:" صَلِّ فِي الْقَوْسِ، وَاطْرَحِ الْقَرْنَ". مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ غَيْرُ قَوِيٍّ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قوس کے ساتھ نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوس اٹھا کر نماز پڑھ لو اور سینگ پھینک دو۔“
موسیٰ بن محمد قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6020]
موسیٰ بن محمد قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6020]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الحاكم 486»
الحكم على الحديث: منكر
1214. -- باب: كيفية صلاة شدة الخوف
-- باب: شدید خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 6021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ وَالْإِشَارَةُ بِالرَّأْسِ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ خلط ملط ہو جائیں تو تکبیر کہیں اور سر سے اشارہ کرتے جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 901»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6022
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ:" إِذَا اخْتَلَطُوا فَإِنَّمَا هُوَ الذِّكْرُ وَإِشَارَةٌ بِالرَّأْسِ، وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مجاہد کے قول کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ گھل مل جائیں تو وہ ذکر کریں اور سر سے اشارہ کریں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زیادہ ہوں تو وہ کھڑے اور سوار نماز پڑھ لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6023
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٣٦٤⦘ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ:" يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ"، ثُمَّ قَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلُّوا رِجَالًا وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے: امام آگے بڑھے اور ایک گروہ... پھر انہوں نے حدیث بیان کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اگر خوف زیادہ ہو تو کھڑے اور سوار، قبلہ کی طرف منہ ہو یا نہ ہو، نماز پڑھ لو۔“ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح